خبر
1/4/2018
سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے دشمنوں کا اہم ترین ہتھیار قتل ہے

آستان قدس رضوی کے ادارہ غیر ایرانی زائرین کے سربراہ نے کہا؛  
سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے دشمنوں کا اہم ترین ہتھیار قتل ہے

آستان قدس رضوی کے ادارہ غیر ایرانی زائرین کے سربراہ نے کہا: سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے دشمنوں کا اہم ترین ہتھیار قتل ہے۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ آستان قدس رضوی کے ادارہ اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن اور ایران میں مقیم افغانیوں کی کلچرل رضوی فاؤنڈیشن کی کاوشوں سے ’’افغانستان کے محقیقین شہداء کی یاد میں‘‘ ایک سیمینار منعقد کیا گیا ؛ سید محمد جواد ھاشمی نژاد نے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: تاریخی لحاظ سے استعماری طاقتوں نے با واسطہ یا بلا واسطہ بہت سارے ممالک پر قبضہ کیا اور بہت ساری مشکلات کا باعث بنے ، ان ممالک میں سے ایک ملک افغانستان ہے۔ 
انہوں نے قتل اور دہشتگردی کو سیاسی مقصد کے حصول کے لئے استعماری طاقتوں کا ہتھیار جانتے ہوئے کہا: بہت سارے سیاسی الفاظ دنیا میں خاص معنی و مفہوم رکھتے ہیں لیکن قتل اور دہشتگردی کے لئے کوئی بھی خاص معنی اور مفہوم نہیں ہے۔ 
ھاشمی نژاد نےبتایا کہ گذشتہ سال امریکی سینٹ میں قتل اور دہشتگردی کا تصور واضح کرنے کے لئے ایک بل پیش کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: یہ بل ہرگز سینٹ میں پاس نہ ہوا، کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ وہ خود دہشتگردوں کے حامی اور مدد گار ہیں۔ 
آستان قدس رضوی کے ادارہ غیر ایرانی زائرین کے سربراہ نے بتایا کہ دہشتگرد گروپوں کی تشکیل مغربی ممالک کے توسط سے ہوئی ہے ، انہوں نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: کلینٹن ’’ گزینہ ھای سخت‘‘ کتاب میں وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے؛ ’’ القاعدہ اور طالبان ایسے گروپس ہیں جنہیں ہم نے تشکیل دیا ہے‘‘
انہوں نے بتایا: مغربی ممالک کے مطابق ، مغربی ایشیا کائنات کا مرکز اور سینٹر ہے اور ہر وہ شخص جو اس خطے پر کنٹرول حاصل کر سکے دنیا پر حکومت کر سکتا ہے ، اس لئے اس خطے میں امنیت ، ترقی اور پیشرفت ان کے مفادات کے خلاف ہیں۔ 
ھاشمی نژاد نے بتایا کہ افغانستان چالیس سالوں سے ہر قسم کی مشکلات برداشت کر رہا ہے ، لیکن ہرگز استعماری طاقتوں سے ڈر کر پیچھے نہیں ہٹا، انہوں نے کہا: افغانستان کی غیرت مند عوام نے دنیا کو آزادی کا درس دیا ہے۔
پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے افغانستان کی نیوز ایجنسی اطلس کے سربراہ سید احمد مبلغ اور لشکر فاطمیون کے ثقافتی مسئول حجت الاسلام زھیر مجاھد نے خطا ب فرمایا۔ 
قابل توجہ ہے ؛ رواں سال کے ۷ دی ماہ(شمسی مہینہ) میں داعش کے دہشتگردوں نے افغانستان کے ثقافتی سینٹر تبیان پر حملہ کیا جس کی وجہ سے ۱۲۵ اشخاص شہید ہوئے۔  

   
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...