خبر
6/27/2018
آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ میں شیخ بہائی(رہ) کی کتابوں کے خطی اور سنگی طباعت کے ۴ ہزار نسخے پائے جاتے ہیں

 
آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ میں شیخ بہائی(رہ) کی کتابوں کے خطی اور سنگی طباعت کے ۴ ہزار نسخے پائے جاتے ہیں

آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ میں شیخ بہائی(رہ)کی کتابوں کا گرانقدر مجموعہ پایا جاتا ہے جسے وہاں پر بحفاظت رکھا گیا ہے ،ان کتابوں کی تصحیح اور شرح خود شیخ(رہ) کے توسط سے اسی دور انجام دی گئی اور ان کتابوں کے وقف نامہ شیخ (رہ) کی مہر اور دستخط کے ساتھ موجود ہیں۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے ادارہ مخطوطات کتابخانہ،میوزیم اور دستاویزاتی مرکز کے سربراہ نے بتایا: بہاء الدین محمد عاملی جو کہ شیخ بہائی کے نام سے مشہور ہیں ان کی ۹۰ سے زیادہ کتابیں اور رسالہ مختلف موضوعات پر پائے جاتی ہیں جیسے ریاضی، اخلاق، فقہ و حدیث، سیاست،نجوم، عرفان وتصوف، فقہ، انجیئرنگ،آرٹ، فیزیکس اور اس کے علاوہ بہت سارے اشعار بھی عربی اور فارسی میں جناب شیخ بہائی رہ کے پائے جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر آثار اس وقت آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ میں رکھے گئے ہیں۔
سید محمد رضا فاضل ہاشمی نے اس سلسلے میں مزید وضاحت دیتے ہوئےکہا: ان آثار میں سے زیادہ تر جنہیں خود شیخ رہ نے تصحیح کیا یا ان پر شرح لکھی تھی انہیں خود شیخ بہائی رہ کے کتابکانہ میں رکھا گیا تھا، شیخ بہائی رہ نے خود اپنے اس کتابخانہ کو آستان قدس رضوی کے کتابخانہ کو وقف کر دیا اور ان آثار پر شیخ بہائی(رہ) کی مہر اور دستخط موجود ہیں۔
انہوں نے شیخ بہائی رہ کے ایک اثر کی جانب اشارہ کیا جس پر خود شیخ نے شرح لکھی اور’’ابن خاتون‘‘ جو کہ آپ کے شاگرد تھے انہوں نے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا ، کہا: شیخ بہائی کے من جملہ گرانقدر نسخوں میں سے  ’’ اربعین حدیث‘‘ نامی کتاب ہے جو کہ’’ اربعین‘‘ کے نام سے مشہور ہے یہ کتاب عربی زبان میں تحریر کی گئی اور اس کتاب کی کتاب ۱۰۱۰ میں اور ۱۳۰۹ شمسی میں اسے وقف کیا گیا ۔اگرچہ بہت سارے شیعہ علماء نے اربعین پر بہت زیادہ کتابیں تالیف کی ہیں لیکن یہ اثر جو کہ ’’چھل حدیث‘‘ کے نام سے بھی مشہور ہے بہترین اور مشہورترین اثر ہے۔
فاضل ہاشمی نے عصر صفوی کے مشہور و معروف دانشور کے ایک دوسرے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: تفسیر قرآن کریم میں ’’منتخب تأویلات‘‘ کے نام سے مشہور اثر جسے ۱۰۱۴ میں تحریر کیا گیا اور ۱۰۶۷ میں ابن خاتون کے توسط سے وقف کیا گیا ہے۔
انہوں نے شیخ بہائی رہ کے ایک اور ارزشمند اثر کا تعارف کرواتے ہوئے کہا یہ اثر جسے علوم ومعارف اسلامی کے موضوع پر ۱۰۱۷ میں اصفہان کے اندر کتابت کیا گیا ، اس گرانقدر اثر کا نام ’’ مشرق الشمسین واکسیر السعادتین‘‘ یا’’ مجمع النورین و مطلع النیرین‘‘ ہے ، اس کتاب میں مولف نے آیات الاحکام اور فقہی روایات سے شیعی فقہ استدلالی کو منظر عام پرلایا ہے۔
فاضل ہاشمی نے ۱۰۲۷ میں مشہد شہر میں کتابت کئے جانے والے نسخہ کی طرف اشارہ کیا جسے ۱۱۴۵ میں نادر بادشاہ افشار نے وقف کیا تھا؛اس کتاب کا عنوان’’ اثنی عشریات خمس‘‘ ہے جو کہ ’’ رسایل خمس اثنی عشریہ‘‘ اور ’’ رسالہ اثنی عشریہ‘‘ کے نام سے بھی معروف ہے یہ کتاب طہارت، نماز، زکات،روزہ اور حج کے موضوع پر تحریر کی گئی ہے۔
ادارہ مخطوطات کے سربراہ نے شیخ بہائی رہ کو آستان قدس رضوی کے واقفین میں سے شمار کرتے ہوئے کہا کہ شیخ بہائی رہ نے جو کتابیں وقف کی ہیں وہ فقط ان کی اپنی تصنیفات اور تالیفات نہیں تھیں بلکہ من جملہ بعض آثار جنہیں شیخ بہائی کے دستخط کے ساتھ وقف کیا گیا ہے ان میں امام علی(ع) ، امام حسین(ع) اور امام سجاد(ع) سے منسوب قرآن کریم کے نسخے ہیں جنہیں کوفی خط کے ساتھ ہرن کی جلد پر تحریر کیا گیا ہے اور شاہ عباس صفوی کی جانب سے وقف ہوئی ہیں ، ان کتابوں کا وقف نامہ شیخ بہائی کے دستخط کے ساتھ موجود ہے۔ قرآن کریم کے یہ تمام نسخے اسلام کی ابتدائی صدے کے بہترین شاہکار شمار کئے جاتے ہیں۔
کہا گیا ہے بہاء الدین محمد بن حسین بن عاملی جو کہ شیخ بہائی رہ کے نام سے مشہور ہیں دسویں اور گیارہویں صدی کے نامور دانشور ہیں، عمر کے آخری بیس سالوں میں انہیں شاہ عباس صفوی کے دربار میں ’’ شیخ الاسلام‘‘ کا عنوان دیا گیا، یہ بزرگ عالم دین ۱۰۳۱ ہجری قمری میں یعنی ۱۰۰۰ ہجری شمسی میں اصفہان شہر میں رحلت فرما گئے ، انہیں ان کی وصیت کے مطابق آستان قدس رضوی میں اور حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے جوار میں دفنایا گیا۔  
وزٹرز کی تعداد:394
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...