خبر
6/27/2019
حرم مطہر کی انتظامیہ کو اسلامی نظام میں ایک نمونہ ہونا چاہئے، نائب متولی آستان قدس رضوی

 
حرم مطہر کی انتظامیہ کو اسلامی نظام میں ایک نمونہ ہونا چاہئے، نائب متولی آستان قدس رضوی

آستان قدس رضوی کے نائب متولی مصطفی خاکسار قہرودی نے آستان قدس کے ادارہ اماکن متبرکہ اور امورزائرین کے کارکنوں اور خدام سے خطاب کے دوران  اسلامی نظام میں ایک مثالی ادارے میں تبدیل ہونے کے لئے حرم مطہر کی انتظامیہ کی اسٹریٹیجی کی وضاحت کی

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ، آستان قدس رضوی کے نائب متولی مصطفی خاکسار قہرودی نے کہا  کہ اس بارگاہ منور میں ہمارا سب سے بڑا افتخار یہ ہے کہ امام رضا (ع) کے زائرین کی بے لوث اور خالصانہ خدمت  کے لئے خود کو وقف کردیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا افتخاریہ ہونا چاہئے کہ ہم زائرین کی خدمت اور ان کے لئے سہولتیں فراہم کرنے کی راہ میں اپنے آرام و سکون کو بھی قربان کردیں   

انہوں نے کہا کہ  آستان قدس رضوی عوام سے متعلق ہے؛ اس آستانہ کا بجٹ ، موقوفات اور عوام کے ںذرانے کے پیسوں سے حاصل ہوتا ہے اور ہم لوگ زائرین حضرت امام رضا (ع) کے نوکر ہیں ، اس لئے ہمیں نوکری کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے ۔

٭ حسن خلق اور خندہ پیشانی خدام رضوی کی شناخت ہونی چاہئے
خاکسار قہرودی نے کہا کہ خدام کو حرم مطہر کے اندر نظم و ضبط کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ، زائرین کے ساتھ پیش آتے  وقت احترام، خندہ پیشانی، نرم گفتاری اور ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے اور اس عمل کو اپنا وطیرہ بنانا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ مہر و محبت آ‎ستان قدس رضوی میں خدمت کا بنیادی اصول ہے  یہ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے آقا کے زائروں کے خادم ہیں جن کا عمل وگفتار ، مہربانیوں اور شفقتوں کی جلوہ گاہ اور مظہر تھی ۔

آستان قدس کے نائب متولی نے کہا کہ خدمت کی ان شرائط کے ساتھ کوئی بھی خادم اگر کسی دن کسی بھی وجہ سے  خدمت کا حوصلہ خود میں نہ پاتا ہو تو اسے کسی بھی قیمت پر اپنی ڈیوٹی پر نہیں ہونا چاہئے اور خادموں کی مینیجمنٹ کو بھی چاہئے کہ ایسے خدام کے ساتھ اس دن  تعاون کرے۔ 

٭ جوش و جذبہ اور مجاہدانہ سرگرمیاں ، تمام امور کے ارتقاء کے لئے ضروری ہیں
خاکسار قہرودی نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ آستان قدس رضوی کے کارکنوں کو انقلابی اور جہادی جذبے سے سرشار ہونا چاہئے تاکہ تمام امور بہتر طریقے سے انجام پائیں۔ انھوں نے مجاہدانہ اور انقلابی امور کو قرب الہی کی نیت   اور مہارت و تجربے کے ساتھ  انجام دینے پر زور دیا اور کہا : ہم اس ملک ، انقلاب اور اس مقدس بارگاہ کے مرہون منت ہیں اور اس ضمن میں ہمارے پاس بے شمار دلائل ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارا وہ پیارا، کسی دیہات کا زائر ، جس نے اپنے جوان فرزند کو ہمارے امن و سکون کی خاطر محاذ پر بھیجا تھا اور پھر وہ جوان شہید ہوگیا ، تو ہم اس شخص کے  احسان مند ہيں؛ اگر یہ افغانی اور پاکستانی برادران، یہ مدافعین حرم نہ ہوتے تو ہم آج یہاں اس چین و سکون کی فضا میں نہ ہوتے۔ 

٭ اسراف سے پرہیز، خواہ مقدار کتنی ہی کم کیوں نہ ہو
خاکسار قہرودی نے  کہا کہ: آستان  قدس رضوی کے تمام اثاثے اور جائدادیں موقوفہ ہیں اور جیسا کہ آستان  قدس رضوی کے متولی نے بارہا تاکید کی ہے، ہر اس کام سے جو اسراف کے لحاظ سے خواہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ کہا جائے ، اس سے بہت سنجیدگی کے ساتھ پرہیز کیا جائے۔

خاکسار قہرودی نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ جب بھی یہاں کے امور کو انجام دیا جائے تو اس کو انجام دینے ميں سستی نہ کریں ، آسان راستے کا انتخاب نہ کریں اورنہ ہی اپنے ذاتی مفادت کو مدنظر رکھیں بلکہ ہماری ترجیح یہ ہو کہ زائروں کو کہاں فائدہ پہنچے گا اور کام کا اختتام کتنے اچھے طریقے سے ہو گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا  کہ زائرین کی بہترین خدمت  اور ہمیشہ تمام کاموں میں اصلاح و بہبود کے جذبے کے ساتھ بروقت کام کو انجام دینے کی کوشش کریں۔ اس سلسلے میں اپنی غلطیوں کی اصلاح اور مثبت کاموں کی تقویت کو بھی نظر میں رکھیں  اور مستقل طور پر یہ بنیادی سوال خود سے کیا کریں کہ آیا اس کام کو اس سے بہتر طریقے سے بھی انجام دیا جاسکتا ہے؟

٭ دفتروں کے   کارکنوں کی آپس میں ہمدلی، اور تعاون
آستان  قدس رضوی کے نائب متولی نے دفتروں کے کارکنوں کے کسی بھی ادارے کی ترقی میں اہم کردار کی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اقدام یا منصوبہ بغیر مشترکہ افہام و تفہیم، ایک دوسرے کی تقویت، امداد باہمی کے جذبے اور سارے کارکنوں کے باہمی تعاون کے بغیر، اس آستان  قدس میں بطور احسن انجام نہیں پا سکتا۔  ہر قسم کی ہمراہی اور تعاون، اعلی پیشرفت و ترقی کی ضامن ہے۔  انہوں نے کہا کہ البتہ میرا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہمارے یہاں کے منصوبوں  اور ان کے نفاذ  کے سلسلے میں کسی قسم کی غیر سنجیدگی یا کوتاہی کی  جا رہی ہے۔

٭ آستان قدس کو ایک نمونہ ہونا چاہئے
آستان قدس کے نائب متولی خاکسار قہرودی نے رہبر انقلاب اسلامی کی اس تقریر کی جانب اشارہ کیا جس میں انھوں نے فرمایا تھا "آستان فدس رضوی کو ایک آئيڈیل اورنمونہ  ہونا چاہئے"۔  انھوں نے کہا کہ ہم یہ نمونہ بنا کر پیش کر ہی نہیں سکتے مگریہ کہ اس مقدس بارگاہ کے تمام خدام اور دوسرے کارکنان اپنے  اخلاق، رفتار و کردار و گفتار کو افکار و سیرت امام رضا (ع)  سے پوری طرح آراستہ کرلیں  
وزٹرز کی تعداد:67
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...