خبر
5/27/2018
آستان قدس رضوی کے میوزیم میں پائے جانے والے قرآنی آثار کا تعارف

ماہ مبارک رمضان کے دنوں میں؛  
آستان قدس رضوی کے میوزیم میں پائے جانے والے قرآنی آثار کا تعارف

ماہ مبارک رمضان کے بابرکت دنوں میں آستان قدس رضوی کے میوزیم میں پائے جانے والے آثار کو آیات قرآن کریم کو محور قرار دیتے ہوئے متعارف کروا دیا گیا۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛آثار کو متعارف کروانے والے اور تحقیقاتی ادارہ کے سربراہ نے بتایا: قرآن کریم کی آیات سے مزیّن بورڈ کو جس میں در نجف کے ۸۵ ٹکڑوں پر آیات قرآن کریم کوخوبصورت انداز میں کندہ کاری کیا گیا ہے؛رہبر معظم انقلاب کے تحائف والے قرآنی میوزیم میں عمومی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔
جواد فرہمند نژاد نے اس اثر کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے بتایا: آیات قرآنی سے مزیّن اس بورڈ کا سائز71*51 سینٹی میٹر ہے ، ہر پارہ یا اس کا کچھ ھصہ درنجف کے پتھر پر کندہ کاری ہوا ہے اور در در نجف کے ہر پانچ ٹکڑے پھول کی صورت میں لکڑی کے بورڈ پر قرار دیئے گئے ہیں۔
انہوں نے جلد پر لکھے سورہ یاسین کے خطاطی والے بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس بورڈ میں سورہ یاسین کو دائرہ کی صورت میں خطاطی کیا گیا ہے اور یہ اسلامی کانفرانس فاؤنڈیشن کا لوگو ہے۔
’’سورہ حمد‘‘ کا سیاہ مشق نامی بورڈ جسے بہت خوبصورت خط کے ساتھ کرمعلی شیرازی نے تحریر کیا ، فرھمند نژاد نے اس اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا: بہت اچھے خط کے ساتھ تحریر کئے جانے والے اس بورڈ کا سائز 180*180 سینٹی میٹر ہے اس بورڈ کو خظ نستعلق کے ساتھ اور روغنی رنگ کی ٹکنیک سے خطاطی کیا گیا ہے ، اس بورڈ کا بیک گراونڈ والا حصہ سنہری اورمٹیالے رنگ کے ساتھ ہے اور متن سرخ رنگ کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے ۔
آثار کو متعارف کروانے والے اور تحقیقاتی ادارہ کے سربراہ نے بتایا: رہبر معظم انقلاب کے تحائف والے میوزیم میں قرآن کی محوریت سے بہت ہی عمدہ آثار پائے جاتے ہیں جو اس پورے میوزیم کے لئے زینت کا باعث ہیں ان آثار میں سے من جملہ قرآن کریم کے تیسویں پارے کا خوشنویسی والا بورڈ جسے سورہ توحید کے ہمراہ تحریر کیا گیا اور اسے ان اثار کے سینٹرز میں رکھا گیا ہے اس بورڈ کا سائز 87*87 سینٹی میٹر ہے۔
جواد فرھمند نژاد نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا: اس اثر کو تحریر کرنے والے نے قہوئی رنگ سے بورڈ کے اوپر والے کونے اور بائیں کونے میں مورب شکل اور موازی خطوط کے ساتھ نستعلق خط سے قرآن کریم کے تیسویں پارہ کو کتابت کیا ہے اور اس بورڈ کے سینٹر میں سورہ توحید کو سیاہ رنگ سے نستعلق شکستہ کے خط کے ساتھ دائرہ شکل میں تحریر کیا ہے ۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب کے تحائف والے میوزیم میں رکھے آثار میں گرانیٹ پتھر پر کندہ کاری کئے جانے والے قرآن کریم کو اس میوزیم کے بہترین آثار میں سے جانتے ہوئے کہا: قرآن کریم کا یہ نسخہ سیاہ رنگ کے گرانیٹ پتھر کے ا۱۱۴ ٹکڑوں پر 92 سینٹی میٹر کے قطر کے ساتھ گلدوزوی والی سوئی کے ساتھ کندہ کاری کیا گیا ہے اور تمام خطوط کو سونے کے پانی سے مزیّن کیا گیا ہے۔
فرھمند نژاد نے مثلث پتھر پر خوش نویسی کے ایک اور بورڈ جس پر سورہ بقرہ کو تحریر کیا گیا ہے کو متعارف کرواتے ہوئے کہا کہ اس بورڈ کی چوڑائی چھ سے انیس اور لمبائی ۳۵ اور موٹائی 5/5 سینٹی میٹر ہے۔
انہوں نے بتایا: اس اثر کو خورد بین سے بھی بڑی سختی سے پڑھا جا سکتا ہے ، خاتم کاری بورڈ میں 90*7/42 سینٹی میٹر سائز کے ساتھ ہے۔
لکڑی کے اوپر قرآن کریم کو کتابت کئے جانے والے جزوہ کا سائز 45*33 سینٹی میٹر ہے یہ جزوہ ۴۰ سورتوں پر پیغمبر کی بعثت شروع ہونے کے سال کی نیت سے اور لکڑی کے چودہ ٹکڑوں پر چودہ معصومین علیہم السلام کی نیت سے تحریر کیا گیا، یہ بھی ان آثار میں سے ہے جسے آستان قدس رضوی کے میوزیم میں قرآنی محوریت کے ساتھ رکھا گیا ہے ۔
جواد فرھمند نژاد نے وضاحت دیتے ہوئے کہا: مندرجہ بالا تمام آثار کو رہبر معظم انقلاب کے تحائف والے میوزیم میں عمومی نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔



   
وزٹرز کی تعداد:277
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...