خبر
7/6/2016
یکم ذیقعدہ حضرت معصومہ علیھا السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے

 
یکم ذیقعدہ حضرت معصومہ علیھا السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے

حضرت معصومہ(س) کے مختصر حالات زندگی
آپ کا نام فاطمہ اور مشہور لقب "معصومہ" ہے۔ آپ کے والد محترم ساتویں امام حضرت موسی بن جعفر (ع) اور والدہ محترمہ حضرت نجمہ خاتون ہیں۔
جناب معصومہ کی ولادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ھجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ بچپنے میں ہی امام موسیٰ ابن جعفر(ع) کی بغداد میں شہادت واقع ہو گئی اور آپ آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا(ع) کی کفالت میں قرار پائیں۔ سنہ ۲۰۰ ھجری میں امام رضا علیہ السلام کو مامون نے شدید اصرار کر کے خراسان بلوا لیا۔ امام تمام اعضاء اور اقرباء کو مدینہ چھوڑ کر خراسان تشریف لے گئے۔ امام کی ھجرت کےایک سال بعد جناب فاطمہ معصومہ اپنے بھائی سے ملاقات کے شوق میں اور سیرت حضرت زینب کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف چل پڑیں۔ اس سفر کے دوران ہر مقام پر اپنے بھائی کی مظلومیت کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتی ہوئی ایران کے ایک شہر ساوہ میں پہنچیں۔ ساوہ کے رہنے والوں نے کہ جو دشمنان اہلبیت (ع) تھے عباسی حکومت کی طرف سے ماموریت کی بنا پر اس کاروان کا راستہ روک لیا۔ اور حضرت معصومہ کے ساتھ تشریف لائے ہوئے بنی ہاشم کے ساتھ جنگ کرنے پر اتر آّئے۔ اور نتیجہ میں تمام جوان شہید ہو گئے حتی ایک روایت کی بنا پر حضرت معصومہ کو بھی زہر دے دیا گیا۔
بہر حال زہر کی وجہ سے یا شدت غم اور اندوہ کی وجہ سے آپ شدید مریض ہو گئیں۔ اب چونکہ خراسان کی طرف جانا ممکن نہیں رہا لہٰذا قم کا ارادہ کیا ۔ شہر قم کا راستہ معلوم کیا اور فرمایا: مجھے قم لے چلو۔ اس لیے کہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے قم کا شہر شیعیوں کا مرکز ہے۔ جب قم کے لوگوں کو خبر لگی خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔آخر کار جناب معصومہ ۲۳ ربیع الاول سنہ ۲۰۱ ھجری کو قم پہنچیں۔ صرف ۱۷ دن اس شہر میں زندگی گذاری۔اور اس دوران اپنے پروردگار سے مسلسل راز و نیاز میں مشغول رہیں۔آپ کا محل عبادت "بیت النور" کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔
آخر کار ۱۰ ربیع الثانی سنہ ۲۰۱ ھجری بغیر اسکے کہ اپنے بھائی سے ملاقات کر پائیں بارگاہ رب العزت کی طرف سفر کر گئیں۔ قم کے لوگوں نے آپ کے جسد اقدس کو سرزمین قم میں جہاں آج آپ کا روضہ ہے تشییع جنازہ کیا اورنماز جنازہ پڑھنا چاہتے تھے کہ دو روپوش آدمی قبلہ کی طرف سے نمودار ہوئے نماز جنازہ پڑھا کے ایک قبر میں داخل ہوا دوسرے آدمی نے جنازہ قبر میں اتارا اور دفن کر کے غائب ہو گئے۔
بعض علماء کہ بقول وہ دو آدمی امام رضا(ع) اور امام جواد(ع) تھے۔ دفن کے بعد موسی ابن خزرج سایبانی نے ایک کپڑا قبر کے اوپر بطور علامت ڈال دیا یہاں تک کہ ۲۵۶ ھجری میں حضرت زینب امام جواد کی بیٹی نے سب سے پہلی بار اپنی پھوپھی کی قبر شریف پر گنبد تعمیر کروایا اس کے بعد یہ روضہ عالم اسلام مخصوصا اہلبیت کے چاہنے والوں کی عقیدتوں کا مرکز بن گیا۔ اورآج تمام دنیا سے آپ کے چاہنے والے آپ کے روضہ کی زیارت کرنے تشریف لاتے ہیں۔
حضرت معصومہ(س) کا مقام
"معصومہ " کا لقب امام رضا (ع) نے اپنی بہن کو عطا کیااور فرمایا:
من زار المعصومہ بقم کمن زارنی(ناسخ التواریخ، ج ٣، ص ٦٨، به نقل از کریمه اهل بیت، ص ٣٢)
جس نے معصومہ کی قم میں زیارت کی گویا اس نے میری زیارت کی۔
دوسری حدیث میں فرمایا: جو شخص میری زیارت کے لیے نہیں آسکتا ہے اسے چاہیے کہ شہر رے میں میرے بھائی کی یا قم میں میری بہن کی زیارت کرے۔( زبدة التصانیف، ج ٦، ص ١٥٩، به نقل از کریمه اهل بیت، ص ٣)

 
وزٹرز کی تعداد:168
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...