خبر
7/6/2016
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر

 
حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر

نام: جعفر
کنیت: ابو عبداللہ
لقب: صادق
پدر بزگوار: حضرت امام محمد باقر علیہ السلام (شیعوں کے پانچویں امام)
والدہ ماجدہ: ام فروہ ۔ امام علیہ السلام نے اپنی والدہ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میری والدہ پرہیزگار ،با ایمان اور باکردار عورتوں میں تھیں۔
ولادت: ۱۷/ربیع الاول ۸۲ ھ
حیات: ۶۵سال
مدت امامت: ۳۴ سال ۱۱۴ھ سے ۱۴۸ھ تک
حاکمان وقت: ہشام بن عبد الملک ۔ولید بن یزید بن عبد الملک۔ یزید بن ولید۔ ابراہیم بن ولید ۔ مروان حمار۔ یہ خاندان نبو امیہ کے افراد۔ خاندان بنی عباس سے ۔ سفاح اور منصور دوانقی
فرزندان: امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ۔اسماعیل، عبد اللہ ، محمد دیباج، اسحاق علی عریضی ، عباس ، ام فروہ ، اسمائ، اور فاطمہ، سات فرزند اور تین دختر۔
شہادت : ۲۵ /شوال ۱۴۸ھ
مدفن : جنت البقیع (مدینہ منورہ)
شہادت امام
منصور دوانیقی بنی عباس کے ظالم و جابر اور ستمگر حکمرانوں میں سے تھا۔ اور خلفائے بنی عباس میں بعدترین اور رذیل شخص تھا۔ امام صادق علیہ السلام پر زیادہ سے زیادہ سختیاں کرتا تھا۔ اپنے بدترین اور سخت جاسوس آپ پر مامور کردیئے تھے امام علیہ السلام کو اذیت دینے کے لئے ، آزار پہنچانے کے لئے اور قتل کرنے کے لئے بارہا اپنے پاس بلایا چونکہ تقدیر میں نہ تھا لہٰذا وہ اپنی نا پاک نیت میں کامیاب نہ ہو پاتا تھا۔
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا بیان ہے:
ایک بار منصور نے میرے والد کو طلب کیا تا کہ وہ انھیں قتل کرے ۔ اس کے لئے اس نے شمشیر اور بساط بھی آمادہ کر رکھی تھی۔ ربیع (جو منصور کے درباریوں میں سے تھا) کو اس بات کا حکم دیا کہ جب ''جعفر بن محمد'' علیہ السلام میرے پاس آئیں اور میں ان سے گفتگو کرنے لگوں تو جس وقت میں ہاتھ کو ہاتھ پر ماروں اس وقت تم ان کی گردن اڑا دینا۔
امام علیہ السلام وارد ہوئے منصور کی نظر جیسے ہی امام پر پڑی بے اختیار اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا اور امام کو خوش آمدید کہا ۔ اور اس بات کا اظہار کیا کہ میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ تا کہ آپ کے قرضوں کو چکادوں۔ اس کے بعد خوش روئی سے امام کے اعزاء و اقارب کے حالات دریافت کرکے ۔ ربیع کی طرف رخ کرکے کہنے لگاتین روز بعد امام کو ان کے اعزا و اقارب کے پاس پہنچا دینا۔
آخر منصور امام کو برداشت نہ کرسکا جن کی امامت کا آوازہ اور رہبری شہرہ ملتِ اسلامیہ کے گوشہ گوشہ میں تھا۔ شوال ۱۴۸ھ؁ میں امام کو زہر دیا ۔امام علیہ السلام نے ۲۵/شوال کو ۶۵ برس کی عمر میں شہادت پائی .آپ کے جسم اطہر کو قبرستان بقیع میں امام محمد باقر علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
اس وقت کتنا مناسب ہوگا اگر ہم امام عالیقدر کے سوگ میں ان اشعار کو دہرائیں اور اشک بہائیں جو شیعہ شاعر ''ابوہریرہ عجلی''نے امام کی شہادت پر لکھیں ہیں:
اقول و قــــدر احوا بہ یحملونـہ علی کاھل من حاملیہ و عائــق
اتدرون ماذا تـحملون الی الثریٰ ثبیرا ثویٰ من رأس علیاء شاھق
غداۃ حثی الحاثون فوق ضریحـہ ترابا و اولیٰ کان فوق المفارق
وہ لوگ جو امام علیہ السلام کے جسم اطہر کو اپنے شانوں اور سروں پر رکھے قبرستان کی طرف لے جارہے تھے میں نے ان سے کہا:
آیا جانتے ہو ! کس عظیم شخصیت کو خاک میں دفن کرنے جارہے ہو یقینا وہ اوج و رفعت کا ایک بلند ترین کوہسار تھے جو نشیب میں آکر ایک قبرستان میں دفن ہورہاہے۔
کل صبح لوگ اس کی قبر مطہر پر خاک ڈالیںگے۔
سزا وار تو یہ ہے کہ ان کے غم میں ہم اپنے سروں پر خاک اڑائیں۔
امام علیہ السلام کی شہادت سے یقینا تاریخ انسانیت اور اسلام نے ایک ایسے گوہر آبدار کو ہاتھوں سے دیا ہے۔ اگر امامت کے سلسلے میں چھ امام اور نہ ہوتے تو یہ بات یقین سے کہی جاسکتی تھی کہ دنیا قیامت تک ایسا انسان پیدا کرنے سے عاجز ہے ۔
خدا فرشتے ، صالح بندوں اور مومنین کا سلام ہو آپ کی روح پاک پر۔
آخری وصیت

ابو بصیر (جن کا شمار امام کے عظیم صحابیوں میں ہوتا ہے) کا بیان ہے امام کی شہادت کے بعد آپ کی زوجہ محترمہ ''ام حمیدہ'' کو تعزیت پیش کرنے امام کے گھر گیا .امام کے سوگ میں ہم دونوں شدت سے روئے . اس وقت انھوں نے مجھ سے فرمایا:
اے ابو بصیر !اگر امام کی شہادت کے وقت ہوتے تو تعجب کرتے کیونکہ امام نے اپنی آنکھوں کو کھولا اور فرمایا:
میرے اعزاء و اقارب کو میرے پاس بلایا جائے ۔جب سب جمع ہوگئے تو امام نے سب کو ایک نظر دیکھا اور فرمایا: ''ان شفاعتنا لاتنال مستخفا بالصلوٰۃ'' ہم ائمہ کی شفاعت اس شخص کے شامل حال نہیں ہوگی جو نماز کو سبک (ہلکا) سمجھے گا۔
اقوال امام

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے چند اقوال کی طرف قارئین کی توجہ طلب کرانا چاہتے ہیں اس امید و آرزو کے ساتھ امام علیہ السلام کے یہ کلمات ہمارے دل نشیں ہوجائےں اور ہماری رفتار و کردار ، عادات و اطوار اس سے متاثر ہو، دلوں کو نور ملے، ایمان میں اضافہ ہو اور ہماری عملی زندگی کے لئے رہنما قرار پائے۔
(۱) ۔ وجدت علم الناس کلھا فی اربع اولھا ان تعرف ربک ۔ و الثانی ان تعرف ما صنع بک والثالث ان تعرف ما اراد منک۔ و الرابع ان تعرف ما یخرجک من دینک۔(ارشاد مفید ص/۲۶۵)
• میں نے تمام مفید علم و دانش کو چار چیزوں میں پایا. ۱)۔اپنے پروردگا ر کی معرفت حاصل کرو ۔۲)۔ یہ جانو کہ خدا نے تمھارے ساتھ کیا کیا ہے اور کیا کیا نعمتیں دی ہیں۔۳)۔ یہ پہچانو کہ خدا کا تم سے مطالبہ کیا ہے ، تمھاری ذمہ داری کیا ہے ۔۴) یہ معلوم کرو کونسی چیز تمھیں تمھارے دین سے خارج کردے گی۔
(۲) ۔ اربعۃ من اخلاق الانبیاء البر و السخاء و الصبر علی النائبۃ و القیام بحق المومن۔ (تحف العقول ص/۳۷۵)
• چار خصلتیں انبیاء کے اخلاق کی ہیں . ۱)۔ نیکی کرنا ۲)۔ سخاوت ۳) ۔ مصیبت پر صبر کرنا ۴) مومن کے حقوق کی رعایت کرنا۔
(۳)۔ثلاثۃ لا تعرف الا فی ثلاث مواطن! لا یعرف الحلیم الا عند الغضب ولا الشجاع الا عند الحرب و لا اخ عند الحاجۃ۔(تحف العقول ص/۳۱۶)
• تین آدمی تین جگہوں پر پہنچانے جاتے ہیں۔ حلیم اور برد بار غصہ کے وقت ، دلیر و شجاع جنگ کے وقت ، اور دوست و بھائی ضرورت کے وقت۔
(۴)۔ لا یستکمل عبد حقیقۃ الایمان حتی تکون فیہ خصال ثلاث الفقہ فی الدین و حسن التقدیر فی المعیشۃ و الصبر علی الرزایا۔(تحف العقول ص/۳۳۴)
• کوئی بندہ مومن اس وقت تک کمال ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس میں یہ تین خصلتیں نہ پائی جائیں. ۱) ۔ دین میں فہم اور بصیرت ۲) ۔ معیشت میں میانہ روی ۳)۔ مصیبتوں پر صبر
(۵)۔المومن بین مخافتین! ذنب قد مضیٰ لایدری ما یصنع اللّٰہ فیہ و عمر قد بقیٰ لا یدری ما یکتسب فیہ من المھالک، فھو لا یصبح الا خائفا ولا یمسی الا خائفا و لا یصلحہ الا الخوف۔(تحف العقول ص/۳۷۷)
• مومن دو خوف کے درمیان ہے ۔الف )۔گزشتہ گناہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے ساتھ کیا کرے گا . ب)۔باقیماندہ عمر نہیں معلوم کہ اس میں کونسا گناہ اس سے سرزد ہوگا ۔ اور کس ہلاکت میں پڑے گا . وہ رات گزار کر صبح نہیں کرتا مگر خوف خدا و ترس کے عالم کے.ا ور دن کاٹ کر رات نہیں آتی مگر خوف و ہراس کے ساتھ ۔ کوئی چیز اس کی اصلاح نہیں کرسکتی مگر خوف خدا۔

 
وزٹرز کی تعداد:401
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...