خبر
6/2/2019
  قرآن کریم کے میوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے اور سب چھوٹے، قرآن پاک کے خطی نسخوں  کی نمائش

 
قرآن کریم کے میوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے اور سب چھوٹے، قرآن پاک کے خطی نسخوں کی نمائش

 امام رضا (ع)  کے حرم مطہر کے فرآن کریم کے میوزیم میں دنیا کے سب سے بڑے اور سب چھوٹے، قرآن پاک کے خطی نسخوں کی نمائش کو دیکھنے کے لئے شائقین کا سیلاب امڈا ہے   

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کا سب سے چھوٹا اور سب سے بڑا ‍قرآن ، آستان  قدس رضوی کے خطی نسخوں والے ‍قرآن پاک کے گنجینہ میں موجود  ہے۔ آسمانی کتب کے اس عظیم  ذخیرے یا گنجینہ میں 20 ہزار قرآن کریم کے نسخے، قرآنی جزوات اور ہاتھ سے لکھے ہوئے قرآنی نسخے رکھے ہوئے ہیں  

دنیا کے موجودہ سب سے بڑے قرآن کو "بایسنغری ‍قرآن" کے نام سے موسوم کیا گيا ہے اور اس کی خطاطی کو عجائبات دنیا میں سے سجھا جاتا ہے۔ اسے آستان قدس رضوی کے قرآن کے میوزیم میں نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ قرآن کے اس  نسخے کو خوبصورت "محقق" رسم الخط میں بایسنغر بن شاہرخ گورکانی نے "خان بالغ"  نامی چینی کاغذ پر لکھا تھا ۔ اس کاغذ کا طول 177 سینٹی میٹر اور عرض 101 سینٹی میٹر ہے اور اس وقت اس کے 70 ورق دنیا میں موجود ہیں ۔ جن میں سے 57 ورق آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانے کے ہاتھ سے لکھی کتابوں والے حصّے میں اور آٹھ ورق آستان قدس رضوی کے میوزیم میں رکھے ہوئے ہیں ۔

اسی طرح طومار کی شکل کے قرآنی نسخے بھی ہیں جو 7 سینٹی میٹر چوڑے نخودی کاغذ (ایران کا بنا ہوا دستی کاغذ)  پر "نسخ خفی" اور"مختلف السطر" رسم الخط میں لکھے گئے ہیں ۔ یہ سب اپنی جگہ پر بے نظیر ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ بڑی تعداد میں  ایسے قرآن اور قرآن کے پارے انتہائی نفیس رسم الخط میں آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانے میں موجود ہیں جو رسم الخط ، تذہیب ، قدامت ، تعداد اور کچھ دوسری  بے مثل خصوصیات کی بنا پر اسلامی ہنر کے شاہکار کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ماہ نزول قرآن کی مناسبت سے اس گرانقدر مجموعے سے 100 سے زیادہ قرآنی نسخوں کو نکال کر نمایش کے لئے رکھا گیا ہے۔

اس مجموعے کے قرانی نسخوں میں سب سے زیادہ اہم وہ نسخے ہیں جو آئمہ اطہارعلیھم السلام سے منسوب ہیں اور ہرن کی کھال پر ابتدائی کوفی رسم الخط میں تحریر کئے گئے ہیں ۔ ان میں سے ایک قرآن حضرت علی علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں کا تحریر کردہ ہے۔

اس درمیان بعض قرآن جو نمایش کے لئے رکھے گئے ہیں ان میں پتھر اور لکڑی وغیرہ  پر خاص ہنر نمائی کی گئ ہے ان میں سے ایک  مکمل قرآنی نسخہ ایسا ہے جو سن 2008 میں  سیلیکون کے ایک ٹکڑے پر نینو ٹکنولوجی کے ذریعے چھپا ہے اور اس ٹکڑے کا سائز 10 بائی 18 میلی میٹر ہے ۔ اسی طرح ایک اور نسخہ ایسا ہے جس کے صفحات پتھرکی جنس کے ہیں اور وہ خط ثلث میں لکھا گیا ہے ۔ اس قرآن کی جلد چمڑے کی ہے۔

اور آخر میں یہ بھی بتاتے چلیں کہ 23 ہزار سے زیادہ قرانی نسخے جن میں ہاتھ سے لکھے ہوئے مکمل قرآن ، قرآن کے پارے اور چاپ سنگي یا لیتھو گرافی میں شاندار قرآن شامل ہیں ، آستان قدس رضوی کے گنجینۂ قرآن نامی حصے میں انتہائی حفاظت سے رکھے ہوئے ہیں ۔


   
وزٹرز کی تعداد:99
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...