خبر
10/16/2019
اربعین  حسینی ایک   تمدن  کانا م  ہے   ، متولی آ‎ستان قدس رضوی

 
اربعین حسینی ایک تمدن کانا م ہے ، متولی آ‎ستان قدس رضوی

آستان قدس رضوی کے  متولی نے کہا ہے کہ  اربعین حسینی  کے ایام میں  مختلف مذاہب اور فرقوں کے افراد   اور ہر سن  وسال کے لوگ   حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت سےمشرف ہوتے ہیں جس  سے ثابت ہوتا ہے کہ اربعین ایک  تمدن  اور تہذیب  ہے    ۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین احمد مروی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینل سے اپنی گفتگو میں جو کربلائے معلی سے  براہ راست نشر ہوئی     اربعین حسینی کی مناسبت سے تعزیت  پیش کرتے ہوئے کہا کہ  نجف اشرف سے  کربلائے معلی کے راستے میں  اربعین ملین مارچ میں جس   جوش و  ولولہ اور عشق و محبت اور پاک  و پاکیزہ    دینی و مذہبی جذبات کا مظاہرہ ہوتا ہے وہ کسی بھی صورت میں لفظوں میں بیان نہيں ہوسکتے  ۔

انہوں نے  کہا کہ اربعین حسینی کے پیدل مارچ  میں مختلف ادیان و مذاہب اور قوم و ملت  اور ہر صنف کے لوگ شریک  ہوتے ہيں    اور درحقیقت مختلف سماج  و  قومیت    اور سن  وسال کے افراد سے مل کر ایک خوبصورت قوس  و قزح کا  منظر دکھائي دیتا ہے 

آستان قدس رضوی کےمتولی    نے  سوال کیا کہ وہ   کیا چیز ہے کہ جس نے ان تمام  افراد کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے نام مبارک  پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا  ہے ؟   انہوں نے اپنے ہی سوال کے جواب میں کہا  کہ چودہ  سوسال گذر جانے کے بعد بھی    دن بدن  لوگوں کے دل حضرت امام حسین علیہ السلام کی جانب   کھنچتے جارہے ہیں ؛تاریخ میں  بہت زیادہ انسانوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے نام پر اپنی جانوں کو قربان کیا ہے  اور انہی قربانیوں کی وجہ سے ہی   ہمیں آج اتنی آسانی سے  امام حسین علیہ السلا م کے حرم کی زیارت کی توفیق حاصل ہورہی ہے   

انہوں نے کہا کہ اگرچہ  حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لیے کم سے کم  وسائل بھی جیسا کہ ان کے لئے   ہونے چاہئيں موجود نہيں ہیں لیکن ہر سال دسیوں لاکھ کی تعداد میں زائرین،  کربلا ئے معلی میں مشرف ہوتے ہيں  ۔ ان کا کہنا تھا  جو شخص پیدل چل کر خود کو اما م حسین علیہ السلام کے حرم تک پہنچاتا ہے اس کو اس بات کی فکرتک  بھی  نہيں ہوتی کہ وہ کھانا کہاں کھائے گا   اور  آرام کہاں کرے گا  

حجۃ الاسلام والمسلمین مروی نے اس  بات پر ز ور دیتے ہوئے کہ  اربعین نے ایک جدید تہذیب کو جنم دیا ہے کہا کہ حقیقت میں اربعین  ایک نیا تمدن شمار ہوتا ہے  ، ان ایام میں شیعوں کے علاوہ اہل سنت اور  عیسائی  تک بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لیے نجف اشرف سے کربلائے معلی  کے راستہ  میں کیمپ اور موکب  لگاکر خدمات انجام دیتے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ  سنی مسلمان تو    اہل بیت طاہرین علیہم السلام سے محبت کرتے ہیں لہذا   ان کا کیمپ یا موکب    لگانا  زیادہ تعجب کی بات نہیں ہے لیکن عیسائی کہ جن کا دین ہی علیحدہ ہے وہ کیوں اس راہ میں ہاتھ بٹاتے اور قدم بڑھاتے ہیں؟  یہ ایک اہم سوال ہے ۔

انہوں نے کہا کہ  حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ اگر لوگوں تک ہمارے کلام کی خوبیاں پہنچ جائیں تو یقینا ہماری پیروی کریں گے۔   حجت الاسلام مروی نے کہا کہ    اس حدیث کا مطلب و مفہوم اربعین حسینی میں    اور اس پیدل مارچ میں پائے جانے والے  جوش و جذبہ  میں  دیکھا جاسکتا  ہے  ۔انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہيں کہ وہ لوگ بھی جو اسلام  پر اعتقاد نہيں رکھتے جب امام حسین علیہ السلا م کی معرفت حاصل کرلیتے ہيں تو  اہل بیت اطہار کے محب  بن جاتے ہيں۔  

آستان قدس رضوی کے متولی  حجت الاسلام مروی  نے اہل بیت اطہار علیھم السلام کی سیرت و کمالات کو متعارف کرانے کے لئے  ذرائع ابلاغ اور  فن سے    استفادے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر   ہم   امام حسین علیہ السلام کی تعلیمات، ان کے فضائل اور کمالات کو جیسا کہ حق ہے دنیا والوں تک پہنچانے اور روشناس کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہيں  تو یقین کیجئے کہ    دنیا کے ایک ایک گوشے سے لوگ جوق در جوق امام عالیمقام کی زیارت کے لئے یہاں آئيں گے   ۔

   
وزٹرز کی تعداد:31
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...