خبر
7/11/2019
چوتھا   عالمی گوہر شاد  ایوارڈ  حاصل  کرنے  والی خواتین  کے نامو ں کا      اعلان

 
چوتھا عالمی گوہر شاد ایوارڈ حاصل کرنے والی خواتین کے نامو ں کا اعلان

عشرہ کرامت کے ساتویں دن  چوتھا عالمی  گوہر شاد  ایوارڈ  فیسٹیول  منعقد ہوا جس میں  عالمی  گوہرشاد ایوارڈ کی حقدار اور  اس ایوارڈ کے لئے منتخب  قرار پانے والی خواتین کے ناموں کا اعلان کیا گیا  

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق عالمی گوہر شاد ایوارڈ کی تقسیم  کی تقریب اور فیسٹیول کا انعقاد حرم  مطہر رضوی کے قدس ہال میں کیا گیا  ۔ اس  ایوارڈ کے لئے  نامزد    غیرملکی م   خواتین میں سے   ہندوستان کے شہر لکھنو کے   جامعہ الزہراء کی  پرنسپل  محترمہ رباب زیدی،افغانستان کی  انقلابی اور مجاہد  خاتون محترمہ یاسمین حسنات،نائیجیریا سے چھےشہیدوں کی ماں اور شہید کی بیوہ   محترمہ زینب عیسیٰ اور میانمار سے نو مسلم خاتون  اور  صحیفہ سجادیہ کی مترجم   محترمہ ھلا(رخسار) کی ٹی   کو  منتخب اور انہیں ایوارڈ سے نوازا گيا    ۔  اس کے علاوہ ایران سے جن  خواتین کو منتخب کیا گیا ہے   وہ   فلاحی ادارے محدث کی منیجنگ ڈائریکٹر اور واقف محترمہ شہناز عبادانی،مصنفہ اور محقق محترمہ سیدہ اعظم حسینی، نانو ٹیکنالوجی اور نالج بیسڈ شعبوں میں سرگرم    خاتون محترمہ بی بی فاطمہ حقیرالسادات   ، طب اور میڈیکل کے شعبے میں سرگرم  خاتون  ڈاکٹر محترمہ نفیسہ ثقفی  ہیں جنھیں عالمی گوہرشاد ایوارڈ سے نواز ا  گیا   

تقریب کے دوران عالمی  گوہر شاد ایوارڈ  کے سیکرٹری نے اس ایوارڈ سے متعلق  آفس کے اقداما ت  اور کارکردگي پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد آستان قدس رضوی جیسی   عظیم    ارگنائزیشن میں پائے جانے والے وسال و ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے    حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے زیر سایہ اور آپ کے خادم کی حیثیت سے  قرآن اور مکتب اہلبیت (ع) کی  تعلیمات کی ترویج و تبلیغ  کے ساتھ ساتھ ثقافتی میدان میں فلاحی اور نیک کاموں کے لئے تحریک چلانے کے ہدف و مقصد سے پوری دنیا میں سے  مخیر اور ممتاز خواتین  کو منتخب کر کے ان کی حوصلہ افزائی اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے جس کے لئے ہر سال ایران اور بیرون ملک   سے  آٹھ ممتاز اور مخیر  خواتین کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔ 

 علی سروری نے   کہا کہ ایوارڈ کے لئے منتخب ہونے والی شخصیات مخیّر،نیک سیرت، علم دوست،دین دار، واقف اور اعلی مدیر   ہیں   جنہوں نے نہ فقط حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے نورانی حرم مطہر کے لئے اپنی املاک و جائیداد وقف کیں     بلکہ مذہبی ، ثقافتی اور سماجی میدانوں میں   بھی بہترین اور تمدن ساز اقدامات انجام دیئے ہیں۔  

انہوں نے بتایا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نورانی بارگاہ میں واقع مسجد گوہر شاد ایک تاریخی اور چھ سو سالہ پرانی مسجد ہے جس نے تاریخ کے بہت سارے حالات اور واقعات  کو اپنے دامن میں سمیٹ رکھا ہے    اور بہت ساری عظیم دینی شخصیات نے اس مقدس مقام  میں معارف الہیٰ کی تدریس و تبلیغ  دین  انجام دی ہے، یہ تمام اقدامات اس نیک سیرت ، محب اہلبیت(ع) ، مخلص اور فدکارخاتون  یعنی مرحومہ گوہر شاد  کی وجہ سے ممکن ہوئے۔ 
عالمی  گوہر شاد ایوارڈ  کے سیکرٹری  سروری  نے  کہا کہ عالمی  گوہر شاد ایوارڈ  فقط وقف کے موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام فلاحی و نیک کاموں کو شامل ہوتا ہے  ان کا کہنا تھا  کہ اس فیسٹیول کے ایوارڈ کے لئے منتخب کرنے کے لئے آٹھ نکات معیار قراردیا گیا   ہے جو کہ ایثارو شہادت، استقامت و بیداری اسلامی، ثقافتی امور و ذرائع ابلاغ ،وقف اور خیراتی و فلاحی امور، امور صحت  عامہ و طب ، تعمیرات  وشہری ترقی  و منیجمنٹ کی خدمات،علمی تحقیقی و تعلیمی امور اور مدیریت وصنعت پر مشتمل ہیں۔

 انہوں نے اس ایوارڈ کے دفتر کے دیگر   اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے میں سائبر اسپیس میں سرگرمی و اقدامات ،مختلف ملکی و غیرملکی تنظیموں کے ساتھ تعاون اور تیسری شب شعر کا انعقاد شامل ہیں ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں عالمی   گوہر شاد ایوارڈ     کا  ایک  زیرغور  منصوبہ   نیکوکار  اور تبلیغی   امور نیز   میڈیا میں    سرگرم خواتین کے لئے عالمی نیٹ ورک کی تأسیس ہےجس کے لئے  اطلاعات و معلومات کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے اور ہم  امید کرتے ہیں کہ اس  سائٹ کے ذریعہ ان نیک سیرت اور واقف خواتین کو متعارف کرانے  سے ان کی مزید حوصلہ افزائی ہو گی  اور میڈیا ذرائع اور دانشوروں سےکے تعاون  سے  آستان قدس رضوی کے بارے میں رہبر  انقلاب  اسلامی  کے بیان کردہ منشور کی شقوں پر  اور خاص طور پر قرآن اور اہلبیت اطہار علیھم السلام کی تعلیمات کی ترویج سے متعلق  آپ کی تاکید اور ہدایات پرپوری طرح سے عمل کیا جاسکے گا ۔ 
   
وزٹرز کی تعداد:196
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...