خبر
5/27/2018
آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ میں حضرت خدیجہ(س) کے موضوع پر ۱۲۰خطی،سنگی اور سربی پرنٹنگ کے نسخے پائے جاتے ہیں

 
آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ میں حضرت خدیجہ(س) کے موضوع پر ۱۲۰خطی،سنگی اور سربی پرنٹنگ کے نسخے پائے جاتے ہیں

آستان قدس رضوی کے خطی کتابوں والے سیکشن میں حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے موضوع پر ۱۲۰ سے زائد خطی،سنگی اور سربی پرینٹنگ کے نسخے پائے جاتے ہیں۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے کتابخانوں ، میوزمز کی تنظیم اور دستاویزاتی سینٹر میں ادارہ مخطوطات کے سربراہ نے بتایا کہ کہ ۱۲۰ سے زیادہ گرانقدر اور نفیس قدیمی نسخے حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے موضوع پر پائے جاتے ہیں جن میں سے ۱۸ نسخے خطی اورسنگی پرینٹنگ کے ہیں اور ان کے علاوہ ۱۰۸ سربی پرینٹنگ کے نسخے اور تھیسز پائے جاتے ہیں ، ان تمام نسخوں کو آستان قدس رضوی کے مرکزی کتابخانہ کے خطی کتابوں والے سیکشن میں بحفاظت رکھا گیا ہے ۔
سید محمد رضا فاضل ہاشمی نے سب سے پہلے دسویں صدی کے ایک نسخہ کا تعارف کرواتے ہوئے کہا: ’’ سمط الثمین فی مناقب امھات المؤمنین‘‘ جسے احمد بن عبد اللہ طبری(متوفی ۶۹۴ قمری) نے ۹۹۷ قمری میں کتابت کیا اور ۱۳۱۱ شمسی میں میرزا رضا خان نائینی نے آستان قدس رضوی کو وقف کیا ۔
انہوں نے ایک اور گرانقدر نسخہ کا تعارف کروایا جسے ۷۰۹ قمری میں کتابت کیا گیا، ’’کشف الغمہ عن معرفہ احوال الائمہ واھلبیت العصمہ‘‘ اس کتاب کے مؤلف علی بن عیسی اربلی( متوفی ۶۹۲) ہیں اس اثر کو محمد باقر کاشانی کے توسط سے کتابت کیا گیا اور ۱۰۴۳ قمری میں شیخ صنعان نے روضہ منورہ رضوی کو وقف کیا۔
فاضل ہاشمی نے چند دوسرے آثار کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا: کتاب بحارالانوار کی تیرہویں گرانقدر جلد’’ روضہ النبی فی آثار اللمصطفوی(ص)‘‘ جسے احمد بن حسن استرآبادی نے گیارہویں صدی میں کتابت کیا،’’ضیاء المؤمنین‘‘(حیات القلوب) کو فارسی میں نظم کی صورت میں مومنہ نیشابوری جوکہ خان کے نام سے مشہور تھے ۱۱۹۵ قمری میں پڑھا اور ۱۲۵۶ قمری میں اسے کتابی صورت میں لایا گیا اس کے علاوہ شیخ مفید(رہ) کی ’’ مسار الشیعہ‘‘ نامی کتاب کو ۱۳۵۲ قمری میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے موضوع پر کتابت کیا گیا۔
ادارہ مخطوطات کے ماہر نے زین العابدین کے توسط سے۹۸۳ قمری میں  کتابت کئے جانے والے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ عمدہ المناقب فی عیون صاح الاخبار‘‘جس کے مولف ابن طریق(متوفی ۶۰۰قمری) ہیں یہ کتاب اہلبیت عصمت وطہارت علیہم السلام کے فضائل پر تالیف کی گئی اور اس میں سے ایک حصہ حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی فضیلتوں پر مشتمل ہے۔
شرح حال حضرت خدیجہ کبری(س) ، جسے فارسی زبان میں تحریر کیا گیا اور ایک گرانقدر نسخہ ہے جس کے بارے میں فاضل ہاشمی نے وضاحت دی۔
انہوں نے ’’المناقب‘‘ نامی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا : یہ کتاب چودہ معصومین علیہم السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے فضائل پر مشتمل ہے جسے عربی زبان میں تالیف کیا گیا اور ۱۱۴۰ میں اس کی کتابت انجام پائی۔
آخر میں فاضل ہاشمی نے بعض سنگی آثار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’زادالواعظین‘‘ جس کے مولف محمد صادق فاضل ھرندی ہیں اس میں پیغمبروں اور حضرت مریم مقدس اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں تالیف کیا گیا ہے یہ کتاب ۱۳۵۱ قمری میں پرنٹ کی گئی،’’الدرہ البیضاء فی مشاھیر النساء‘‘ جسے ۱۳۲۳ قمری میں اور’’حیات ام المومنین جناب خدیجہ الکبری(س)‘‘ چاپ لکھنو جسے ۱۳۷۴ قمری میں پرنٹ اور پبلش کیا گیا یہ چند ایک آستان قدس رضوی کے خطی سیکشن کے گرانقدر آثار تھے۔  
وزٹرز کی تعداد:205
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...