خبر
1/11/2019
آستان قدس رضوی کی کی زرعی ہولڈنگ سے صیفی جات کی مختلف ممالک میں ایکسپورٹ

 
آستان قدس رضوی کی کی زرعی ہولڈنگ سے صیفی جات کی مختلف ممالک میں ایکسپورٹ

آستان قدس رضوی کی کی زرعی ہولڈنگ ، اپنی پوری کوشش کے ساتھ صوبہ کی زراعت و کاشتکاری میں ایک عظیم حصہ رکھتی ہے، اس ہولڈنگ کی زیر نظر کمپنیاں، کاشتکاری کے جدید ترین امکانات و وسائل کے ذریعہ ، کاشتکاری کی مختلف روشوں سےتحقیقی اور منفعت بخش سرگرمیاں انجام دے کر ، ملک کو زرعی پیداوار میں خودکفیل بنانے میں مناسب کردار ادا کررہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے ہر ایک کی کوشش ہے کہ  پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ساتھ  ماحول کی شرائط کے پیش نظر بہترین  و مرغوب ترین پیداوار پیش کرسکیں۔
کلزا گھاس ؛ سرخس کی زرعی کمپنی کی ایک بامقصد پروڈیکس ہے ۔ اس پروڈیکس کی زراعت ، اس کمپنی نے تیل کے بیج کی امپورٹ کو کم کرنے کی خاطر صوبہ کی زرعی آرگنائزیشن  کی حمایت  میں 50 ایکڑ زمین  میں کاشت کی ہے ۔
اس دوران، کچھ اقدامات جیسے موقع پر منظم آبیاری، کھاد،  موقع پر آفات سے بچاؤ، بیماریوں ، کیڑا اور نرائی،کلزا گھاس کی مخصوص مشینری کے ذریعہ موقع پر کاٹنے سے اس پروڈیکس کی پیداوار کی افزا‏ئش میں بہت مدد ملتی ہے ۔
جنوب خراسان کی زراعت اور وقف بورڈ؛ صوبہ میں پانی کے کم ہونے کی وجہ سے اور پیداوار میں اضافہ کی خاطر گذشتہ سال سے کاشتکاری کی جدید ترین روش  کی تلاش تھی ، اس سلسلے میں زرعی پروڈیکسز میں نمونے کے طور پر گندم، جو وغیرہ اور خربوزہ وغیرہ کی پالیز کہ جن میں پانی کی کم ضرورت پڑتی ہے کاشت کی جاتی ہیں۔ اسی بنیاد پر گذشتہ سال اس کمپنی نے اپنی 48/ ایکڑ زمین میں خربوزہ کی پالیز لگاکر تقریبا 480 ٹن خربوزہ کی پیداوارحاصل کی۔
زیتون ، اس ادارے کی دوسری اہم ترین کاشت ہے ۔ اس سال  اس  ادارے کے 20 /ایکڑ باغوں سے تقریبا 31 ٹن زیتوں کی پیداوار حاصل کی گئي اور جب کہ یہ اس ادارے کو باغوں کا صرف ایک حصہ ہے  کہ جس نے زیتوں کے تیل کو بہترین کیفیت کے ساتھ رضوی و جنوبی خراسان صوبوں  کی مارکیٹ میں پیش کیا ہے ۔ زیتوں کے باغ بھی  بابلر سسٹم کے ساتھ آبیاری کیے جاتے ہیں  کہ جس سے بہت کم پانی خرچ ہوتا ہے اور زیادہ سے زيادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔
پستہ کا باغ بھی اس ادارے کے صوبہ سمنان کے موقوفات میں زراعت کے میدان میں ایک عظیم قدم ہے ۔شہر دامغان  کا پستہ کی پیداوار میں سابقہ   سنہرا ریکارڈ اور اسٹریٹجیک موقعیت کے پیش نظر  اوردوسری طرف ملک میں پستہ کو  پیداکرنے والے صوبوں کے درمیان ایک روابط کے پل کی حیثیت سے  اس ادارے کا "برم" کی زراعت کی زمینوں میں پستہ کا مرکزی باغ لگانے کا ارادہ ہے ۔
اس انسٹی ٹیوٹ نے 2018ء میں تقریبا 70 ٹن پستہ 106/ ایکڑ باغ میں پیدا کیا ہے۔ اور پستہ کی اہمیت کے پیش نظر اور زیادہ پیداوار کا ارادہ ہے۔ پستہ کی فصل میں چھلکا اتارنے اور خشک کرنے کے بعد پستہ کی سورٹنگ کا کام انجام دیاتا ہے کہ اس سال مارکیٹ میں پستہ کی ضرورت و اہمیت کے پیش نظر خشک پستہ کی بہت زیادہ مانگ اور ضرورت محسوس ہورہی ہے ۔
اس ادارے کی جانب سے اس سال گندم کی فصل تقریبا 220/ ایکڑ زمین میں کاشت ہوئی اور 2018ءمیں جو کی فصل  کی بھی 230/ ایکڑ زمین میں کاشت کی گئي  ہے۔
مزرعہ نمونہ؛ آستان قدس رضوی کی زراعت و جانورفارم کے سلسلے میں سب سے بڑا مرکز
مزرعہ نمونہ انسٹی ٹیوٹ ؛ آستان قدس رضوی کے زرعی ہولڈنگ کی زیر نظر کام کرنے والا دوسرا انسٹی ٹیوٹ ہے کہ جو زرعی اور جانوروں کی پیداوار کے لیے زمین و پانی سے استفادہ کرتا ہے اور پھلوں کے باغات و پھولوں کی پیداوار، داوئي کی گھاس و جڑی بوٹیوں کی کاشت اور درخت لگاتا ہے نیزمذبح و ہاتہ اور گندم کے مخزن وغیرہ بنائے ہیں  کہ جن کی وجہ سے یہ انسٹی ٹیوٹ آستان قدس رضوی کےزرعی  ہولڈنگ اور جانوروں کے فارم کا سب سے بڑا سینٹر ہے۔
اس انسٹی ٹیوٹ میں  سالانہ 11 ہزار ٹن مختلف زراعت و جانوروں کی پیداوار ہوتی ہے  اوریہ ملک کی پیداوار ومعیشت اور کاروبارمیں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آستان قدس رضوی کے مزرعہ نمونہ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ  انجینیر علی اورعی زارع نے کہا: 2018ء میں 1093/ایکڑ زمین میں گندم، 205/  ایکڑ زمین میں جو، 164 / ایکڑ زمین میں کلزا گھاس، 412/ ایکڑ زمین باجرہ، 60/ ایکڑ زمین میں چقندر،  49/ ایکڑ زمین میں یونجہ گھاس،35/ ایکڑ زمین میں   پستہ کے نرسری پودے اور 5/ ایکڑ میں پستہ کا بیج لگایا گیا تھا۔
انہوں نے مزرعہ نمونہ میں پھولوں کی پیداوار کے متعلق توضیح دی : اس انسٹی ٹیوٹ میں پھولوں کے تین باغ ہیں  کہ جن میں صیفی جات (ٹماٹر، کھیرا، اورمختلف رنگ کی شملہ مرچ) کی کاشت کرکے ایران کے مختلف شہروں کی مارکیٹ میں فروخت کی جاتی ہے اس طرح سالانہ تقریبا 3 کروڑ ٹن  سے زیادہ سبزی اورصیفی جات کی نرسری اور بیج کے ذریعہ ماڈرن طریقے پر کاشت کی جاتی ہے ۔
اورعی نے اس پروڈیکسز کی مارکیٹ میں فروخت کے بارے میں بھی کہا: یہ تمام پروڈیکسز فروخت کے لیے شہر مشہد کی منڈی میں پہنچائے جاتے ہیں اور کچھ پیکنگ کے لیے کارخانوں میں اور اسی رح کچھ سبز ی منڈی اور کچھ مال  باہر ممالک کے لیے بھی ایکسپورٹ ہوتا ہے۔
انہوں نے  اس سال میں ڈیڑھ ہزار ٹن کھاد کی پیداوار کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: یہ کھاد کچھ خاص خصوصیات رکھتا ہے کہ جس میں ECبہت کم اور منفعت بہت زیادہ، قدرتمند اور زمین کی اصلاح کرنے کی بہت صلاحیت و استعداد وغیرہ اس کی خصوصیات میں شامل ہیں۔
اورعی زارع نے کہا: مزرعہ نمونہ کے باغات میں 140/ ایکڑ زمین میں سے 16/ ایکڑ میں سیب کا باغ، 40 /ایکڑ زمین میں آلو بخارہ ، 40 / ایکڑ زمین میں ناشپاتی، 50 / ایکڑ زمین میں مختلف قسم کے سیب کے باغات اور ان تمام باغات میں آبیاری اور پانی دینے کے لیے پائپ لائن سے قطرہ قطرہ پانی پہنچایا جاتا ہے  اور کہیں کہیں فوارہ اور سایہ دار پھوارے کے ذریعہ استفادہ کیا جاتا ہے۔
اسی طرح 280/ ایکڑسے زیادہ  مزرعہ نمونہ انسٹی ٹیوٹ کی  زمین میں پانی دینے کے لیے قطرہ قطرہ آبیاری سسٹم لگایا جاچکا ہے ۔  
وزٹرز کی تعداد:21
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...