خبر
6/5/2016
امام حسن مجتبى (ع) کی ولادت اور بچپن کے حالات

 
امام حسن مجتبى (ع) کی ولادت اور بچپن کے حالات



بچپن کا زمانہ
على (ع) اور فاطمہ (ع) کے پہلے بیٹے 15 رمضان 3ھ ق کو شہر مدینہ میں پیدا ہوئے (1) _ پیغمبر (ص) اکرم تہنیت کیلئے جناب فاطمہ (ع) کے گھر تشریف لائے اور خدا کى طرف سے اس بچہ کا نام \'\' حسن\'\' رکھا(2)
امام حسن مجتبى (ع)سات سال تک پیغمبر(ص) اسلام کے ساتھ رہے(3) _
رسول اکرم (ص) اپنے نواسہ سے بہت پیار کرتے تھے_ کبھى کا ندھے پر سوار کرتے اور فرماتے:
\'\' خدایا میں اس کو دوست رکھتا ہوں تو بھى اس کو دوست رکھ\'\' (4)
اور پھر فرماتے:
\'\' جس نے حسن(ع) و حسین(ع) کو دوست رکھا اس نے مجھ کو دوست رکھا _ اور جو ان سے دشمنى کرتا ہے وہ میرا دشمن ہے\'\' _ (5)
امام حسن (ع) کى عظمت اور بزرگى کے لئے اتنا ہى کافى ہے کہ کم سنى کے باوجود پیغمبر (ص) نے بہت سے عہدناموں میں آپ کو گواہ بنایا تھا_واقدى نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر(ص) نے قبیلہ \'\' ثقیف\'\' کے ساتھ ذمّہ والا معاہدہ کیا، خالد بن سعید نے عہد نامہ لکھا اور امام حسن و امام حسین علیہما السلام اس کے گواہ قرار پائے (6)
والد گرامى کے ساتھ
رسول (ص) اکرم کى رحلت کے تھوڑے ہى دنوں بعد آپ کے سرسے چاہنے والى ماں کا سایہ بھى اٹھ گیا _ اس بناپر اب تسلى و تشفى کا صرف ایک سہارا على (ع) کى مہر و محبت سے مملو آغوش تھا امام حسن مجتبى (ع)نے اپنے باپ کى زندگى میں ان کا ساتھ دیا اور ان سے ہم آہنگ رہے_ ظالموں پر تنقید اور مظلوموں کى حمایت فرماتے رہے اور ہمیشہ سیاسى مسائل کو سلجھانے میں مصروف رہے_
جس وقت حضرت عثمان نے پیغمبر(ص) کے عظیم الشان صحابى جناب ابوذر کو شہر بدر کر کے رَبَذہ بھیجنے کا حکم دیا تھا، اس وقت یہ بھى حکم دیا تھا کہ کوئی بھى ان کو رخصت کرنے نہ جائے_ اس کے برخلاف حضرت على (ع) نے اپنے دونوں بیٹوں امام حسن اور امام حسین علیہما السلام اور کچھ دوسرے افراد کے ساتھ اس مرد آزاد کو بڑى شان سے رخصت کیا اور ان کو صبر و ثبات قدم کى وصیت فرمائی_ (7)
36ھ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ مدینہ سے بصرہ روانہ ہوئے تا کہ جنگ جمل کى آگ جس کو عائشےہ و طلحہ و زبیر نے بھڑکایا تھا ، بجھادیں_
بصرہ کے مقام ذى قار میں داخل ہونے سے پہلے على (ع) کے حکم سے عمار یاسر کے ہمراہ کوفہ تشریف لے گئے تا کہ لوگوں کو جمع کریں_ آپ کى کوششوں اور تقریروں کے نتیجہ میں تقریباً بارہ ہزار افراد امام کى مدد کے لئے آگئے_(8) آپ نے جنگ کے زمانہ میں بہت زیادہ تعاون اور فداکارى کا مظاہرہ کیا یہاں تک کہ اما م (ع) کے لشکر کو فتح نصیب ہوئی_ (9)
جنگ صفین میں بھى آپ نے اپنے پدربزرگوار کے ساتھ ثبات قدم کا مظاہرہ فرمایا_ اس جنگ میں معاویہ نے عبداللہ ابن عمر کو امام حسن مجتبى (ع) کے پاس بھیجا اور کہلوایا کہ آپ اپنے باپ کى حمایت سے دست بردار ہوجائیں تومیں خلافت آپ کے لئے چھوڑ دونگا _ اس لئے کہ قریش ماضى میں اپنے آباء و اجداد کے قتل پر آپ کے والد سے ناراض ہیں لیکن آپ کو وہ لوگ قبول کرلیں گے _
لیکن امام حسن (ع) نے جواب میں فرمایا: \'\' نہیں ، خدا کى قسم ایسا نہیں ہوسکتا\'\'_ پھر اس کے بعد ان سے خطاب کرکے فرمایا: گویا میں تمہارے مقتولین کو آج یا کل میدان جنگ میں دیکھوںگا، شیطان نے تم کو دھوکہ دیا ہے اور تمہارے کام کو اس نے اس طرح زینت دى ہے کہ تم نے خود کو سنوارا اور معطّر کیا ہے تا کہ شام کى عورتیں تمہیں دیکھیں اور تم پر فریفتہ ہوجائیں لیکن جلد ہى خدا تجھے موت دے گا _ (10)
امام حسن _اس جنگ میں آخر تک اپنے پدربزرگوار کے ساتھ رہے اور جب بھى موقع ملا دشمن پر حملہ کرتے اور نہایت بہادرى کے ساتھ موت کے منہ میں کود پڑتے تھے_
آپ (ع) نے ایسى شجاعت کا مظاہرہ فرمایا کہ جب حضرت على (ع) نے اپنے بیٹے کى جان، خطرہ میں دیکھى تو مضطرب ہوئے اور نہایت درد کے ساتھ آواز دى کہ \'\' اس نوجوان کو روکو تا کہ ( اسکى موت ) مجھے شکستہ حال نہ بنادے_ میں ان دونوں_ حسن و حسین علیہما السلام _کى موت سے ڈرتا ہوں کہ ان کى موت سے نسل رسول (ص) خدا منقطع نہ ہوجائے\'\'(11)
واقعہ حکمیت میں ابوموسى کے ذریعہ حضرت على (ع) کے برطرف کردیئےانے کى دردناک خبر عراق کے لوگوں کے درمیان پھیل جانے کے بعد فتنہ و فساد کى آگ بھڑک اٹھى _ حضرت على (ع) نے دیکھا کہ ایسے افسوسناک موقع پر چاہیے کہ ان کے خاندان کا کوئی ایک شخص تقریر کرے اور ان کو گمراہى سے بچا کر سکون اور ہدایت کى طرف رہنمائی کرے لہذا اپنے بیٹے امام حسن(ع) سے فرمایا: میرے لال اٹھو اور ابوموسى و عمروعاص کے بارے میں کچھ کہو_ امام حسن مجتبى (ع) نے ایک پرزور تقریر میں وضاحت کى کہ :
\'\' ان گوں کو اس لئے منتخب کیا گیا تھا تا کہ کتاب خدا کو اپنى دلى خواہش پر مقدم رکھیں لیکن انہوں نے ہوس کى بناپر قرآن کے خلاف فیصلہ کیا اور ایسے لوگ حَکَم بنائے جانے کے قابل نہیں بلکہ ایسے افراد محکوم ( اور مذمت کے قابل) ہیں_ (12)
شہادت سے پہلے حضرت على (ع) نے پیغمبر(ص) کے فرمان کى بناء پر حضرت حسن (ع) کو اپنا جانشین معین فرمایا اور اس امر پر امام حسین (ع) اور اپنے تمام بیٹوں اور بزرگ شیعوں کو گواہ قرار دیا_ (13)
اخلاقى خصوصیات
امام حسن (ع) ہر جہت سے حسن تھے آپ کے وجود مقدس میں انسانیت کى اعلى ترین نشانیاں جلوہ گر تھیں_ جلال الدین سیوطى اپنى تاریخ کى کتاب میں لکھتے ہیں کہ \'\' حسن(ع) بن على (ع) اخلاقى امتیازات اور بے پناہ انسانى فضائل کے حامل تھے ایک بزرگ ، باوقار ، بردبار، متین، سخی، نیز لوگوں کى محبتوں کا مرکز تھے_ (14)
ان کے درخشاں اور غیر معمولى فضائل میں سے ایک شمہ برابر یہاں پیش کئے جار ہے ہیں:
پرہیزگاری:
آپ خدا کى طرف سے مخصوص توجہ کے حامل تھے اور اس توجہ کے آثار کبھى وضو کے وقت آپ کے چہرہ پر لوگ دیکھتے تھے جب آپ وضو کرتے تو اس وقت آپ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ کاپنے لگتے تھے_ جب لوگ سبب پوچھتے تو فرماتے تھے کہ جو شخص خدا کے سامنے کھڑا ہو اس کے لئے اس کے علاوہ اور کچھ مناسب نہیں ہے _ (15)
امام جعفر صادق _نے فرمایا: امام حسن(ع) اپنے زمانہ کے عابدترین اور زاہدترین شخص تھے_ جب موت اور قیامت کو یاد فرماتے تو روتے ہوئے بے قابو ہوجاتے تھے _ (16)
امام حسن(ع) ، اپنى زندگى میں 25 بار پیادہ اور کبھى پابرہنہ زیارت خانہ خدا کوتشریف لے گئے تا کہ خدا کى بارگاہ میں زیادہ سے زیادہ ادب و خشوع پیش کرسکیں اور زیادہ سے زیادہ اجر ملے_(17)
سخاوت:
امام(ع) کى سخاوت اور عطا کے سلسلہ میں اتنا ہى بیان کافى ہے کہ آپ نے اپنى زندگى میں دوبار تمام اموال اور اپنى تمام پونجى خدا کے راستہ میں دیدى اور تین بار اپنے پاس موجود تمام چیزوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا_ آدھا راہ خدا میں دیدیا اور آدھا اپنے پاس رکھا _ (18)
ایک دن آپ نے خانہ خدا میں ایک شخص کو خدا سے گفتگو کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہا تھا خداوندا: مجھے دس ہزار درہم دیدے_ امام _اسى وقت گھر گئے اور وہاں سے اس شخص کو دس ہزار درہم بھیج دیئے_(19)
ایک دن آپ کى ایک کنیز نے ایک خوبصورت گلدستہ آپ کو ہدیہ کیا تو آپ(ع) نے اس کے بدلے اس کنیز کو آزاد کردیا_ جب لوگوں نے اس کى وجہ پوچھى تو آپ نے فرمایا کہ خدا نے ہمارى ایسى ہى تربیت کى ہے پھر اس کے بعد آپ(ع) نے آیت پڑھی_ و اذاحُیّیتم بتحیّة: فحَیّوا باحسن منہا (20) \'\' جب تم کو کوئی ہدیہ دے تو اس سے بہتر اس کا جواب دو_\'\'(21)
بردباری;
ایک شخص شام سے آیا ہوا تھا اور معاویہ کے اکسانے پر اس نے امام (ع) کو برا بھلا کہا امام (ع) نے سکوت اختیار کیا ، پھر آپ نے اس کو مسکرا کر نہایت شیرین انداز میں سلام کیا اور کہا:
\'\' اے ضعیف انسان میرا خیال ہے کہ تو مسافر ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ تو اشتباہ میں پڑگیا ہے _ اگر تم مجھ سے میرى رضامندى کے طلبگار ہو یا کوئی چیز چاہیے تو میں تم کو دونگا اور ضرورت کے وقت تمہارى راہنمائی کروں گا _ اگر تمہارے اوپر قرض ہے تو میں اس قرض کو ادا کروں گا _ اگر تم بھوکے ہو تومیں تم کو سیر کردونگا ... اور اگر ، میرے پاس آؤگے تو زیادہ آرام محسوس کروگے_
وہ شخص شرمسار ہوا اور رونے لگا اور اس نے عرض کی: \'\' میں گواہى دیتا ہوں کہ آپ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں _خدا بہتر جانتا ہے کہ و ہ اپنى رسالت کو کہاں قرار دے_ آپ اور آپ کے والد میرے نزدیک مبغوض ترین شخص تھے لیکن اب آپ میرى نظر میں سب سے زیادہ محبوب ہیں\'\'_(22)
مروان بن حکم _ جو آپ کا سخت دشمن تھا_ آپ (ع) کى رحلت کے بعد اس نے آپ کى تشیع جنازہ میں شرکت کى امام حسین _نے پوچھا_ میرے بھائی کى حیات میں تم سے جو ہوسکتا تھا وہ تم نے کیا لیکن اب تم ان کى تشییع جنازہ میں شریک اور رورہے ہو؟ مروان نے جواب دیا\'\' میں نے جو کچھ کیا اس شخص کے ساتھ کیا جس کى بردبارى پہاڑ ( کوہ مدینہ کى طرف اشارہ) سے زیادہ تھی_ (23)
 
وزٹرز کی تعداد:609
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...