خبر
10/6/2016
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک جائزہ

 
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک جائزہ

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا نام نامى، اسم گرامی روحانی اقدار کے ھیرو کے طور پر ھمارے سامنے آتا ھے۔ زھد وتقویٰ اور عبادت سمیت انسان کی تمام خوبیوں اور اعلیٰ صفات و کمالات کو دیکھا جائے تو وہ ایک ایک کر کے امام سجاد علیہ السلام میں واضح طور پر موجود ھیں، جب خاندان رسالت پر نظر ڈالتے ھیں تو امام سجاد علیہ السلام چودھویں کے چاند کی مانند دمکتے ھوئے نظر آتے ھیں۔ اس عظیم خاندان کا ھر فرد اپنے اپنے عھد کا بے مثال انسان ھوتا ھے۔ ایسا انسان کہ انسانیت اس پر فخر کرے۔ اگر ھم ان کے کردار و عمل کو دیکھیں تو ھمیں ماننا پڑے گا اسلام کی تمام تر جلوہ آفرینیاں، ایمان کی ساری ساری ضوفشانیاں آپ میں موجود ھیں۔ جب ھم حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ذات گرامی کو دیکھتے ھیں تو آپ کے کمالات وصفات کو دیکھ کر حیران ھو جاتے ھیں کہ آپ کا ھر کام اتنا بلند ھے کہ اس تک پھنچنا تو در کنار آدمی ان کے بارے سوچ بھی نھیں سکتا اس کی وجہ کیا ھے؟ وجہ صاف ظاھر ھے جو پیغمبر اسلام (ص) کی حفاظت کیلئے معجزانہ طور پر پیدا ھوا ھو اور اس کی تربیت بھی خود رسالتمآب (ص) نے کی ھو پھر ساری زندگی سرورکائنات کے نام وقف کردی ھو۔ بھلا اس عظیم انسان کی عظمت و رفعت کا کیسے انداز لگایا جاسکتا ھے ۔ سایہ بن کر ساتھ چلنے والا علی علیہ السلام پیغمبر السلام (ص) کی ضرورت بن چکا تھا۔ گویا یک جان دو قالب ھوں۔ جب انسان علی علیہ السلام کو دیکھتا ھے تو ان کی سیرت طیبہ کے آئینہ میں حضور (ص) پر نور کی سیرت نظر آتی ھے (اسی طرح آپ کی تمام اولاد میں ایک جیسی صفات ھیں۔ زمانہ ھزار رنگ بدلے علی علیہ السلام اور اولاد علی (ع) کبھی اور کسی دور میں نھیں بدل سکتی۔ کیونکہ یہ حضرات اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا اٹل فیصلہ ھیں اور اس کا ھر فیصلہ ھمیشہ قائم و دائم رھتا ھے۔
عبادت امام (ع)
اھل بیت علیھم السلام کی عبادت کا انداز بھی ایک جیسا ھے دنیا کی ھر چیز میں دھوکے کا امکان ھے لیکن آل محمد (ص) ایک ایسی مسلمہ حقیقت ھیں کہ جن میں حقیقت کے سوا کچھ نھیں نظر آتا۔ انسان جب امام زین العابدین علیہ السلام کو دیکھتا ھے تو آپ کو صحیح معنوں میں خدا کا مخلص بندہ پاتا ھے، اور بیساختہ کھہ اٹھتا ھے کہ بندہ ھو تو ایسا ھو اور بندگی ھو تو ایسی۔ آپ کی نماز خالص بندگی سے خالص عبادت تھی۔ آپ کی دعاؤں کا سوز اڑتے ھوئے پرندوں کو روک لیتا۔ راہ گزرتے لوگ رک کر فرزند حسین علیہ السلام کی رقت آمیز آواز کو سن کر گریہ کرتے۔ مسٹر کارل کھتا ھے کہ انسان کی روح اللہ کی طرف پرواز کرتی ھے (بیشک اگر کوئی نمازی کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھے اور اس کی روح ادھر ادھر اڑتی پھرے تو یہ ایسی روح ھے کہ جو اس جسم سے جاچکی ھو) انسان جب سید سجاد (ع) کے سجدوں، کو دیکھتا ھے تو بے ساختہ کھہ اٹھتا ھے کہ اسلام کیا ھے؟ روح انسان کا حسن کیا ھے؟
اینھمه آواز ھا از شہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود
"یعنی یہ تمام آوازیں مولا ھی کی تھیں اگر چہ وہ ان کے فرزند شیر خوار کے حلق سے آرھی تھیں۔"
جب کوئی انسان حضرت زین العابدین علیہ السلام کو دیکھتا ھے تو یوں محسوس کرتا ھے جیسے پیغمبر اکرم (ص) محراب عبادت میں محو عبادت ھوں، یا رات کے تیسرے پہر میں کوہ حرا میں اپنے رب سے راز و نیاز کر رھے ھوں۔ ایک رات آپ عبادت الہٰی میں مصروف تھے کہ آپ کا ایک صاجزادہ کہیں پہ کر پڑا اور اس کی ہڈیاں چور چور ھو گئیں۔ اب اس بچے کو پٹیوں کی ضرورت تھی آپ کے گھر والوں نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ کی عبادت میں مخل ھوں۔ گھر میں ایک جراح کو بلایا گیا اس نے جب بچہ کو پٹی باندھی تو وہ چلا اٹھا اور درد سے کراہ رھا تھا۔ اس کے بعد خاموش ھو گیا اور رات کا سارا واقعہ آپ کو بتایا گیا آپ اس وقت عبادت کر رھے تھے اس سے معلوم ھوتا ھے کہ امام زین العابدین علیہ السلام عبادت خداوندی میں اس قدر منھمک ھوتے اور آپ کی روح خدا کی طرف اس طرح پرواز کرتی تھی کہ عبادت کے وقت آپ کے کانوں پر کوئی بھی آواز نہ پڑتی تھی۔
پیکرِ محبت
امام زیں العابدین علیہ السلام خلوص و محبت کا پیکر تھے۔ جب بھی آپ کہیں پر جاتے اور راستے میں کسی غریب وفقیر اور مسکین کو دیکھتے تو آپ کے قدم رک جاتے اور فوراً اس بیکس کی مدد کرتے اور بیکسوں، بے نواؤں کی دلجوئی کرنا، ان کو سھارا دینا اور ان کی ضرورت پوری کرنا آپ کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ جن کا کوئی نھیں ھوتا تھا آپ اس کی دوسروں سے بڑھ کر ڈھارس بندھاتے۔ اس کو اپنے در دولت پر لے آتے اور اس کی ضرورت پوری کرتے تھے ایک روز آپ کی نظر ایک جذامی شخص (کوڑھ کے مریض) پر پڑى، لوگ اس سے نفرت کرتے ھوئے آگے گزرجاتے تھے۔ کوئی بھی اس سے بات کرنا گوارا نہ کرتا تھا، آپ اس کو اپنے گھر میں لے آئے۔ اس کی خوب خاطر مدارت کی۔ آپ ھر مسکین وضرورت مند سے کہا کرتے تھے کہ آپ لوگوں کو جب بھی کوئی مشکل آئے تو سید سجاد (ع) کا دروازہ آپ کیلئے کھلا ھے۔
امام زین العابدین علیہ السلام کا گھر مسکینوں، یتیموں اور بے نواؤں کا مرکز ھوا کرتا تھا (آپ ایک سایہ دار شجر کی طرح دوسروں پر سایہ کرتے، مھربانی و عطوفت سے پیش آتے اور ان کی مشکل وپریشانی کو دور کرتے تھے) ۔
کاروان حج کی خدمت کرنا
امام سجاد علیہ السلام حج پر تشریف لے جارھے تھے آپ نے اس قافلہ کو جانے دیا جو آپ کو جانتے تھے اور ایک اجنبی قافلہ کے ساتھ ایک مسافر اور پردیسی کے طور پر شامل ھو گئے۔ آپ نے ان سے کہا کہ میں آپ لوگوں کی خدمت کرتا جاؤں گا۔ انھوں نے بھی مان لیا۔اونٹوں اور گھوڑوں کے سفر میں بارہ دن لگتے تھے، امام علیہ السلام اس مدت میں تمام قافلہ والوں کی خدمت کرتے رھے۔ اثناء سفر میں یہ قافلہ دوسرے قافلہ کے ساتھ جا ملا ان لوگوں نے امام علیہ السلام کو پھچان لیا اور دوڑ کر آپ کی خدمت میں آئے عرض کی مولا (ع) آپ کھاں؟ امام نے سب کی خیرت دریافت کی انھوں نے اس قافلے سے پوچھا کیا تم اس نوجوان کو پھچانتے ھو؟ انھوں نے کھا نھیں یہ ایک مدنی نوجوان ھے اور بہت ھی متقی اور پرھیز گار ھے۔ وہ بولے تمھیں خبر نھیں یہ حضرت امام زیں العابدین علیہ السلام ھیں، اور آپ ھیں کہ امام سے کام لئے جارھے ھیں۔ یہ سن کر وہ لوگ امام کے قدموں میں گر پڑے عرض کی مولا آپ ھمیں معاف کر دیجئیے کہ ھم نے لا علمی کی بناء پر آپ کی شان میں گستاخی کی کھاں آپ کی عظمت ورفعت اور کھاں ھماری پستى؟
ھم پر کھیں عذاب الہٰٰی نہ آپڑے۔ آپ ھمارے آقا و مولا (ع) ھیں۔
آپ کو سرداری کی مسند پر بیٹھنا چاھیے تھا۔ اب آپ تشریف رکھیں ھم آپ کی خدمت کریں گے۔ آپ نے فرمایا کہ میں انجان اور اجنبی بن کر آپ لوگوں کے قافلہ میں اس لئے شامل ھوا تھا کہ آپ زائرین بیت اللہ ھیں، آپ کی خدمت کر کے ثواب حاصل کروں، آپ فکر نہ کریں میں نے جو بھی خدمت کی ھے اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب مجھ کو ملے گا
امام (ع) کا دعا مانگنا اور گریہ کرنا
جس طرح آپ کے پدر بزرگوار حضرت حسین علیہ السلام کو کام کرنے کا موقعہ نہ دیا گیا اسی طرح آپ بھی مصیبتوں، ارمانوں اور پریشانیوں کی وجہ سے وہ نہ کرسکے جو کرنا چاھتے تھے۔ لیکن کچھ وقت امام جعفر صادق علیہ السلام کو میسر ھوا اور آپ نے بہت کم مدت میں علم و عمل کی ایک دنیا آباد کردی۔ آپ نے علوم آل محمد (ص) کو دنیا بھر میں پھیلایا۔ بہر کیف جو شخص اسلام کا سچا خدمت گزار ھو وہ تمام کلمات میں رضائے الھٰی کو مد نطر رکھتا ھے، وہ مشکلات اور سھولیات کو نھیں دیکھتا، بس کام کرتا جاتا ھے۔ یھاں تک کہ رب العزت کی طرف سے بلاوا آجاتا ھے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کی عبادت کو دیکھ کر اور دعاؤں کو پڑھ کر ملت جعفریہ کا سر فخر سے بلند ھو جاتا ھے، آپ کی دعا میں التجا بھی ھے اور دشمنوں کے خلاف احتجاج بھی۔ آپ کی دعا میں تبلیغ بھی ھے اور خوشخبری بھی۔ گویا برکتوں، رحمتوں کی ایک موسلا دھار بارش برس رھی تھی۔
بعض لوگوں کا زعم باطل ھے کہ چونکہ امام سجاد علیہ السلام نے والد بزرگوار کی شھادت کے بعد تلوار کے ذریعہ جھاد نہ کیا اس لئے آپ نے دعاؤں پر اکتفاء کی اور غموں کو دور کرنے کیلئے ھر وقت دعا مانگا کرتے تھے؟ ایسا ھر گز نھیں ھے آپ نے اپنے والد گرامی کو زندہ کرنے کیلئے اس کی یاد کو ھر وقت تازہ کیے رکھا۔ دنیا والوں کو معلوم ھونا چاھیے کربلا کو کربلا بنایا ھی سید سجاد (ع) نے ھے۔ آپ کا اپنے پیاروں کی یاد میں گریہ کرنا بھی جھاد تھا۔ آپ دنیا والوں کو بتانا چاھتے تھے کہ امام حسین علیہ السلام کا مقصد قیام کیا تھا۔ آپ نے اتنی تکلیفیں پریشانیاں برداشت کیوں کى؟ آپ پر ظلم کیوں ھوا اور کس نے کیا؟ یہ سب کچھ سید سجاد (ع) ھی نے بتایا ھے۔ (میرے نزدیک امام سجاد علیہ السلام کی مصیبت کا باب ھی سب ائمہ (ع) کے مصائب سے الگ اور انوکھا ھے۔ خدا جانے کتنا مشکل وقت ھوگا جب یزید ملعون منبر پر بیٹھ کر نشے سے مدھوش ھو کر امام مظلوم کے سر اقدس کی توھین کر کے اپنے مظالم کو فتح و کامیابی سے تعبیر کر رھا تھا۔ پھر کتنا کٹھن مرحلہ تھا وہ جب محذرات عصمت کی طرف اشارہ کرکے پوچھتا تھا کہ یہ بی بی کون ھے اور وہ بی بی کون؟یہ جناب سید سجاد علیہ السلام ھی کا دل تھا جو نہ سھنے والے غم بھی بڑی بے جگری سے سھتا رھا۔ یہ وہ غم تھے کہ پہاڑ بھی برداشت نہ کرسکتے تھے۔ پھر والد گرامی اور شھدائے کربلا کی شھادت کے بعد آپ نے جس انداز میں یزیدیت کا جنازہ نکالا اور اپنے عظیم بابا کا مقصد شھادت بیان کیا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ بول اٹھا سید سجاد (ع) ! تیری عظمتوں کا کیا کھنا۔
آپ واقعہ کربلا کے بعد ھر وقت گریہ کرتے رھتے۔اشکوں کا سیلاب تھا جو رکتا نھیں تھا۔ آنسو تھے کہ بھتے رھتے تھے، ھائے حسین علیہ السلام، ھائے میرے عزیز جوانو، ھائے راہ حق میں قربان ھو جانے والو! سجاد تمھاری بے نظیر قربانیوں اور بے مثال وفاؤں کو سلام پیش کرتا ھے۔ آہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غم کا وہ کوہ گراں! جب تک یہ دنیا باقی ھے غم شبیر سلامت رھے گا۔ ایک روز آپ کے ایک غلام نے پوچھ ھی لیا کہ آقا آخر کب تک روتے رھیں گے۔ اب تو صبر کیجیئے۔ اس نے خیال کیا تھا کہ امام (ع) شاید اپنے عزیزوں کو یاد کر کے روتے رھتے ھیں۔ آپ نے فرمایا تو کیا کھتا ھے؟ حضرت یعقوب (ع) کا ایک بیٹا یوسف (ع) ان کی نظروں سے اوجھل ھوا تھا کہ قرآن مجید کے بقول:
"وابیضت عیناہ من الحزن"
"کہ روتے روتے ان کی آنکھیں سفید ھو گئی تھیں۔"
میں نے اپنی آنکھوں سے اٹھارہ یوسف تڑپتے ھوئے دیکھے ھیں۔ میں کس طرح ان کو بھلادوں۔
 
وزٹرز کی تعداد:3893
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...