خبر
8/12/2019
  عراق کے شیعہ اور سنی  آئمہ جمعہ کی نشست میں ثقافتی استقامت کی اسٹریٹیجی کی تشریح

 
عراق کے شیعہ اور سنی آئمہ جمعہ کی نشست میں ثقافتی استقامت کی اسٹریٹیجی کی تشریح

آستان قدس رضوی کے اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کی جانب سے عراق کے شیعہ و سنی آئمہ جمعہ کے لئے ثقافتی استقامت کی اسٹریٹیجی کی وضاحت کی گئی 

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، آستان قدس رضوی کے بین الاقوامی امور کے ادارے کی ہم آہنگی سے عراق کے آٹھ  شیعہ اور 18 اہلسنت آئمہ جمعہ نے آستان قدس رضوی کے  اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کا دورہ کیا اس دورے کا نتیجہ ثقافتی استقامت کی حکمت عملی کی تشریح کی شکل میں سامنے آیا 
عراق کے شیعہ و سنی آئمہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے آستان قدس رضوی کے اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید محمود مرویان حسینی نے اس ادارے کی جانب سے  اتحاد و اتفاق کی تقویت کے لئے انجام دئے جانے والے اقدامات کی تشریح کرتے ہوئے کہا  کہ آستان قدس رضوی کا اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کتابوں کی طباعت و اشاعت اور تحقیقی و ثقافتی میدانوں میں استقامت کی اسٹریٹیجی کو عصر حاضرمیں تبلیغی سرگرمیوں کے لئے ضروری اور قابل عمل سمجھتا ہے   

انھوں نے شیعہ اور سنی آئمہ  جمعہ سے  کہا کہ علمی اور عام فہم تحقیق کے ساتھ ساتھ  قلم ہاتھ میں لیں  اور جوان نسل کی معلومات میں اضافے کے لئے قدم بڑھائیں اور  اپنی تحریرو تصنیف اور تالیف کو مختلف زبانوں میں ترجمے اور اشاعت کے لئے پیش کریں   ۔

عراق کے ایک اہلسنت عالم دین مولوی صارمی   نے  اس موقع پر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران   کے سفر سے پہلے میں صیہونیوں اور سلفیوں کے پروپیگنڈے سے متاثر تھا  اور یہ سمجھتا تھا کہ ایران میں  شاید ایک بھی اہلسنت کی مسجد موجود نہيں ہوگی ، مگر آج ہی مجھے معلوم ہوا ہے کہ صرف خراسان  میں  ہی  اہل سنت کی سینکڑوں   مساجد   ہیں اور صرف مشہد شہر میں اہلسنت کی پانچ الگ الگ جمعہ کی نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔

ایران کے شہر تربت جام کے اہلسنت کے امام جمعہ نے بھی اس موقع پر اپنے خطاب  میں کہا کہ ہمیں  اسلامی جمہوریہ ایران میں رہنے پر فخر ہے  اور چونکہ اہلسنت زیادہ تر سرحدی علاقوں میں بستے ہیں، اس لئے اس اسلامی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہم اپنا فریضہ   سمجھتے ہیں۔ 

 انھوں نے مزید کہا کہ خراسان کے علاقے میں اہلسنت کے مدارس کی تعداد   اسلامی انقلاب  سے پہلے صرف 7 مدرسوں تک محدود تھی، وہ بھی صرف سنی طلبا کے لئے تھی۔ جبکہ اب  اسلامی انقلاب  کی کامیابی کے بعد یہ تعداد 30 تک پہنچ چکی ہے اور اس وقت 3000 سے زیادہ اہلسنت کے طلبا  ان مدارس میں علم دین حاصل کررہے ہیں اور ان میں طلبا اور طالبات دونوں ہی شامل ہيں۔ انہوں نے کہا  ان سب کو   علم دین کے حصول  میں وہی سہولتیں اور حمایتیں حاصل ہیں جو شیعہ دینی طالب علموں کو حاصل ہوتی ہیں   

   
وزٹرز کی تعداد:55
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...