خبر
6/4/2018
آستان قدس رضوی کے میوزیم سے منتخب شدہ علوی اور قرآنی آثار کا تعارف

لیلۃ القدر کی بابرکت راتوں کی مناسبت سے؛  
آستان قدس رضوی کے میوزیم سے منتخب شدہ علوی اور قرآنی آثار کا تعارف

لیالی قدر اور شہادت مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام کی مناسبت سے قرآن اور کرامت علوی کے موضوع پر میوزیم میں چند ایک منتخب شدہ آثار کو متعارف کروا دیا گیا۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آثار کو متعارف کروانے اور تحقیقاتی ادارے کے سربراہ نے بتایا: حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب قرآن کریم ؛ آستان قدس رضوی کے قرآنی میوزیم کا ایک اہم اثر ہے یہ قرآن کریم سورہ ھود کی پہلی آیت سے شروع ہوتا ہے اور سورہ کھف کی ۱۱۰ آیت پر ختم ہو جاتا ہے۔
جواد فرھمند نژاد نے اس قرآن کی کتابت کی تاریخ کوصدر اسلام جانتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن  ۱۵ سطر پر مشتمل قطع بیاض میں خط کوفی ممتازکے ساتھ ہے جس کی پیمائش 23*32 سینٹی میٹر ہے جسے ۶۰ کاغذوں پر تحریر کیا گیا ہے اور بھوری رنگت کی دوطرفہ جلد میں قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس اثر کو وقف کرنے والے فرد کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا: حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب قرآن کریم کو 1998ق797/ ش میں شاہ عباس صفوی کے توسط سے حرم رضوی کو وقف کیا گیا اس وقف نامہ کی کتابت شیخ بھاء الدین محمد(شیخ بھائی) نے فرمائی۔
قرآنی محوریت کے ساتھ قرآن کریم کا ایک دوسرا نسخہ جو ذبیح اللہ اوحدی کا شاہکار ہے ، اس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا: یہ اثر نسخ ترکیبی نی ریزی اور ۱۵ سطروں پر مشتمل عثمانی خط پر مشتمل ہے اس قرآن کریم کی کتابت ۱۳ سالوں میں مکمل ہوئی ، اس قرآن کریم کے اوراق کی تعداد جس کی پیمائش 100*70 سینٹی میٹر ہے عثمان طحہ کے قرآن کے مطابق ۶۰۴ صفحہ ہیں ، اس قرآن کا وزن ۲۲۰ کلو گرام ہے۔
فرھمند نژاد نے آستان قدس رضوی کے عجائب گھر میں لکڑی پر لکھے ایک قرآنی جزوہ کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا: اس اثر کو تخلیق کرنے والے سید مسلم شکری فرزند شہید کرامت اللہ شکری ہیں انہوں نے ۴۰ سورتوں کو پیغمبر گرامی اسلام کی رسالت شروع ہونے کے سالوں کی نیت سے چودہ صفحوں پر چودہ معصومین علیہم السلام کی نیت سے 45*33  سینٹی میٹر میں تحریر کیا ہے۔
انہوں نے سیاہ رنگ کے ۱۱۴ گرانیٹ پتھروں پر لکھے جانے والے قرآن کو آستان قدس رضوی کے قرآنی میوزیم کا ایک اور عمدہ نمونہ جانا۔
جواد فرھمند نژاد نے اس اثر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: سیاہ رنگ کے گرانیٹ پتھر پر جس کا قطر ۹۲ سینٹی میٹر ہے استاد داوود زمانی آذر کے توسط سے کڑھائی والی سوئی کے ساتھ پتھر پر کندہ کاری کی گئی ہے جس کے خطوط کو سونے کے پانی سے مزیّن کیا گیا ہے اور اس قرآنی نسخے کو مکمل ہوتے چھ سال اور چار مہینے لگ گئے ۔
آستان قدس رضوی کے میوزیمز،لائبریریز اور دستاویزاتی سینٹر کی تنظیم اورآثار کو متعارف کرانے اور تحقیقاتی ادارے کے سربراہ نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: آستان قدس رضوی کے قرآنی میوزیم میں قرآن کی محوریت سے بہت سے گرانقدر آثار رکھے گئے ہیں جن میں سے پتھر پر بہترین خط کے ساتھ تحریر کی جانے والی سورہ بقرہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے اس اثر کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا: یہ اثر مثلث شکل کے پتھر پر تحریر کیا گیا ہے جس کی پیمائش طول میں ۳۵ اور عرض میں ۶ سے ۱۹ سینٹی میٹر ہے اور اس کا قطریعنی موٹائی 5/5 سینٹی میٹر ہے اس پتھر پر سورہ بقرہ کی ۲۸۶ آیات تحریر کی گئیں ہیں ، اس شاہکار کو تخلیق کرنے والے سید حسن پور رضوی ہیں جنہوں نے چالیس دنوں میں اس اثر کو مکمل کیا۔
فرھمند نژاد نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: یہ اثر خاتم کاری کے فریم میں جس کی پیمائش 90*42 سینٹی میٹر ہے قرار دیا گیا ہے اور بہت باریک خط کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے جس کو ذرّہ بین کے بغیر پڑھنا ممکن نہین ہے ۔
جواد فرھمند نے ماڈل آرٹ کے حصے میں نگارگری کے نیایش بورڈ پر روشنی ڈالی جس کو تخلیق کرنے والے استاد محمود فرشچیان ہیں۔
انہوں نے بتایا: نیایش بورڈ میں ایسے بوڑھے اور عبادت گزار شخص کو دکھایا گیا ہے جس نے اپنے تھکے ہارے ہاتھوں کو بارگاہ خداوند میں اٹھا رکھا ہے اور گریہ زاری و رحمت الہی سے مدد طلب کر رہا ہے ۔جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے :وہ گھر جن میں نماز شب یا قرآن کریم پڑھا جائے تو وہ آسمان والوں کے لئے اس طرح سے چمکتا ہے جیسے ستارے زمین والوں کے لئے چمکتے ہیں۔
فرھمند نژاد نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: اس گرانقدر اثر میں استاد نے خداوند متعال کی رحمت واسعہ کو جو ایک جاری اور نورانی دریا کی طرح آسمان سے زمین کی طرف آرہی ہے دکھا یا ہے ۔یہ اثر بغیر تیزاب والے گتے پر 82*56  سینٹی میٹر کی پیمائش کے ساتھ اور نگار گری کی روش اور اگریلیک ٹکنیک سے تخلیق کیا گیا ہے اس اثر کو ۱۳۷۷ شمسی میں استاد محمود فرشچیان نے آستان قدس رضوی کے میوزیم کو عطیہ کیا۔
اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کا یتیم نوازی کرنے والا بورڈ جس کا عنوان ’’پناہ‘‘ ہے استاد محمود فرشچیان کا ایک دوسرا اثر ہے جس کے بارے میں فرھمند نژاد نے وضاحت دیتے ہوئے کہا: یہ اثر بغیر تیزاب والے گتے پر 73*50 سینٹی میٹر کی پیمائش سے اور نگارگری کی روش اور اکریلیک کی ٹکنیک سے تخلیق ہوا ہے۔
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: حضرت علی علیہ السلام کے القابات میں سے ایک لقب ’’ابوالایتام‘‘ یعنی یتیموں کا باپ ہے اور اس بورڈ میں حضرت علی علیہ السلام نے چند ایک بچوں کو اپنی آغوش میں لیا اور ان کے سروں پر دست شفقت پھیر رہے ہیں۔
فرھمند نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: اس اثر میں نگار گر نے حضرت علی علیہ السلام کے جلال اور قداست کی وجہ سے پشت کی جانب سے تصویر گری کی ہے اور حضرت کے سر کو کپڑے کی دستار سے چھپا دیا ہے ۔حضرت علی علیہ السلام کی تصویر کے دائین جانب اوپر والے حصے میں مقام عرفان اور قرب الہی کے بالا ترین درجہ کو دکھا رہی ہے اور حضرت کے پاؤں کی جانب جہاں پر روٹی اور کھجور دیکھنے میں آتی ہے یتیموں کے ساتھ شفقت و مہربانی سے پیش آنے کی علامت ہے۔
آثار کو متعارف کرانے اور تحقیقاتی ادارے کے سربراہ نے بتایا: مندرجہ بالا تمام آثار کو قرآنی میوزیم ،رہبر معظم انقلاب کی جانب سے عطیہ کئے جانے والے آثار والے ہال اور استاد محمود فرشچیان کے آثار والے ہال میں عوامی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے ۔حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی نورانی بارگاہ کے زائرین اور مجاورین ہر روز صبح ۸ بجے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ان گرانقدر شاہکاروں کو دیکھ سکتے ہیں۔  
وزٹرز کی تعداد:132
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...