خبر
7/7/2016
حضرت معصومہ(س)

 
حضرت معصومہ(س)

حضرت معصومہ قم کا یوم ولادت با سعادت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اس دختر نیک اختر کا اسم گرامیفاطمہ اور معروف لقب مبارک معصومہ سلام اللہ علیھا ہے .حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت با سعادت یکم ذیقعد ۃ الحرام 173 ہجری قمری ...
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اس دختر نیک اختر کا اسم گرامی"فاطمہ" اور معروف لقب مبارک 'معصومہ" سلام اللہ علیھا ہے .حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت با سعادت یکم ذیقعد ۃ الحرام 173 ہجری قمری کو ہوئی،(1)
اس مقدس بی بی کی با فضیلت اور خوش نصیب والدہ ماجدہ کا نام نامی "تکتم " ہے جو حضرت امام ھشتم علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی بھی والدہ بزرگوار ہیں۔خداوند متعال نے مذکورہ تاریخ میں اپنے عبد صالح ،بر حق حجت حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کو اپنی اس خاص نورانی عنایت سے نوازا۔ حضرت حق کی اس خصوصی عطا پر امام ھفتم علیہ السلام اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے بعد سب سے زیادہ خوشی حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کی والدہ ماجدہ کو تھی کیونکہ 25 برس گزرنے کے بعد اس گلشن میں یہ دوسرا مقدس پھول کھل رہا تھا۔25 سال پہلے اسی مہینے کی گیارہ تاریخ (یعنی 11 ذیقعد 148 ھ.ق)کو حضرت نجمہ (تکتم) خاتون کو پروردگار جہان نے آنکھوں کی ٹھنڈک اور دل کا سکون عطا فرمایا تھا جس کا نام نامی و اسم گرامی علی رکھا گیا اور بعد میں "رضا" کے لقب سے مشہور و معروف ہوئے.
حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کی اس دختر نیک اختر کی ولادت با سعادت کے دن کی مناسبت سے سر زمین ایران کی بیٹیوں کی مسرت اپنے اوج و عروج کو پہنچی کیونکہ 1385 ہجری شمسی میں انقلاب کی ثقافتی شورائے عالی نے یکم ذیقعد کو قومی سطح پر''یوم دختران" سے موسوم کیا۔
یہاں پر اٹھنے والے دو سوال اور ان کے جواب پیش کرتے ہیں.پہلا سوال یہ ہے کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے یوم ولادت با سعادت کو کس لیے قومی سطح پر "یوم دختران" کے طور پر انتخاب کیا گیا؟اور دوسرا سوال یہ کہ آخر کیا ضرورت ہے کہ ایک دن کو اس عنوان سے مخصوص کیا جائے؟
پہلے سوال کے جواب میں کہنا چاہیئے : بے شک پیغمبر اکرم(ص) کے اھلبیت علیہم السلام نے دنیا بھر کے لیے پر فروغ ھدایت بخش ہستیاں پیش کی ہیں کہ جن کے اسماء گرامی فضائل کے آسمان پر درخشان ستاروں کی مثل ہیں۔سر زمین ایران میں خواتین کے درمیان ان درخشان اور چمکتے ہوئے ستاروں میں حضرت موسی ابن جعفر الکاظم علیھما السلام کی دختر نیک اختر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا ہیں،معصومہ قم سلام اللہ علیھا پاکیزگی اور طہارت میں اس حد تک کم نظیر شخصیت ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی لسان عصمت سے انھیں معصومہ کہا گیا ہے.
یقین سے کہا جاسکتا ہے :حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کی شخصیت کے پہلووں کو درک کرنے اور ان کی معنوی منزلت و مقام کی معرفت کی بدولت اسلامی و معنوی معاشرے کو مثالی معاشرے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تا کہ عام طور پر تمام حواتین اور معاشرے کی بیٹیاں کریمہ اھلبیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیھاجیسی مظہر عفت و تقوی مثالی اور نمونہ و اسوہ ھدایت بخش خاتون سے نمونہ عمل حاصل کر سکیں.اس لیے ایسی مثالی اور اپنے امام زمانہ (حضرت امام رضا) علیہ السلام کو دل کی گہرائیوں سے چاہنے والی نمونہ خاتون کی ولادت با سعادت کے دن کو قومی سطح پر "یوم دختران"قرار دینا جہاں تمام مسلمان اور با ایمان خواتین کے سامنے آنخصرت سلام اللہ علیھا کی شخصیت کے مختلف پہلو وں کو متعارف کروانے کا باعث ہے وہاں اس سر زمین کی بیٹیوں کے سامنے ایک آئیڈیل شخصیت کو پیش کرنے کا موجب بھی ہے.
دوسرے سوال کے جواب میں کہنا چاہیئے : ایک معاشرے کی تشکیل میں معاشرے کی بیٹیوں کے قابل توجہ ترکیبی حصے کے علاوہ ایک معاشرے کی عمومی ثقافت میں معاشرے کی بیٹیوں کے کردار کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔معاشرے کے سمجھ دار اور خوش فکر افراد اس اہم معاشرہ ساز کردار کی اہمیت سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور ہمیشہ معاشرے کی با استعداد ،مثالی اور پاکیزہ و عفیف بیٹیوں کی پرورش و تربیت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
قومی سطح پر "یوم دحتران" کا انتخاب ایک اساسی ضرورت ہےجس کی بنیاد کے طور پر مندرجہ ذیل نکات قابل ذکر ہیں:
1۔معاشرے میں معاشرے کی بیٹیوں سے جو فرہنگی ،ثقافتی اور اجتماعی معاشرتی اقدار مطلوب ہیں ،ان میں بہتری لانا اور تقویت کرنا.
2۔ اھلبیت علیہم السلام کی سیرت طیبہ اور پاکیزہ ثقافت پر بھروسہ کرتے ہوئے اسلامی ثقافتی اقدار کو متعارف کروانااور ان کی ترویج و اشاعت.
3۔اسلامی معاشرے میں مسلمان بیٹیوں کے بہترین کردار کو اجاگر کرنے کے لیے قومی اہتمام.
4۔معاشرے کی تشکیل میں حصہ دار اس صنف کے عمومی کلچر کی اصلاح و بہتری کا اقدام.
5۔اس صنف کے لیے دینی تعلیمات اور مذہبی معارف کی گہرائیوں کو روشناس کروانا اور پھیلانا.
6۔دختران ملت کے اسلامی ثقافتی تشخص کو ترقی بخشنے کے لیے مناسب مواقع فراہم کرنا.
7۔قوم کی بیٹیوں کی استعداد اور توانائیوں کو سامنے لانے کے لیے مناسب ترین مواقع مہیا کرنا.
8۔اسلامی معاشرے کی بیٹیوں کی ضروریات پورا کرنے اور در پیش مشکلات ختم کرنے کے لیے عمومی کوششیں اور قومی کاوشیں.
9۔حقوق اور وظایف و ذمہ داریوں کی پہچان اور معاشرے میں خواتین اور دختران ملت کے کردار کی وضاحت.
10۔خلاصہ یہ کہ قوم کی بیٹیوں کے لیے آئیڈیل پیش کرنا تا کہ اس آئیڈیل کو اپنی عملی زندگی میں ڈھال کر خود دنیا بھر کی بیٹیوں اور نوجوان و جوان نسل کے لیے آئیڈیل ثابت ہو سکیں.
 
وزٹرز کی تعداد:256
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...