خبر
10/6/2016
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا کردار

 
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا کردار

توھین کا جواب
امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک خاندانی شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ پر چلایا اور آپ کو ناسزا باتیں کھیں! لیکن امام علیہ السلام نے اس کو ایک بات کا بھی جواب نہ دیا یھاں تک کہ وہ شخص اپنے گھر واپس هوگیا۔
اس کے جانے کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگوں نے سنا کہ یہ شخص کیا کہہ رھا تھا؟ میں چاہتا هوں کہ میرے ساتھ چلو تاکہ میں جو اس کو جواب دوں وہ بھی سن لو، انھوں نے کھا: ٹھیک ھے ، ھم آپ کے ساتھ چلتے ھیں ، چنانچہ امام علیہ السلام نے نعلین پھنے اور اس کے گھر کی طرف روانہ هوئے، اور فرمایا:
<... وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنْ النَّاسِ وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ>
”...اور غصہ کو پی جاتے ھیں اور لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ھیں اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے۔“
(آپ کے ساتھی کہتے ھیں:) ھمیں معلوم هوگیا کہ امام علیہ السلام اس سے کچھ نھیں کھیں گے، بھر حال اس کے گھر پر پھنچے ، اور بلند آواز میں کھا: اس سے کهو؟ یہ علی بن حسین (علیھما السلام) آئے ھیں، وہ شخص جو فساد کرنے کے لئے تیار تھا اپنے گھر سے باھر نکلا اور اُسے شک نھیں تھا کہ آپ اس کی توھین آمیز گفتگو کی تلافی کرنے کے لئے آئے ھیں، امام سجاد علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے بھائی! کچھ دیر پھلے تم نے میرے سامنے میرے بارے میں کچھ باتیں کھیں، اگر مجھ میں وہ پاتیں پائی جاتی ھیں تو میں خدا کی بارگاہ میں طلب بخشش چاہتا هوں، اور اگر وہ باتیں مجھ میں نھیں پائی جاتیں تو خدا تجھے معاف کردے، (یہ سننا تھا کہ) اس شخص نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کھا: جو چیزیں میںنے کھیں وہ آپ میں نھیں ھیں بلکہ میں خود ان باتوں کا زیادہ سزاوار هوں۔
روایت کا راوی کہتا ھے: وہ شخص حسن بن حسن آپ کا چچا زاد بھائی تھا!
جذام والوں کے ساتھ محبت
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں: ایک روز حضرت اما م سجاد علیہ السلام جذام والوں کے پاس سے گزرے اور آپ اپنی سواری پر سوار تھے، اور وہ لوگ کھانا کھا رھے تھے، انھوں نے آپ کو کھانا کھانے کی دعوت دی، امام علیہ السلام نے فرمایا: تمھیں معلوم هونا چاہئے کہ اگر میں روزہ سے نہ هوتا تو تمھارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتا، اور جب آپ اپنے گھر پھنچے تو حکم دیا کہ کھانا بنایا جائے اور سلیقہ سے اچھا کھانا بنایا جائے اور پھر ان لوگوں کو کھانے کی دعوت دی اور خود بھی ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا تناول فرمایا۔
حاکم سے درگزر کرنا
ہشام بن اسماعیل، عبد الملک مروان کی طرف سے مدینہ کا حاکم تھا، واقدی، امام علی علیہ السلام کے پوتے عبد الله سے روایت کرتے ھیں کہ انھو ں نے کھا: ہشام بن اسماعیل، میرا بُرا پڑوسی تھا اور امام سجاد علیہ السلام کو بہت زیادہ اذیت پھنچاتا تھا، جب وہ معزول هوگیا، اور ولید بن عبد الملک کے حکم سے اُسے اس کی تلافی کے لئے دست بستہ کھڑا کردیا گیا، وہ مروان کے گھر کے پاس کھڑا کیا گیا تھا، امام سجاد علیہ السلام اس کے پاس سے گزرے اور اس کو سلام کی. اما م سجاد علیہ السلام نے اپنے خاص لوگوں کو تاکید کی تھی کہ کوئی اس کو کچھ نہ کھے۔
امن و امان کی فضا
حضرت امام علی بن الحسین علیھما السلام نے ایک روز اپنے غلام کو دو بار آواز دی لیکن اس نے جواب نھیں دیا، آپ نے اس سے تیسری بار فرمایا: اے میرے بیٹے! کیا تو نے میری آواز نھیں سنی؟ اس نے کھا: کیوں نھیں سنی، آپ نے فرمایا: تو تجھے کیا هوگیا کہ میرا جواب نھیں دیا؟ اس نے کھا: آپ کی طرف سے امنیت کا احساس تھا، امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: خدا کا شکر ھے کہ میرا خدمتگار میری نسبت امن و امنیت کا احساس رکھتا ھے۔
مخفی طور پر احسان کرنا
مدینہ میں کچھ ایسے گھرانے تھے کہ جن کی روزی اور ان کی زندگی کا ضروری سامان امام علیہ السلام کی طرف سے جاتا تھا لیکن ان کو یہ نھیں معلوم تھا کہ یہ سامان کھاں سے آتا ھے؟ جب امام سجاد علیہ السلام کی شھادت هوگئی ، (تو ان کو معلوم هوا کہ وھی مخفی طور پر امداد کیا کرتے تھے!)
اسی طرح بیان هوا ھے کہ: امام سجاد علیہ السلام ھمیشہ رات کی تاریکی میں چرمی تھیلیوں کو درھم و دینار سے بھر کر باھر نکلتے تھے اور در در پر جاکر دق الباب کیا کرتے تھے اور ھر گھر میں ایک مقدار درھم و دینار دیا کرتے تھے، آپ کی شھادت کے بعد لوگوں کو معلوم هوا کہ یہ سب کچھ امام سجاد (علیہ السلام) کی طرف سے آتا تھا۔
نماز اور احسان
ابوحمزہ ثمالی کہتے ھیں: میں امام سجاد علیہ السلام کو نماز کی حالت میں دیکھا کہ آپ کی ردا آپ کے شانے سے گر جاتی ھے لیکن اس کو روکنے کے لئے توجہ نھیں کرتے یھاں تک کہ آپ کی نماز تمام هوئی،میں نے نماز میں آپکی ردا پر بے توجھی کا سبب معلوم کیا؟ تو امام علیہ السلام نے جواب دیا: وائے هو تم پر! کیا تمھیں معلوم هو کہ میں کس کے سامنے کھڑا هوا تھا؟ انسان کی کوئی اس نماز کے علاوہ قبول نھیں هوتی جو دل سے پڑھی جائے۔
قرآنی عفو و بخشش
حضرت امام سجاد علیہ السلام کی ایک کنیز نماز کی وضو کے لئے آپ کے ھاتھوں پر پانی ڈال رھی تھی اچانک اس کے ھاتھوں سے لوٹا آپ کی چھرہ مبارک پر گر گیا اور آپ کی پیشانی زخمی هوگئی! امام سجاد علیہ السلام نے اپنا سر مبارک جھکا لیا، (اس موقع پر) کنیز نے کھا: خداوندعالم فرماتا ھے: ”...اور غصہ کو پی جاتے ھیں...“ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے اپنے غصہ کو پی لیا، اس کنیز نے کھا: ”...اور لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ھیں...۔“ امام علیہ السلام نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کردیا، کنیز نے کھا: ”... اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے...۔“ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: جا، میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کردیا۔
بازیگروں کے نقصان کا دن
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں: مدینہ میں ایک بازی گر اور بے هودہ شخص تھا، (ایک روز) اس نے کھا: یہ شخص (علی بن الحسین علیھما السلام) کو میں ھنسانے میں ناکام هوں، امام علیہ السلام اپنے دو خدمت گاروں کے ساتھ جا رھے تھے، چنانچہ وہ بھی آپ کے ساتھ چل دیا یھاں تک کہ وہ آپ کے شانوں سے آپ کی ردا اتار کر روانہ هوگیا، امام علیہ السلام نے اس پر توجہ نہ کی، لیکن لوگ اس کے پیچھے روانہ هوئے اور اس سے وہ ردا لے کر واپس آئے اور آپ کے مبارک شانوں پر ڈال دی، امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کون ھے؟ لوگوں نے جواب دیا: یہ ایک بازی گر ھے جو مدینہ کو ھنساتا پھرتا ھے، امام علیہ السلام نے فرمایا: اس سے کهو کہ خداوندعالم کے یھاں ایک ایسا دن ھے جس میں بیهودہ لوگوں کا خسارہ اور نقصان هوگا۔
قافلہ میں نا آشنا
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں: علی بن الحسن علیھما السلام کبھی بھی سفر پر نھیں جاتے تھے مگر ایسے لوگوں کے ساتھ جو آپ کو نہ پھنچانتے هوں اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ ضرورت کے وقت آپ ان کی مدد کریں گے۔
ایک بار ایک قافلہ سفر کے لئے روانہ هوا، ایک شخص نے امام سجاد علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان لیا، اس نے کھا: کیا تمھیں معلوم ھے کہ یہ کون ھیں؟ انھوں نے کھا: نھیں، اس نے کھا: یہ علی بن الحسین (علیہ السلام) ھیں، چنانچہ سب لوگ آپ کی طرف دوڑے اور آپ کے ھاتھ او رپیر کا بوسہ دینے لگے، اور انھوں نے کھا: یابن رسول الله! کیا آپ ھمیں اپنے ھاتھوں اور زبان کے ذریعہ دوزخ میں بھیجنا چاہتے ھیں؟ اگر ایسا هوجاتا تو ھم آخر عمر تک ھلاک اور بدبخت هوجاتے! کس چیز نے آپ کو ایسے سفر کے لئے مجبور کیا ھے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں ایک بار ایسے قافلہ کے ساتھ سفر پر گیا جو مجھے پہچانتے تھے، اور پیغمبر اکرم (ص) کی وجہ سے مجھ سے ایسا سلوک کیا کہ جس کا میں حقدار نھیں هوں، میں ڈرا کہ تم بھی مجھ سے ایسا ھی سلوک کرو گے، اسی وجہ سے میں نے خود کو نا آشنا رکھا جو مجھے پسند ھے۔
حیوانوں کے ساتھ نیک برتاؤ
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: علی بن الحسین (امام سجاد) علیہ السلام نے اپنی شھادت کے وقت اپنے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام سے فرمایا: میں اس اونٹ پر ۲۰ بار حج کے لئے گیا هوں اور اس کو ایک تازیانہ تک نھیں مارا، جب یہ مر جائے تو اس کو دفن کرنا تاکہ درندے اس کے گوشت کو نہ کھائیں، کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: کوئی بھی اونٹ ایسا نھیں ھے جو مقام عرفہ میں سات بار لے جایا گیا هو مگر یہ کہ خداوندعالم اس کو جنت کی نعمتوں میں سے قرار دے اور اس کی نسل کو بابرکت قرار دے، چنانچہ جب امام سجاد علیہ السلام کا اونٹ مر گیا تو امام محمد باقر علیہ السلام نے اس کو دفن کردیا۔
افطاری بخش دینا
ایک روز حضرت اما م سجاد علیہ السلام روزہ سے تھے، ایک گوسفند ذبح کرنے کا حکم دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بنائیں، جب غروب کا وقت آگیا اور آپ روزہ سے تھے تو آپ دیگ کے پاس پھنچے اور آبگوشت کی خوشبو کو سونگھا اور اس کے بعد فرمایا: ظرف لائے جائیں، (چنانچہ جب ظرف آگئے تو آپ نے فرمایا: ان ظرفوں میں فلاں فلاں کے لئے گوشت بھر کر لے جاؤ، یھاں تک کہ پوری دیگ خالی هوگئی، اس موقع پر امام سجاد علیہ السلام کے لئے روٹی اور کھجور لایا گیا اور آپ نے اس سے افطار کیا۔
غریبوں کی مدد
جب رات کی تاریکی بڑھ جاتی تھی اور لوگ سوجایا کرتے تھے تو امام علیہ السلام اٹھتے تھے اور گھر میں اپنے اھل و عیال سے بچا هوا رزق و روزی جمع کیا کرتے تھے ا ور تھیلیوں میں رکھ کر اپنے شانوں پر رکھتے تھے اور اپنے منھ کو چھپالیا کرتے تھے تاکہ کھیں پھنچانے نہ جائیں، اور پھر غریبوں کے گھر جاتے اور ان کے درمیان تقسیم کردیا کرتے تھے۔
بسا اوقات ایسا هوتا تھا کہ لوگوں کے دروازوں پر انتظار میں کھڑے رہتے تھے تاکہ وہ آئیں اور اپنا حصہ لے جائیں، لوگ جب آپ کو دیکھتے تھے اور بلا واسطہ آپ کا مشاہدہ کیا کرتے تھے فوراً آپ کی خدمت میں جاتے تھے اور کھا کرتے تھے: تھیلیوں والے آگئے ھیں.
 
وزٹرز کی تعداد:2230
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...