خبر
9/13/2016
عیدمباہلہ کے کچھ حقائق

 
عیدمباہلہ کے کچھ حقائق

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مباھلہ کی آیت تمام مسلمانوں کو مباھلہ کی دعوت دینے کے لئے ایک عام حکم نہیں ہے بلکہ اس آیت میں مخاطب صرف اور صرف پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں ، لیکن یہ موضوع اس بات سے منع نہیں کرتا کہ مخالفین کے سامنے مباھلہ ایک عام حکم ہوجائے اور ایماندار لوگ جو کہ کامل طور پر تقوی اور خدا کی عبادت کرتے ہیں وہ اپنے استدلال پیش کرتے وقت دشمن کی لجاجت کی وجہ سے ان کو مباھلہ کی دعوت دے سکتے ہیں ۔
اسلامی کتابوں میں جو روایات نقل ہوئی ہیں ان سے بھی اس حکم کا عام ہونا سمجھا جاتا ہے : تفسیر نور الثقلین کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ٣٥١ پر امام صادق (علیہ السلام) سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے
اگر مخالفین تمہاری حق بات کو قبول نہ کریں تو تم ان کو مباھلہ کی دعوت دو ! ۔
راوی کہتا ہے : میں نے سوال کیا کہ ان سے کس طرح مباھلہ کریں؟
فرمایا : تین دن تک اپنی اخلاقی اصلاح کرو
میں خیال کرتا ہوں کہ آپ نے فرمایا : روزہ رکھو، غسل کرو اور جس سے مباھلہ کرنا چاہتے ہو اس کے ساتھ صحرا میں جائو ، پھر اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو اس کے داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالو اور تم خود شروع کرو اور کہو : خدایا ! تو ساتوں آسمانوں ا ور ساتوں زمینوں کا پروردگار ہے اور ان کے اندر چھپے ہوئے اسرار سے آگاہ ہے ، تم رحمان و رحیم ہے ، اگر میرا مخالف حق کا انکار کرے اور باطل کا دعوی کرے تو آسمان سے اس کے اوپر ایک بلاء نازل فرما اوراس کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے.اور ایک مرتبہ پھر اس دعا کو دہرائے اور کہے:
اگر یہ شخص حق کا انکار کرے اور باطل کا دعوی کرے تو آسمان سے اس کے اوپر ایک بلاء نازل فرما اوراس کو دردناک عذاب میں مبتلا کردے
پھر فرمایا : کچھ دیر نہیں گزرے گی کہ اس کا نتیجہ ظاہر ہوجائے گا ،خدا کی قسم ! کوئی بھی شخص اس طرح سے میرے ساتھ مباھلہ کرنے کو تیار نہیں ہوا.
مباھلہ کی آیت میں صیغہ جمع کا مفرد پر اطلاق
علمائے اسلام کا اجماع، اور وہ بہت سی حدیثیں جو شیعہ اور اہل سنت کی معتبر اور اسلامی کتابوں میں اس حدیث کے شان نزول کو اہل بیت (علیہم السلام) کی شان میں نازل ہونے کو بیان کرتی ہیں ،ان میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اپنے ساتھ علی علیہ السلام، فاطمہ زہرا علیہا السلام اور حسنین علیہما السلام کے علاوہ کسی اور کو نہیں لے گئے اوریہ خود آیت کی تفسیر کے لئے بہترین قرینہ ہے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کے لئے جو قرائن استعمال ہوتے ہیں ان میں سے ایک سنت اور شان نزول ہے ۔
اس بناء پر مذکورہ اعتراض صرف شیعوں پر نہیں ہے بلکہ تمام اسلامی علماء کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔
ثانیا : صیغہ جمع کا مفرد یا تثنیہ پر اطلاق ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے اور قرآن وغیر قرآن اور ادبیات عربی بلکہ غیر عرب میں بھی اس پر بہت سی دلیلیں ہیں ۔
تفصیل کے ساتھ وضاحت
بہت زیادہ ایسا ہوتا ہے کہ کس قانون کو بیان ، یا کسی عہدنامہ کو تنظیم کرتے وقت حکم عمومی طور پر یا جمع کے صیغہ میں بیان کیا جاتا ہے ،مثلا عہدنامہ میں اس طرح لکھتے ہیں : اس کو جاری کرنے والے ذمہ دار ، دستخط کرنے والے اور ان کے بچے ہیں جبکہ ممکن ہے کہ دونوں طرف سے ان کے صرف ایک یا دو بچے ہوں ، یہ موضوع کبھی بھی جمع کے صیغہ کے ساتھ قانون اور عہدنامہ لکھتے وقت غلط نہیں ہوتا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس کے دو مرحلہ ہیں : قرار داد کا مرحلہ اور اس کو جاری کرنے کا مرحلہ ۔ قرار داد کے مرحلہ میں کبھی الفاظ جمع کی صورت میں ذکر ہوتے ہیں تاکہ تمام مصادیق پرتطبیق کریں ، لیکن جاری کرنے کے مرحلہ میں ممکن ہے کہ مصداق صرف ایک آدمی میں منحصر ہو اور مصداق میں یہ انحصار ، مسئلہ کے عمومی ہونے سے کوئی منافات نہیں رکھتا ۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) نے نجران کے نصاری کے ساتھ جو قرار داد کی تھی اس کے مطابق آپ کی ذمہ داری تھی کہ اپنے خاندان کے خاص بچوں ، عورتوں اور تمام ان لوگوں کو جو آپ کی جان کی طرح تھے ، مباھلہ میں لے جاتے ،لیکن دو بچوں ، ایک مرداور ایک عورت کے علاوہ کوئی دوسرا مصداق نہیں تھا (غور کریں) ۔
اس کے علاوہ قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر لفظ جمع استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مصداق صرف ایک فرد میں منحصر ہے : مثلا اسی سورہ کی ١٧٣ ویں آیت میں بیان ہوا ہے : الَّذینَ قالَ لَہُمُ النَّاسُ ِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ ۔
یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض لوگوں نے کہاکہ لوگو ں نے تمہارے لئے عظیم لشکر جمع کرلیا ہے لہذا ان سے ڈرو۔
اکثر مفسرین کی رائے کے مطابق یہاں پر :الناس (لوگوں) سے مراد نعیم بن مسعود ہے جس نے مسلمانوں کو مشرکین کی طاقت سے ڈرانے کے لئے ابوسفیان سے کچھ مال لیا تھا ۔
اسی طرح ١٨١ ویں آیت میں ملتا ہے : لَقَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّذینَ قالُوا ِنَّ اللَّہَ فَقیر وَ نَحْنُ أَغْنِیاء۔ اللہ نے ان کی بات کوبھی سن لیا ہے جن کا کہنا ہے کہ خدا فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔لہذا اس نے ہم سے زکات دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جب کہ آیت میں الذین سے مراد حُیی بن ا خطب یا فنحاص ہے ۔
کبھی کبھی مفرد کے لئے لفظ جمع کا استعمال احترام کے لئے بھی ہوتا ہے جس طرح سے ابراہیم علیہ السلام) کے لئے ملتا ہے : اِنَّ ِبْراہیمَ کانَ أُمَّةً قانِتاً لِلَّہِ حَنیفاً وَ لَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکینَ۔ بیشک ابراہیم علیہ السّلام ایک مستقل امّت اور اللہ کے اطاعت گزار اور باطل سے کترا کر چلنے والے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔
یہاں پر لفظ امت جو کہ اسم جمع ہے ایک شخص کے اوپر اطلاق ہوا ہے ۔
 
وزٹرز کی تعداد:417
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...