خبر
5/22/2019
دین اسلام کی انٹرنیٹ کے ذریعہ تبلیغ و ترویج کی ضرورت ہے، پروفیسر تاراس چرنیینکو

 
دین اسلام کی انٹرنیٹ کے ذریعہ تبلیغ و ترویج کی ضرورت ہے، پروفیسر تاراس چرنیینکو

روس کے معروف پروفیسر اور روسی زبان میں نہج البلاغہ کے مترجم تاراس چرنیینکو نے کہا ہے  دین اسلام کی انٹرنیٹ  اور سائبر  اسپیس کے ذریعہ تبلیغ و ترویج کی ضرورت  ہے 

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ، پروفیسر تاراس چرنیینکو حضرت امام علی رضا علیہ السلام ٹی وی کے "ضیافت الرحمان" پروگرام میں مہمان تھے  انہوں نے اس پروگرام میں  اپنے انٹرویو کے دوران  دین اسلام کی تبلیغ و ترویج میں امام رضا علیہ السلام سیٹلائٹ  ٹی وی جیسے میڈیا کے کردار کی طرف اشارہ کیا  اور کہا کہ  حضرت امام علی رضا  سیٹلائٹ ٹی وی کے پروگرام  اکثر اسلامی ممالک میں نشر ہوتے ہیں کہ جو بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں   تاہم   میری نظر میں دین اسلام کی تبلیغ سیٹلائٹ چینلوں سے زیادہ ملٹی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعہ زیادہ  سے زیادہ انجام پانی چاہئے  اس لیے کہ آج کل کی دنیا کی اس طرف زیادہ توجہ ہے ۔

چرنیینکو نے اپنی گفتگو کے دوران اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں  بھی         بتایا اور کہا کہ   میں دنیا کے تمام ادیان کی تحقیق کرنے کےبعد اس نتیجے پر پہنچا  کہ اسلامی اعتقادات میرے نفسیاتی ، ذاتی  اور فطری اعتقادات سے بہت زیادہ قریب ہیں  اس سلسلے میں، میں نے توریت ، انجیل اورسرانجام  قرآن کریم کا مطالعہ کیا  اور حقیقت میں میرے مسلمان ہونے میں کوئی معجزہ رونما نہیں ہوا بلکہ میں اپنے  مطالعہ و تحقیق کے سبب  مسلمان ہواہوں ۔
چرنیینکو نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اب تک کسی کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی ہے ؟ ، کہا: جی ہاں ، میرے  بہت سے دوست   ایسے ہی کہ جن کے اندر  میں نے یا   تو    اسلام سے رغبت پیدا کردی ہے یا وہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ  میرا    ایک دوست کہ جس کا ایک مذہب میں اپنا خاص مقام تھا وہ  بھی    اب مسلمان ہوچکا ہے ۔

روسی زبان میں نہج البلاغہ کے مترجم نے دین اسلام کی تبلیغ کی اہمیت کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میں نے بینکنگ، انجینیرنگ، عربی ادبیات اور زبان شناسی میں تعلیم حاصل کی ہے اور اس وقت دنیا کی مختلف مروجہ  زبانوں پر عبور رکھتا ہوں، خاص طور پر اس زمانے میں کہ جب ماسکو  میں دو اسلامی بینکوں کا سربراہ تھا  تو اس وقت مختلف زبانوں میں دین اسلام کی تبلیغ انجام دیتا تھا ۔

   
وزٹرز کی تعداد:33
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...