خبر
7/12/2019
مختلف سماجی شعبوں میں سرگرم عمل رہنے کے باوجود   خواتین کی  عزت و قارکا  تحفظ   اسلام کا زندہ معجزہ ہے

 
مختلف سماجی شعبوں میں سرگرم عمل رہنے کے باوجود خواتین کی عزت و قارکا تحفظ اسلام کا زندہ معجزہ ہے

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛  چوتھے عالمی گوہر شاد  ایوارڈ   کی اختتامی تقریب حرم مطہر رضوی کے قدس ہال میں منعقد ہوئی جس میں آستان قدس رضوی کے متولی  حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے  خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ ایک ایسے وقت  جب  آج    مغربی دنیا ’’ خواتین  کی آزادی‘‘ کا نعرہ لگا رہی ہے    عورتوں کے حقوق  کی پامالی اور ان کے استحصال کی    بدترین مثالیں مغربی ممالک  میں دیکھنے کو ملتی ہیں   ۔  انہوں نے کہا کہ مغربی  دنیا نے عورت کے حقوق اور آزادی کا  ظاہری اور فریبی نعرہ لگا  کر    عورت   کو  جنسی برائی  کے مرکز  اور   بے وقعت  شخصیت میں تبدیل کردیا ہے    

 حجت الاسلام مروی  نے قرآن و اسلام میں بیان کئے گئے   خواتین کے   حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خداوند متعال قرآن کریم کی سورہ نساء میں ارشاد فرماتا ہے : «یا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ واحِدَةٍ وَ خَلَقَ مِنْها زَوْجَها»؛(اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑا  پیدا کیا )انہوں نے کہا کہ قرآن کریم  میں عورت اور مردکی حقیقت کی بہترین تعریف اور تعبیر اسی آیہ شریفہ میں بیان ہوئی ہے جس میں  قرآن کریم دونوں کی خلقت کو ایک نفس(جان) سے بتا رہا ہے۔

آستان قدس رضوی کے متولی نے اس بات پر  زور دیتے ہوئے کہ مختلف سماجی شعبوں میں سرگرم   رہنے کےباوجود   خواتین کی  عزت و قارکا  تحفظ   اسلام کا زندہ معجزہ ہے کہا کہ    اسلام نے جس طرح سے عورتوں کو حجاب و عفاف کی تعلیم دی ہے اسی طرح انہیں دینی و سماجی میدان میں سرگرم عمل رہنے کی بھی دعوت بھی دی ہے جس کی مثال  حج ہے جو    سیاسی،عبادی اور  ثقافتی پہلوؤں کا حامل   عظیم اجتماع ہے ۔ 

حجت الاسلام والمسلمین مروی نے   کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کا خطبہ فدکیہ دینا، حضرت زینب کبریٰ (س) کا دشمنوں  کو  لرزہ   براندام کردینے والا  خطبہ      اور   اس خطبے میں ظالموں و  جابر حکمرانوں  کی کھل کر    مذمت سے    بخوبی     پتہ چلتا ہے کہ  سیاسی اور سماجی میدانوں میں خواتین کا کردار کس قدر موثر  ہے 

انہوں نے اس عالمی ایوارڈ کا نام   گوہر شاد کے نام پر  رکھنے کی تعریف  کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم خاتون کی زندگی کے مختلف پہلو   ہمارے لئے اب بھی ناشناختہ ہیں اور ہم میں سے زیادہ   تر  انہیں فقط  ایک شہزادی   اور بادشاہ کی بیوی  کی حیثيت  سے جانتے ہیں جنہوں نے اپنے  مال  و دولت کا    ایک حصہ مسجد کو بنانے پر صرف کر دیا۔ 

حجت الاسلام  مروی نے  مرحومہ گوہرشاد  کی زندگي اور حیات پر اسلام اور مکتب اہلبیت(ع) کی تعلیمات کے اثرات  کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ   تیموری   شاہی خاندان کو  جو   تہذیب و تمدن کو اجاڑنے   میں  بدنام     تھا      اور  قتل و غارت گری  جس کا شعار بن  چکا تھا   بانو گوہر شاد    اسے صحیح انسانی راستے پر لے آئیں  اور تیموری شاہی خاندان کو علم دوست اورمذہب کا پابند بنادیا    اور یہ اسلام کا ہی معجزہ ہے 

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا  کہ اگرچہ ظاہری و جسمانی طور پر پیغمبر گرامی اسلام(ص)، حضرت علی(ع) اور حضرت فاطمہ زہرا(س)  ہمارے درمیان نہیں  ہيں   لیکن حضرات معصومین (ع) کے افکار و نظریات اورتعلیمات و  فرامین  کا دائرہ بہت ہی وسیع انداز میں پھیلا ہوا ہے اور   ہم آج بھی حضرات معصومین(ع) کی تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے دنیا    و آخرت  کی فلاح و سعادت حاصل کرسکتے ہيں ۔ 
   
وزٹرز کی تعداد:118
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...