خبر
10/8/2018
سفال اور مٹی کے برتنوں میں ایک چھپی ہوئی ثقافت

آستان قدس رضوی کے ظروف اور قدیمی برتنوں کے میوزیم خزانے پر ایک نگاہ؛  
سفال اور مٹی کے برتنوں میں ایک چھپی ہوئی ثقافت

حضرت امام علی  رضا علیہ السلام شیعوں کے آٹھویں امام کے روضہ منورہ نے زیارت کے علاوہ زائرین کے لیے لائبریری اور دیگر سیا حت و ثقافت کے اسباب ملکی و غیرملکی زائرین کے لیے فراہم کررکھے ہیں کہ جن میں قدیمی و تاریخی آثار کا خزانہ، میوزیم کی صورت میں قابل دید ہے۔
آستان قدس رضوی کے میوزیمز میں قرآنی میوزیم، فرش و قالین اور ہاتھ کی بنی ہوئی چیزوں کا میوزیم ، گھڑی اور نجوم و نظام شمسی، اسلحہ، ڈاک ٹکٹ اورسکے، مڈل و طمغے، صدف، حلزون  اورآبزیان، پتھر ومٹی کے بنے ہوئے برتن ، مقام معظم رہبری کے ہدایا کا میوزیم ، قومی ملک میوزم و ثقافت و انسانی سماج میوزیم وغیرہ شامل ہیں ۔ برتنوں کا خزانہ بھی آستان قدس رضوی کے میوزیمز کا ایک عظیم حصہ ہے کہ جس میں تاریخی اور بے نظیر ظروف موجود ہیں۔
 
عیسویں تاریخ سے قبل کے قدیمی آثار
عبدالحسین ملک جعفریان؛ آستان قدس رضوی کے ظروف و برتنوں کے میوزیم کے جنرل ڈائریکٹر نے ان ظروف کے متعلق کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے پہلے کے آثار میں سے ہیں بتایا۔ اور ان برتنوں میں سے بعض ان سے بھی قدیمی اور پتھرکے زمانے سے مربوط ہیں (عیسوی تاریخ سے 500 سے 1500 سال قدیمی) مادھا ،ساسانی حکومت سے اسلامی زمانے کے ایلخانی، تیموری اور صفوی دور سے مربوط ہیں  اور افشاری  و نادر شاہ درانی کے زمانے تک موجود ہیں۔ ملک جعفریان نے بہت سے برتنوں کے ہدیہ ہونے کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ان بے نظیر اور کمیاب آثار میں سے بہت سے ظروف  حرم مطہر رضوی میں تعمیرات کے دوران کھدائی کرتے ہوئے زمین میں دفن شدہ دستیاب ہوئے ہیں کہ جو شہر مشہد کے قدیمی ہونے اور یہاں کے لوگوں کی عظیم ثقافت پر بہت بڑی دلیل ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہدیہ شدہ ظروف بھی ان قدیمی آثار ہیں کہ جن پر واقفین کے نام اور ملک و پتہ تحریر ہے کہ جو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ کو ہدیہ ہوئے ہیں۔ 
عبدالحسین ملک جعفریان؛ آستان قدس رضوی کے ظروف و برتنوں کے میوزیم کے جنرل ڈائریکٹر نےدفن شدہ ظروف کے متعلق کہا کہ ان میں خمرہ، قمقمہ، تنگ، کیتلی، گلاس، گلدان، شمعدان، گلاب پاش وغیرہ کو اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے  کہ جن کا استعمال یہاں کے لوگوں کی زندگی میں عام تھا  اور یہ کے لوگوں کی زندگی کے خاص طور و طریقے اور مختلف ثقافت پر دلالت کرتاہے ۔
سفالی ، مٹی و پتھر کے ظروف اور پانی کی گھڑی
انہوں نے مٹی کے برتنوں اور پانی کی گھڑی کو  عیسائی تاریخ سے ایک ہزار قبل کا قرار دیتے ہوئے ان آثار کو منحصر بہ فردکے طور پر تعارف کرایا اور ان کے استعمال کے متعلق کہا: اس مٹی کے برتن کا رنگ خاکستری ہے گھڑے کی مانند اور اس کے منھ کے کنارے پلٹے ہوئے ہیں اس کا سائز 6.1 سینٹی میٹر ہے ۔ اس کی تہہ میں زمین پر رکھنے کے لیے کچھ موٹا حصہ ہے کہ جس کی چوڑائی 0.5 سینٹی میٹر ہے  کہ احتمالا اس برتن کو کسی دوسرے پانی کے برتن پر رکھا جانے کی وجہ سے کچھ گھس گیا ہے اور جب کہ اسی برتن کے ذریعہ پانی کا اندازہ لگایا جاتا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ان چیزوں کی حفاظت اور دیکھ بھال بہت ہی نفاست  و دقت کے ساتھ کی جاتی ہے ۔
دفن شدہ برتن
ان مذکور ہ ظروف میں سے کہ جو قدیمی لحاظ سے قابل دید اور نمائش میں رکھے جانے کے قابل ہیں  وہ دفن شدہ برتن ہیں کہ جو خاکستری رنگ اور کالی مٹی سے بنے ہوئے مٹکے کی مانند اور ان کے کنارے پلٹے ہوئے  ایک طرف پکڑنے کا دستہ ہے جو اوپر کے کناروں سے ملا ہواہے  کہ  جن کا تعلق عیسوی تاریخ سے دو ہزار سال پراناپتھر کے زمانے سے ہے ۔
آستان قدس رضوی کے برتن میوزیم کے ڈائریکٹر جنرل نے ان برتنوں کے متعلق کہا: یہ برتن ایک پرندے کی شکل میں بنائے گئے ہیں اور ان کا منھ بھی پرندے کی چونچ کی طرح ہے۔ قدیمی اعتقادات کے مطابق انسان مرنے کے بعد بھی زندہ ہے لہذا اس برتن میں کچھ مقدار میں کچھ غلات رکھ دیے جاتے تھے یا بعض مقامات پر مردے کے ساتھ کچھ غلات اس کی مشکل کو برطرف کرنے کے لیے قبر میں اس کے ساتھ رکھ دیے جاتے تھے۔
قابل ذکر کہ اہل ذوق حضرات ہر روز صبح 8 بجےاور شام 6بجے تک اور چھٹیوں کے ایام میں صبح 8 بجے سے اور ساڑھے بارہ بجے تک  آستان قدس رضوی کے مرکزی میوزیم میں کہ جو صحن  کوثر میں واقع ہے ، دیدار کرسکتے ہیں۔
   
وزٹرز کی تعداد:226
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...