خبر
12/5/2019
حرم مطہر رضوی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی شب خوشی و نورسے مملو تھا

 
حرم مطہر رضوی حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی شب خوشی و نورسے مملو تھا

حضرت امام حسن عسکری  علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی شب حرم مطہر رضوی  خوشی و نورسے مملو تھا اور آستان قدس رضوی کی جانب سے   اس معنوی بارگاہ میں جشن و محفل کا پروگرام رکھا گیاتھا ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے  جشن کے پروگرام میں کہ جو نماز مغرب و عشاء کے بعد امام خمینی (رہ)ہال  میں منعقد ہوا ، قرائت زیارت امین اللہ کے بعد  ذاکرین  اہل بیت علیہم السلام نے قصیدہ خوانی  اور حجۃ الاسلام والمسلمین حبیب اللہ فرحزاد نے  تقریر کی ۔

انہوں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام  کی 28 سالہ زندگی کی طرف اشارہ کیا اور کہا: حضرت نے اپنی حیات طیبہ میں تین اہم ذمہ داریوں کو پورا کیا ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تین ذمہ داریاں
حرم مطہر رضوی کے خطیب نے بیان کیا:حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام  کی تین اہم ذمہ داریاں ؛ تکلیف شناسی، امام شناسی اور دشمن شناسی تھی،
کہ  یہ تینوں مطالب بصیرت افزائي کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں ۔

انہوں نے کہا:حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے مذہب شیعہ کی ترویج و تبلیغ اور شیعہ مذہب  کی میراث کی حفاظت میں  مخصوص شیعہ حضرات سے مختلف شہروں میں رابطہ برقرار کیا  تاکہ حضرت امام زمانہ کی ولایت و امامت کو تسلیم کرنے کے لیے ضروری تیاری و آمادگی فراہم کی جاسکے۔
ماندگاری نے بیان کیا: حضرت نے   اپنی مدت  امامت میں بہت زیادہ سیاسی و اجتماعی اقدامات انجام دیے  اور اسی طرح فقہی و تفسیری قیمتی آثار   چھوڑے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آئمہ طاہرین علیہم السلام خداوندعالم سے تقرب کا واسطہ ہیں ، کہا:امام و مربی کی معرفت و شناخت کے سلسلے میں پہلا قدم بصیرت افزائی ہے ،حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے بھی اس زمانے میں کوشش کی کہ لوگوں کو اصل امامت اور اس کے آثار سے متعارف کرائیں۔

اس عالم دین نے مزید کہا: حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے اقدامات میں سے ایک اقدام حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے لیے زمینہ فراہم کرنا تھا، آپ نے متعدد مقامات پر  اپنے فرزند کہ جو آپ کے جانشین تھے   ان کی غیبت کے متعلق لو گوں مطلع کیا  اور اس طرح لوگوں اور معاشرے کو غیبت کے قبول کرنے پر آمادہ کیا ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا سنگین وظیفہ
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ خداوندعالم ، رسول اسلام اور آئمہ طاہرین علیہم السلام بشریت کے لیے ہادی و راہنما ہیں کہا: حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی عظیم ذمہ داری یہ تھی کہ لوگوں کے درمیان یہ رائج کردیا جائے کہ غیبت کے زمانے میں بھی امام موجود رہتے ہیں  لیکن نظر نہیں آتے ۔

ماندگاری نے کہا: حضرت امام زمانہ کی غیبت کے دوران لوگ، فقہاء کی فرمائشات پر عمل کریں ، امام معصوم علیہ السلام نے ایک روایت میں ارشاد فرمایا ہے کہ  حوادث میں مشکلات کے حل کے لیے خواہ سیاسی ہوں عبادی ہوں یا اقتصادی و نظامی  و ثقافتی و اجتماعی وغیرہ راویان حدیث و فقہاء کی طرف مراجعہ کریں کہ یہی ہماری غیبت کے دوران آپ لوگوں پر ہماری طرف سے حجت ہیں  اور ہم ان پر خدا کی حجت ہیں ۔

انہوں نے تاکید کی: البتہ ہر فقیہ کی طرف مراجعہ نہیں کیا جاسکتا  ، وہ معمم حضرات کہ جو عالمی استکبار کے اہداف کو لیے ہوئے ہیں وہ معاشرے کو گمراہ کررہے ہیں۔

ان عالم دین نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام   اپنے زمانے میں دشمن شناسی کی ترویج میں کافی کوشاں  رہے ، کہا: انسان کی زندگی میں دشمن شناسی  کا اہم ترین کردار ہے اس لیے کہ اگر انسان صحیح معنی میں اپنے دشمن کو نہ پہچان پائے چاہے کتنا بھی علم رکھتا ہو لیکن صحیح راہنمائی حاصل نہ ہو تو شکست سے روبرو ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا : ہر زندہ شی کا کوئی نہ کوئی دشمن ضرور ہے اور اس کی وسعت کے لحاظ سے دشمنی بڑھتی جاتی ہے ، قرآن کریم میں بھی دشمنوں کی متعدد اقسام اور دشمن شناسی کے مراتب کی طرف اشارہ ہوا ہے  کہ جس سے ہم کلام کے طولانی ہونے کی وجہ سے صرف نظر کررہے ہیں۔
   
وزٹرز کی تعداد:29
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...