خبر
8/14/2019
عیدالاضحی انسانوں کو اللہ سے نزدیک ہونے کے لائق بنا دیتی  ہے، آیت اللہ علم الھدی

 
عیدالاضحی انسانوں کو اللہ سے نزدیک ہونے کے لائق بنا دیتی ہے، آیت اللہ علم الھدی

صوبۂ خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے نمازعیدالاضحی یا عید قربان کے اپنے خطبے میں کہا کہ عیدالاضحی یا عید قربان، امت اسلامیہ کی سب سے بڑی عیدوں میں سے ایک ہے اور یہ عید لقاءاللہ یعنی اللہ سے ملاقات اور قریب ہونے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا عرفہ  کے دن خدا کے بندے درگاہ الہی میں توبہ و استغفار کی توفیق حاصل کرتے ہیں اور عید قربان کے دن وہ لقاءاللہ کے لائق ہو جاتے ہیں۔

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ، نمازعیدالاضحی حرم مطہر رضوی میں    "آیت اللہ علم الھدی" کی امامت میں ادا کی گئی ۔ امام رضا (ع) کی ملکوتی بارگاہ میں  ہونے والی نمازعید الاضحی میں زائرین اور مجاورین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی  جبکہ مشہد کے مومن اور ولایت کے پیرو عوام کے جم غفیر نے بھی اس ملکوتی بارگاہ میں نمازعیدالاضحی میں شرکت کی اورعبودیت و بندگی کا خوبصورت جلوہ پیش کیا ۔ 

صوبہ خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے آیت اللہ سید احمد علم الہدی نے  کہا کہ قرآن میں جو "یوم مشہود" کا ذکر آیا ہے ، وہ دراصل یوم عرفہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہی دن ہے جس دن اللہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے ۔ اور اس کا صرف ایک مطلب ہے کہ یہ تمام بندگان خدا کے لئے عفو و بخشش کا دن ہے۔

مشہد کے امام جمعہ نے خطبہ نماز عیدالاضحی میں کہا کہ قرآن کریم نے  لقاءاللہ تک پہنچنے کے لئے ہمارے سامنے ایک نمونہ پیش کیا ہے اور وہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی وہ داستان ہے جس میں وہ اپنے فرزند اسماعیل (ع) کو امتحان الہی کے تحت   قربان گاہ میں لے جاتے ہیں اور وہ یہاں بھی اپنے دوسرے امتحانوں کی مانند سربلند اور سرخرو ہوتے ہيں

انھوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ  اپنے بیٹے کو فدا کردینا سب سے بڑا امتحان الہی ہے کہا کہ حضرت ابراہیم (ع) اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں بارہا الہی امتحانوں سے گزر چکے تھے لیکن بیٹے کی قربانی ان کا سب سے بڑا اور سخت ترین امتحان تھا، کیونکہ انسان اپنے مال اور اپنی جان سے درگزر کرسکتا ہے مگر بیٹے کو قربان کرنا بہت سخت مرحلہ ہوتا ہے ۔   

مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت اللہ علم الہدی نے کہا کہ حضرت اسماعیل (ع) نے بھی اس واقعہ میں رضائے الہی کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور جب ان دونوں نے رضائے الہی کے سامنے سرتسلیم کردیا تو اللہ نے بغیر کسی واسطے کے ابراہیم (ع) کو خطاب کیا اور اس طرح یہ عظیم پیغمبر مقام وصل  اور مقام لقاءاللہ کی بلندی تک پہنچ گئے۔  آیت اللہ علم الہدی نے نماز عیدالاضحی کے دوسرے خطبے میں معاشرے کے موجودہ معاشی مسائل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ سورۂ حج کی آیہ 36 میں جب اونٹ کی قربانی کا بیان کرتا ہے تو کہتا ہے کہ قربانی کے گوشت کو "قانع" اور"معتر" کو دو۔

انھوں نے کہا کہ قانع وہ ہے جو قناعت کرے  اور سختی کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہا ہو اور معتر اسے کہتے ہیں جسے اپنی زندگی کی ضرورتوں کے لئے معاشرے کے توانا افراد کی مدد کی ضرورت پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اس آیت میں دراصل ہمارے لئے معیشت کی ایک گتھی سلجھائی گئی ہے جس کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقے کے استحصال کو روکا گیا ہے۔  آیت اللہ علم الھدی  نے اپنے خطبے میں کہا کہ آج جب دشمن نے ہماری معیشت کو نشانہ بنا رکھا ہے، تو ہم اگر اس اسلامی اقتصادی راہنمائی پر توجہ کریں تو پھر ہم دشمن کی اس معاشی یلغار کا مقابلہ کرکے اس کے منصوبوں کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ 

انھوں نے یہ بھی کہا کہ آج اگر ہم دشمن کی اقتصادی پابندیوں کے پیش نظر    ملکی توانائیوں اور وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے اقتصادی رونق کو بحال کرنے کے تعلق سے رہبر انقلاب اسلامی کی ان راہنمائیوں پر توجہ دیں تو اس صورت میں معاشرے کا قانع طبقہ بھی اورمعتبر طبقہ بھی دونوں ہی اقتصادی اورمعاشی لحاظ سے خوشحال بن سکتا ہے  ۔ 

صوبہ خراسان رضوی میں ولی فقیہ کے نمائندے نے کہا کہ دشمن جو یہ سمجھ رہا ہے کہ معاشی مشکلات پیدا کرکے وہ ہمیں جھکا لے گا  اس کی ساری توجہ ہمارے معاشرے کے اسی قانع اور معتر طبقے کی طرف ہے کیونکہ وہ ان دونوں طبقوں کو مفلوج کردینا چاہتا ہے۔ لیکن رہبرانقلاب اسلامی کا اس بات پر یقین ہے کہ اقتصادی رونق یقینی طورپرمعاشرے کے کمزور افراد کی ضرورتوں کو پورا کردے گی۔

   
وزٹرز کی تعداد:60
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...