خبر
8/27/2018
’’قربان تا غدیر‘‘ کے عنوان سے آستان قدس رضوی کے میوزیم میں رکھے آثار متعارف کروا دیئے گئے

عشرہ ولایت کی مناسبت سے؛  
’’قربان تا غدیر‘‘ کے عنوان سے آستان قدس رضوی کے میوزیم میں رکھے آثار متعارف کروا دیئے گئے

آستان قدس رضوی کے تحقیقاتی ادارہ اور میوزیمز میں رکھے آثار کو متعارف کروانے والے ادارہ کے سربراہ نے بتایا کہ آستان قدس رضوی کے عجائب گھروں میں رکھے آثار کو عشرہ ولایت کی مناسبت سے ’’ قربان تا غدیر‘‘ کے موضوع پر متعارف کروا دیا گیا ہے۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے تحقیقاتی ادارہ اور میوزیمز میں رکھے آثار کو متعارف کروانے والے ادارہ کے سربراہ نے عشرہ ولایت کی مناسبت سے میوزیمز میں رکھے آثار کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: ان آثار میں ابھرے ہوئے نقش و نگار والے بورڈ،آئل پینٹ بورڈ اورماکت وغیرہ شامل ہیں ؛ ان تمام کو عشرہ ولایت کے موضوع پر عوامی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے ۔
انہوں نے رضا افشاری کے ’’ ذبح عظیم‘‘ والے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ اثر ۱۳۹۰ شمسی میں کینوس پر آئل پینٹنگ کی ٹکنیک سے 110*110 سینٹی میٹر میں تخلیق کیا گیا ہے۔
فرھمند نژاد نے ’’ولایت حضرت علی(ع)‘‘ نامی بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ یہ اثر ۱۳۷۵ شمسی میں حسین رزاقی کے توسط سے اکریلک ٹکنیک کے ذریعہ کارڈ بورڈ کے اوپر بغیر تیزاب کے 100*70 سینٹی میٹر میں بنایا گیا ہے۔
’’واقعہ غدیر خم‘‘ والے بورڈ کو جسے سید فضل اللہ ہاشمی نے ۱۳۸۶ شمسی میں ھدیہ کیا تھا ؛ آئل پینٹ کی ٹکنیک سے بورڈ کے اوپر 70*50 سینٹی میٹر تخلیق کیا گیا اور ’’ برکہ غدیر خم‘‘ نامی بورڈ کو جسے رسول شفقتی نے ۱۳۸۹ شمسی میں واٹر کلر کی ٹکنیک سے بغیر تیزاب والے گتے کے اوپر 33*50 سینٹی میٹر میں بنایا؛ ولایت کے عنوان سے تخلیق کئے جانے والے یہ آثار جنہیں آستان قدس رضوی کے میوزیم میں عمومی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔
انہوں نے اسی حوالے سے واقعہ غدیرکے نقش سے کندہ کاری شدہ عصا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عصا کی لمبائی 92 سینٹی میٹی اور اس کا قطر 5  سے 5/2 سینٹی میٹر ہے یہ اثر ایک شیرازی آرٹسٹ جناب مرتضیٰ سلیم کے توسط سے ۱۳۹۱ میں آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ھدیہ کیا گیا۔
فرھمند نژاد نے اس اثر کی خصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: عصا کے دستے والے حصہ کے بعد سے اوپر والی جانب حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کے توسط سے حضرت علی (ع) کے ہاتھ مبارک اوپر اٹھانے کی تصویر کو کندہ کاری کیا گیا ہے اور عصا کے انتہا میں لوگوں کے ہجوم کو دکھایا گیا ہے جو’’حدیث ولایت‘‘ سن رہے ہیں۔یہ تصویر عصا کی انتہا تک اسی طرح ہے اور آخر میں کچھ کھجور کے درخت کندہ کاری کئے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے لکڑی کی جلد والی کتابِ حضرت علی علیہ السلام کا تعارف کراتے ہوئے کہا یہ کتاب جس میں حضرت علی علیہ السلام کے فرامین ذکر کئے گئے ہیں اور علی عیسیٰ ابو منھج کے توسط سے چار زبانوں فارسی، انگریزی،عربی اورفرانسیسی زبان میں تالیف کی گئی ہے اور سید علی موسوی کے توسط سے جن کا تعلق لبنان سے ہے ۱۳۸۹ شمسی میں ھدیہ کی گئی۔
’’یادگاری شیلڈ مانور بزرگ ولایت‘‘ کے عنوان سے جو 36*42 سینٹی میٹر میں اسلامی جمہوری ایران کے بری افواج کے جنرل کمانڈر کے توسط سے ۱۳۷۵ شمسی میں آستان قدس رضوی کے میوزیم کے لئے ھدیہ کیا ۔
’’علی(ع)‘‘ کے مبارک نام سے پینٹ اور خط معلی سے خطاطی کیا جانے والا بورڈ جسے کا سائز 116*85 سینٹی میٹر ہے ولایت کے موضوع پر تخلیق کئے جانے والے اس اثر کو مجید حسن زادہ نے ۱۳۸۴ شمسی کے اسفند ماہ میں ھدیہ کیا۔
کہا گیا ہے ؛ آرٹ و ثقافت سے دلچسپی رکھنے والے زائرین و مجاورین ؛ ہفتہ سے بدھ تک صبح آٹھ بجے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک اور بروز جمعرات صبح آٹھ بجے سے ساڑھے گیارہ بجے تک اور اس کے علاوہ بروز جمعہ یا چھٹی والے دنوں میں صبح آٹھ بجے سے دوپہر بارہ بجے تک حرم رضوی کے صحن کوثر میں واقع قرآنی میوزیم والی بلڈنگ میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کی جانب سے ھدیہ کئے جانے والے اور قرآن سیکشن کے اندر انہیں مشاہدہ فرما سکتے ہیں۔
گرمیوں کے دنوں میں آستان قدس رضوی کا مرکزی میوزیم ہر روز صبح آٹھ بجے سے شام پونے نو بجے تک حتی چھٹی والے دن بھی حرم رضوی کے صحن کوثر میں زائرین و مجاورین کا میزبان ہے ۔  
وزٹرز کی تعداد:202
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...