خبر
7/12/2019
چوتھے عالمی گوہرشاد ایوارڈ کے   لئے  آٹھ ممتاز مسلم خواتین کا  انتخاب

 
چوتھے عالمی گوہرشاد ایوارڈ کے لئے آٹھ ممتاز مسلم خواتین کا انتخاب

حرم مطہر رضوی کے قدس ہال میں چوتھے عالمی  گوہرشاد  ایوارڈ کی اختتامی تقریب کا انعقاد کیا گیا  ،اس دوران اس فیسٹیول کے آٹھ نکات کو معیار قرار دیتے ہوئے   جس میں ایثار و شہادت, استقامت و بیداری اسلامی، ثقافتی امور و ذرائع ابلاغ ،وقف اور خیراتی و فلاحی امور، امور صحت  عامہ و طب ، تعمیرات  وشہری ترقی  و منیجمنٹ کی خدمات،علمی تحقیقی و تعلیمی امور اور مدیریت وصنعت  شامل ہیں ؛ آٹھ  ممتاز مسلم     ایرانی و غیر ملکی  خواتین کا انتخاب کیا گیا۔ 

محترمہ یاسمین حسنات جن کا تعلق افغانستان سے ہے  اپنے   تاثرات  بیان  کرتے ہوئے  کہتی ہیں کہ آج کے دور میں مسلم خواتین اسلامی معاشرے کی حقیقی مدافع ہیں اور مختلف تعلیمی شعبوں، ایثاروفداکاری اور شہادت کے میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ قدم آگے  بڑھا رہی ہیں  اور   پیغمبر اسلام کی اصل تعلیمات  اور حضرت امام خمینی(رہ) کے افکار و نظریات   کی پیروی کرتے ہوئے  بیداری   اور دینی ، سیاسی اور سماجی  آگہی و بصیرت  کی حامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج میں افغانستان کے مظلوم عوام اور خاص طور پر ملک کی  صابرہ    اور بہادر خواتین کی نمائندگی میں اس تقریب میں شریک ہوئی ہوں اور اس عالمی ایوارڈکو حاصل کرنےپر اپنے آپ کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی خادمہ  سمجھتی ہوں اور اسی وجہ سے میں سمجھتی ہوں کہ میری ذمہ داری پہلے سے کئی گنا زیادہ سنگین اور بڑ ھ  گئی ہے ۔ 

محترمہ سیدہ اعظم حسینی جو کہ ’’ دا‘‘ نامی کتاب کی مؤلفہ بھی ہیں کہتی ہیں کہ یقیناً  محنتی اور توانا خواتین کی زندگی کے مطالعہ سے ہمیں مزید ہمت و حوصلہ ملتا ہے اور اس سے  اپنے راستے اور مقصد کو جاری رکھنے میں ہماری مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے کیونکہ یہ خواتین  اسلامی آداب اور خواتین سے متعلق  تمام شرعی  احکامات  کی رعایت  کرتے ہوئے ایسے مقام پر پہنچی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کتاب ’’دا‘‘ ۱۵۷ بار پانچ زبانوں عربی، انگریزی، اردو،بوسنیائی اور ترکی استنبولی میں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہے  اور اس سے یہ ثابت  ہوتاہے کہ لوگ دفاع مقدس  اور جنگ کے واقعات  کو پڑھنے اور جاننے میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں 
محترمہ سیدہ رباب زیدی جن کا تعلق ہندوستان کے شہر لکھنو سے ہے کہتی ہیں کہ بہت سارے یورپی   ممالک جو اس وقت حقوق نسواں اور خواتین کی آزادی کا   نعرہ لگا رہے ہیں عملی طور پر یہی ممالک خواتین کے حقوق کو پائمال کر رہے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مدارس اور یونیورسٹیوں  میں تقاریر، دینی علوم کی تدریس ،بچوں کو قرآن کی تعلیم،طالبات کے لئے ہاسٹل کی تأسیس،محرم الحرام کی عزاداری کے لئے مجالس عزاء کے انعقاد اور قرآنی علوم میں سرگرمیوں کی وجہ سے   مجھے عالمی گوہر شاد  ایوارڈ کے لئے  منتخب کیا گیا     ۔  میں اس ایوارڈ کو حاصل کرنے پر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے مجھے اس ایوارڈ کے قابل سمجھا اور میں اس  چیز کو    اس بات کی نشانی سمجھتی ہوں کہ  امام کی نظر کرم  مجھ پر بھی ہے   ۔

محترمہ فاطمہ حقیر السادات جو کہ عالمی گوہر شاد    ایوارڈ کے لئے منتخب ہوئی  ہیں  اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ نانو بائیو ٹیکنالوجی کے مضمون میں ڈاکٹر یٹ حاصل کرنے والے پہلے گروپ کی رکن ہيں ۔  انہوں نے بتایا کہ امریکہ اور ہالینڈ کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم  ہے   جو کہ کینسر کے علاج کے لئے  کام کررہی  ہے اور  مجھے بھی اس کے ساتھ  کام کے لئے انتخاب کیا گیا    اور میری اس گروپ میں شرکت کی واحد شرط یہ تھی کہ میں حجاب میں رہوں گی۔ 

ان کا کہنا تھا کہ بہت سارے ملکوں سے مجھے ریسرچ اور کام کے لئے دعوت دی گئی لیکن میں نے سب کو منفی جواب دیا کیونکہ میں اپنےملک کے  عوام کے لئے کام کرنا     زیادہ پسند کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ میری تمام تر تحقیقات اسلامی جمہوریہ ایران کے نام پر رجسٹرڈ ہوں۔ 

عالمی گوہر شاد  ایوارڈ   کے لئے ایک اور منتخب   خاتون محترمہ شہناز عبادانی   کہتی ہیں کہ میں اس تقریب کے دوران ایسی خواتین  سے آشنا ہوئی جو مختلف سماجی و ثقافتی شعبوں میں سرگرم ہیں اور ہمارے درمیان بہت اچھے اور دوستانہ روابط قائم  ہوئے ہیں اور یہ آشنائی ہمارے لئے بہت ساری برکات کا سرچشمہ بن سکتی ہے۔ 

یہ خاتون جو کہ تہران میں واقع  فلاحی ادارہ ’’محدث‘‘(ثامن الائمہ اسکولی  طلباء کی حمایت  کا  ادارہ  )  کی سربراہ ہیں  کہتی ہیں کہ یہ فاؤنڈیشن جو کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے نام  سے مزیّن ہے کم آمدنی والے  ،غریب اور بے سرپرست طلباء کی سرپرستی اور مدد  کررہا ہے ۔ 

محترمہ ھلا (رخسارہ) کی ٹی جن کا تعلق میانمار سے ہے کہتی ہیں کہ اب تک بیس تحقیقی مقالے اسلام شناسی اور قرآنی موضوعات پر لکھ   چکی ہوں اور پروردگار کے لطف و کرم سے حضرت امام سجاد علیہ السلام کی گرانقدر کتاب صحیفہ سجادیہ کو میانماری زبان میں ترجمہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہوں۔

 محترمہ ھلا کہتی ہیں وہ پہلے عیسائی تھیں اور خداوند متعال کی عنایات سے ۱۸ سال قبل دین مبین اسلام سے مشرف ہوئی ہوں  ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام   دین  آزادی و تفکر   ہے  اور  دین اسلام انسانی زندگی کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کی توانائي رکھتا ہے اور ان پر توجہ دیتا ہے  - میانمار سے تعلق رکھنے والی  خاتون محترمہ ھلا کہتی  ہیں کہ    خدا وند متعال کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں نے  حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے جوار میں الہی معارف و تعلیمات حاصل کی ہیں۔

محترمہ ڈاکٹر  نفیسہ ثقفی  نے اس تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعہ  بانو گوہر شادکو ایک مخیر اور نیک سیرت انسان کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے ۔

محترمہ ثقفی کو  جنہیں اس تقریب  میں میڈیکل کے شعبہ میں سائنسی  اور انسان دوستانہ خدمات اور فرائض  انجام دینے کی وجہ سے منتخب کیا گيا   کہتی ہیں کہ میں اس انتخاب پر زیادہ خوش ہونے کی بجائے ذمہ داری بڑھ جانے کا زیادہ احساس کر رہی ہوں کیونکہ میری ذمہ داری پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ، انشاء اللہ زیادہ سے زیادہ  خدمات انجام دے کر     اس فیسٹیول  کے حقیقی اہداف و مقاصد کو عملی جامعہ پہنانے کی کوشش کروں گی۔ 

محترمہ زینب عیسی  جو کہ  نا ئیجیریا   کی خواتین کے استقامتی محاذکی سرگرم  رکن ہیں کہتی ہیں کہ میں اپنے آپ کو انقلابی و مومن اور باصلاحیت  خواتین  کے درمیان   پا کر بہت زیادہ خوشی محسوس کر رہی ہوں، ایسی خواتین جو ہر لحاظ سے مسلم خواتین کے لئے ایک نمونہ ہیں    اور  معاشرے پر  بہتر  ین   اثرات مرتب کرسکتی ہیں ۔

چھ شہیدوں کی ماں اورشہید  کی  بیوہ اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں کہ پیغمبر گرامی اسلام (ص) نے حضرت امام علی رضا علیہ کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے :’’کوئي بھی   پریشان حال انسان جب آپ (ع) کی زیارت سے مشرف ہو گا تو خداوند متعال اس کی پریشانی کو ختم کردے گا     اورہر گنہگار  جوآپ کی زیارت کو آئے گا خداوند متعال اس کے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔ 
   
وزٹرز کی تعداد:37
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...