خبر
1/12/2019
فرانسیسی عیسائی کارڈینال کی نظر میں دینی تربیت کے اہم نکات

 
فرانسیسی عیسائی کارڈینال کی نظر میں دینی تربیت کے اہم نکات

پیرس سے عیسائی کاتھولک نے رضوی اسلامی یونیورسٹی میں’’مدارس اور یونیورسٹیوں میں دینی نظام تربیت‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت فرمائی، جس میں کاتھولک عیسائیت کی  نظر میں دینی تربیت کے اہم نکات بھی بیان فرمائے۔ 
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: عیسائیت کی نگاہ میں سب سے پہلے نمبر پر ایمان ہے جس کا تعلق تاریخی شناخت سے ہے یعنی حضرت عیسیٰ(ع) کی ولادت،زندگی، سرانجام،صلیب پر پھانسی دینے ،رسالت اور واپس ظہور سے متعلق ہے ، اس سلسلے میں بہت زیادہ توضیح انجیل میں دی گئی ہے ،اس لئے عیسائیت کی نظر میں تربیت حضرت عیسیٰ کی شناخت پر مبنی ہے۔ 
پاپ کے نمائندے نے دلیل و استدلال کو ایمان کے مبانی میں سے شمار کرتے ہوئے کہا: ایمان کے کو سمجھا جائے اور سمجھنے کے لئے ایمان کا ہونا ضروری ہے ،عیسائیت میں ایمان کا مطلب ہرگز ایک استدلالائی تفکر کا نام نہیں ہے بلکہ شخصی تعھد سے نشأت لیتا ہے۔ 
جناب جان مارک نے ایمان کے پہلے اور دوسرے ستون کو فھم کو ذائقہ دینا اور متعھد ہونا جانتے ہوئے کہا: عیسائیت میں ایمان کا موضوع تعھد کے عنوان سے پہچانا جانتا ہے ،ایسا تعھد جو فقط فرد تک محدود نہ ہوبلکہ خاندان کی نسبت تعھد،معاشرے، قانون، محیط اطراف وغیرہ کی نسبت تعھد شامل ہے۔ 
ایمان اور تعھد انسان کو سکھاتا ہے کہ کس طرح انتخاب کرے ، انہوں نے کہا؛ انتخاب ؛ انسان کو قبول اور عدم قبول کے مدّ مقابل استقامت دیتا ہے۔ 
جناب جان مارک نے ایمان کے تیسرے ستون کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا: ایمان فقط فردی شناخت اور فردی تصمیمات سے نشأت نہیں لیتا بلکہ ایمان کی اصل من جانب خدا عطا ہےجو انسان کو پروردگار کی جانب سے عنایت ہوتی ہے ،پس تربیت دینی یعنی الہی ایمان کا شامل ہونا۔
پاپ کے اس نمائندے نے اظہار کرتے ہوئے کہا: دینی تربیت کو ہنری تربیت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے ذریعہ ایمان کو توسیع دی جا سکے۔ 
خدائی عطایا کو کسب کرنے کے لئے دعا اور نماز سے انسان کا وجود آمادہ ہوتا ہے
واٹیکان کونسل کے رکن جناب رابرٹ لوگال نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں کہا: انسان کا فقط دانشور ہونا تاکہ وہ ایک خاص مقام ومرتبہ تک پہنچ سکے ضروری نہیں ہے،جب حضرت عیسیٰ (ع) نے اپنی پہلی دعوت کا آغاز کیا تو لوگ آپ کی باتوں سے بہت متعجب ہوئے اگرچہ آپ کوئی علمی و فلسفی گفتگو نہیں فرماتے تھے۔ 
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ہم عیسائی انجیل عہد قدیم اور جدید کے مطالعہ کے ذریعہ اپنے دل کو آمادہ کرتے ہیں تاکہ خدائی عطایا کو قبول کر سکیں۔ 
واٹیکن کونسل کے رکن نے بتایا: فردی طور پر دعا مانگنا، نماز جماعت کے پڑھنے وغیرہ سے دین مسیحیت میں انسان کا وجود الہی عطایا کو کسب کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے ، ہماری نماز صبح، ظہر،عصر،رات کی ابتدا اور آدھی رات کو شامل ہیں، ان تمام عبادتوں کے خاص کلمات ہیں جن سے انسان اور خدا کے ذریعہ رابطہ برقرار ہوتا ہے اور یہ انسان شائد خوش ہو، ناراحت و پریشان ہو، دنیوی لذتوں سے سرشار ہو یا پھر ایک عارف و سالک ہو۔ 
فرانس میں سکولاریزم کا وجود خاندانوں میں دینی بحث و گفتگو پر عدم توجہ کا باعث ہے
گفتگو کے دوسرے حصے میں کارڈینال ھانری دولھوگ نے گفتگو کی اور کہا: فرانس میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً سات فیصد ہے اور تقریبا فرانس کےسارے شہروں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان شادیاں بھی ہوتی ہیں اور اس طرح کی شادی معمولاً کلیسا کی اجازت کے بغیر ہوتی ہیں۔ 
کاتھولک عیسائیت کے مدرسہ کے اس استاد نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ تقریباً ہر دین میں دوسرے دین کے ساتھ شادی کرنے کی مخالفت کی گئی ہے ، ان کا کہنا تھا: اب جب کہ اس طرح کے کام مغربی ممالک میں انجام پا رہے ہیں تو تو ہر عالم دین کا یہ وظیفہ ہے کہ اس مشکل کے حل کے لئے ریسرچ انجام دے۔ 
’’کیا خداوند متعال انجیل اور قرآن کا خالق ہے‘‘ نامی کتاب کے مصنف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: عیسائی علماء کی بھرپور کوشش کہ ہے کہ خاندان کی بنیادوں کو محفوظ کیا جائے اورعورت و مرد کے درمیان مشترکہ زندگی کے عہد کومضبوط بنایا جائے ، البتہ فرانس میں کوئی شخص دوسرے دین کی نسبت گرائش پیدا کرنے کی وجہ سے شادی نہیں کرتا ۔ 
انہوں نے کہا: اس وقت فرانس میں ہم یہ تفکر ترویج دے رہے ہیں’’اگر کوئی عورت کسی مرد کی عاشق ہوجاتی ہے یا برعکس؛ تو یہ عشق طرف مقابل کی فردی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس شخص کی دینی زیبائی اور خوبصورتی کی وجہ سے جو اس کے چہرے کے ذریعہ ظاہرہوئی ہے‘‘۔
عیسائی کاتھولک کے مدرسہ کے سربراہ نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: فرانس میں سکولاری ماحول کی وجہ سے بہت سارے مشرک(مکس) خاندان کوشش کر رہے ہیں تاکہ گھر میں دینی مسائل کے بارے میں گفتگو نہ کی جائے ، لیکن ہرفرد کی پیدائش کے ساتھ ہی یہ مسائل گھر میں شروع ہو جاتے ہیں اور خاندان میں اختلاف کا سبب بن رہے ہیں۔ 
   
وزٹرز کی تعداد:17
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...