خبر
9/11/2016
عید غدیرخم اور امیرالمومنین علی علیه السلام

 
عید غدیرخم اور امیرالمومنین علی علیه السلام

عید غدیر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اسے ایک اسلامی دن قرار دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس دن خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا:
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (سورہ مائدہ، آیہ 3)
آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں مکمل کر دیں اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو چن لیا"۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام ائمہ معصومین علیھم السلام نے عید سعید غدیر کے دن خوشی منانے اور اس دن کی یاد تازہ رکھنے پر خاص تاکید کی ہے۔ ائمہ معصومین علیھم السلام نے عید سعید غدیر کو "عید الاکبر" یعنی بڑی عید کے طور پر یاد کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ بلافصل کے طور پر تعیین کیا گیا بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دستور الہی کے تحت اپنے بعد آنے والے تمام جانشینوں یعنی حضرت زہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کے گیارہ فرزندان کا نام لے کر انہیں لوگوں کو پہچنوایا اور آخر الزمان میں امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خوشخبری بھی سنائی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ غدیر کے واقعے نے اسلام کے مستقبل پر انتہائی گہرا اثر ڈالا ہے اور اسلام کی تقدیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ واقعہ غدیر کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ایک اہم ترین الہی فریضہ انجام دیا۔ وہ فریضہ جس کا انجام دینا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام رسالت کے برابر تھا اور نعوذباللہ اس فریضے کو انجام دینے میں کوتاہی کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گذشتہ تمام محنتوں پر پانی پھر جانے اور اسلام کے آغاز سے جدوجہد کرنے والے تمام مسلمانوں کی فداکاریاں اور قربانیاں ضائع ہو جانے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا۔ وہ فریضہ جس کی ادائیگی کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ صرف اپنے جانشین یعنی حضرت علی علیہ السلام بلکہ ان کے بعد والے جانشینوں یعنی حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کی نسل سے باقی 9 اماموں میں سے ہر ایک کا نام لے کر لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ یہ افراد میرے جانشین اور خلیفہ ہیں۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض قریبی افراد کی جاہلانہ کینہ توزی اور جاہ طلبی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ادھوری رہ گئی اور اس پر عمل نہ کیا گیا اور وہ فیصلہ جو خداوند متعال نے امت مسلمہ کیلئے کر رکھا تھا اسے عملی جامہ پہننے سے روک دیا گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلام اور مسلمین کو ان کے حقیقی راستے سے منحرف کر دیا گیا جس کے بھیانک نتائج عالم اسلام آج بھی بھگت رہا ہے۔ خداوند متعال سورہ مائدہ کی تیسری آیہ میں فرماتا ہے:
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا )سورہ مائدہ، آیہ 3(
آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں مکمل کر دیں اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو چن لیا"۔
اسی طرح سورہ مائدہ کی آیہ 67 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:
یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس
اے رسول، جو کچھ تمہاری جانب تمہارے خدا کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے اپنی رسالت کو کوئی کام انجام نہ دیا اور یاد رکھو خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا"۔
سب مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جب یہ آیہ نازل ہوئی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھام کر اسے ہوا میں بلند کیا اور فرمایا:
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ
جس جس کا میں مولی ہوں یہ علی اس اس کا مولا ہے، اے خدا جو علی سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر اور جو علی سے دشمنی اختیار کرے تو بھی اس سے دشمنی کر"۔
شیعہ اور سنی مورخین کا کہنا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی موجود تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد عرض کی اور کہا:
بَخّ بَخّ لَکَ یَا ابْنَ أَبی طالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَیْتَ مَوْلایَ وَ مَوْلا کُلِّ مُؤمِنٍ وَ مُؤمِنَةٍ
مبارک ہو اے ابوطالب کے بیٹے، تو ہمارا بھی ولی بن گیا اور ہر مومن مرد اور عورت کا بھی ولی بن گیا ہے"۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ انتہائی اہم اور مشکل دینی فریضہ انجام دینے کے باوجود پریشان تھے اور فرماتے رہتے تھے کہ خداوند متعال نے مجھے ایسا کام انجام دینے کا حکم دیا تھا جس کو انجام دینے میرے لئے انتہائی مشکل تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ لوگ اس بارے میں مجھے جھٹلا دیں گے۔ لیکن خداوند متعال نے مجھے دھمکی دی کہ اگر اس فریضہ کو انجام نہیں دیا تو میرے عذاب کا شکار ہو جاو گے اور یہ آیہ نازل فرمائی:
یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس (سورہ مائدہ، آیہ 67)۔
واقعہ غدیر ائمہ معصومین علیھم السلام کے کلام اور سیرت کی روشنی میں:
جب ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی سیرت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، امیرالمومنین امام علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ طاہرین علیھم السلام نے روز غدیر کو ایک عید کے طور پر منایا ہے اور اس دن دوسرے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کیا کرتے تھے اور انہیں تاکید کرتے تھے کہ وہ اس دن ایک دوسرے کو عید مبارک کہیں۔
حجہ الوداع کے دوران جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خم کے میدان میں غدیر کا معروف خطبہ دیا تو اس کے آخر میں تین بار فرمایا: من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ تاکہ یہ جملہ تاریخ میں اور مسلمانوں کے کانوں میں ہمیشہ کیلئے باقی رہ جائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر اعلان کر چکے تو اسی دن اس دن کو عید قرار دیا اور ایک خیمے میں تشریف لے گئے اور ہر آنے والے کو انتہائی خوشی کے عالم میں مبارکباد دینے لگے اور ان سے فرمایا:
مجھے بھی مبارکباد دیں کیونکہ خداوند عالم نے مجھے نبوت سے اور میرے اہلبیت کو امامت سے مخصوص کر دیا ہے"۔
اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک اور موقع پر یوں فرماتے ہیں:
غدیر خم کے دن (18 ذی الحج) میری امت کی سب سے بڑی عید کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خداوند متعال نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بھائی ابوطالب کے بیٹے علی کو اپنی امت کی ہدایت کا پرچم عطا کروں اور یہ اعلان کروں کہ میرے بعد ہدایت کا راستہ صرف اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ غدیر خم وہ دن ہے جب خداوند متعال نے دین اسلام کو کامل کر دیا اور میری امت پر اپنی نعمتوں کو مکمل کر دیا اور ہمارے لئے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا"۔
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا خطبہ غدیریہ: خود امیرالمومنین امام علی علیہ السلام سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے 18 ذی الحج کو عید کا دن قرار دیا کرتے تھے۔ امام علی علیہ السلام کے دورہ خلافت کا واقعہ ہے کہ ایک دن عید سعید غدیر جمعہ کو آ گئی۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ میں شریک ہونے کیلئے مسجد میں جمع تھی۔ امام علی علیہ السلام خطبہ جمعہ کیلئے منبر پر تشریف لائے۔ امام حسین علیہ السلام اس دن کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
"دن شروع ہوئے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے جب میرے والد محترم نے جمعہ کا خطبہ دینا شروع کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے خداوند متعال کی حمد و ثنا انجام دی اور اس کے بعد خدا کی صفات بیان کیں اور فرمایا کہ حاکمیت اعلی خداوند متعال کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کے بعد خدا کی نعمتوں کا ذکر کیا اور لوگوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا: خداوند متعال نے آج کے دن آپ کیلئے دو بڑی عیدیں اکٹھی کر دی ہیں (عید غدیر اور عید جمعہ)۔ ایسی دو عیدیں جو ایک دوسرے کے فلسفہ وجودی کی تکمیل کرتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک عید دوسری عید کے ذریعے ہدایت حاصل کرنے میں موثر ہے۔ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم نے اس کے بعد فرمایا: توحید اور خدا کی وحدانیت پر ایمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کو مانے بغیر درگاہ خداوندی میں قبول نہیں کیا جائے گا اور دین و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس شخص کی ولایت کو مانے بغیر قبول نہیں ہو گا جس کا حکم خدا نے دیا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اہل ولایت کے ساتھ توسل اور تمسک پیدا نہ ہو جائے"۔
اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "خداوند متعال نے غدیر کے دن اپنے منتخب شدہ افراد کے بارے میں اپنا ارادہ اپنے رسول پر نازل کر دیا اور اپنے رسول کو دستور دیا کہ ان کی ولایت اور جانشینی کا اعلان کر دو تاکہ کفار اور منافقین کا راستہ بند ہو جائے۔ اور اس کام میں اپنے دشمنوں کی جانب سے کسی خطرے کی پرواہ نہ کرے۔ غدیر کا دن انتہائی شان و منزلت والا دن ہے۔ اس دن خدا کی جانب سے مسلمانوں کیلئے آسانیاں نازل ہوئی ہیں اور سب افراد پر اتمام حجت ہو چکی ہے۔ آج کا دن حقائق کو فاش کرنے اور اعلی عقائد کے اظہار کا دن ہے۔ آج کا دن دین کی تکمیل اور وعدہ پورا کرنے کا دن ہے۔ غدیر کا دن شاہد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مشہود (علی ابن ابیطالب علیہ السلام) کا دن ہے۔ آج کا دن کفر و نفاق کے زیرسایہ انجام پانے والے معاہدوں کے ٹوٹنے کا دن ہے۔ آج کا دن حقیقی اسلام سے متعلق حقائق کے آشکار ہونے کا دن ہے۔ آج کا دن شیطان کی ذلت اور خواری کا دن ہے۔ آج کا دن دلیل اور استدلال کرنے کا دن ہے۔ آج کا دن ایسے افراد کی صف الگ ہونے کا دن ہے جو اس کا انکار کرتے ہیں اور آج کا دن وہ عظیم دن ہے جس سے آپ میں سے کچھ لوگوں نے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے۔ آج کا دن ہدایت اور خدا کے بندوں کی آزمائش کا دن ہے۔ آج کا دن دلوں اور سینوں میں چھپے ہوئی نفرتوں اور دشمنیوں کے آشکار اور واضح ہونے کا دن ہے۔ آج کا دن مومن اور جان نثار افراد کیلئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واضح باتوں کے بیان کا دن ہے۔ غدیر حضرت شیث پیغمبر کا دن ہے، حضرت ادریس پیغمبر، حضرت یوشع پیغمبر اور حضرت شمعون پیغمبر کا دن ہے۔
 
وزٹرز کی تعداد:491
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...