خبر
9/10/2016
امام علی نقی علیہ السلام

 
امام علی نقی علیہ السلام

امام علی نقی علیہ السلام کی سال ولادت 212 ھ اور شہادت ۲۵۴ ہجری میں واقع ہونے کے بارے اتفاق ہے۔ لیکن آپ کی تاریخ ولادت و شھادت میں اختلاف ہے۔
ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائی ہے اسی طرح شھادت کو بعض تیسری رجب مانتے ہیں لیکن شیخ کلینی اور مسعودی نے ستائیس جمادی الثانی بیان کی ہے.
البتہ رجب میں امام ھادی علیہ السلام کی پیدایش کی ایک قوی احتمال وہ دعای مقدسہ ناحیہ کا جملہ ہے، جس میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں : "اللھم انی اسئلک بالمولودین فی رجب ، محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد " آپ کا نام گرامی علی اور لقب، ھادی، نقی، نجیب، مرتضی، ناصح، عالم، امین، مؤتمن، منتجب، اور طیب ھیں، البتہ ھادی اور نقی معروف ترین القاب میں سے ھیں، آنحضرت کی کنیت " ابو الحسن " ہے اور یہ کنیت چھار اماموں یعنی امام علی ابن ابی طالب ،امام موسی ابن جعفر ،امام رضا علیہم السلام کیلئے استعمال ہوا ہے، تنھا (ابو الحسن) صرف امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لۓ اور امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو ابوالحسن اول، امام رضا علیہ السلام کو ابو الحسن الثانی، اور امام علی النقی علیہ السلام کو ابو الحسن الثالث کہا جاتا ہے۔
امام علی النقی الھادی علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ کے قریب ایک گاؤں بنام " صریا " میں ھوئی ہے جسے امام موسی کاظم علیہ السلام نے آباد کیا اور کئ سالوں تک آپ کی اولاد کا وطن رہا ہے۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام جو کہ ھادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسری قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شھید کۓ گۓ، حضرت امام علی النقی علیہ سلام کا دور امامت، عباسی خلفاء معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، اور معتز کے ھمعصر تھے۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام کے ساتھ عباسی خلفا کا سلوک مختلف تھا بعض نے امام کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو کسی نے حسب معمول برا، البتہ سب کے سب خلافت کو غصب کرنے اور امامت کو چھیننے میں متفق اور ھم عقیدہ تھے، جن میں سے متوکل عباسی اھل بیت کی نسبت دشمنی رکھنے میں زیادہ مشہور تھا اور اس نے خاندان رسالت کو آزار و اذیت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نھیں چھوڑی، یہاں تک کہ اماموں کی قبروں کو مسمار کیا، خاص کر قبر مطھر سید الشھدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو مسمار کرکے اور وہاں کھیتی باڑی کرنے کا حکم دیا۔
متوکل نے حضرت امام نقی علیہ السلام کو سن 243 ھجری میں مدینہ منورہ سے سامرا بلایا۔ عباسی خلفا میں سے صرف منتصر باللہ نے اپنے مختصر دور خلافت میں خاندان امامت و رسالت کے ساتھ قدرے نیک سلوک کیا۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام کو سامرا " عباسیوں کے دار الخلافہ" میں 11 سال ایک فوجی چھاونی میں قید رکھا، اس دوران مکمل طور پر لوگوں کو اپنے امام کے ملاقات سے محروم رکھا گیا۔
آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ھجری کو معتز عباسی خلیفہ نے اپنے بھائی معتمد عباسی کے ھاتھوں زھر دے کر آپ کوشہید کر دیا.

عصر امام علیہ السلام کے دور میں سیاسی اور اجتماعی حالات
عباسی خلافت کے اس دور میں چند ایک خصوصیات کی بناء پر دوسرے ادوار سے مختلف ہے لھذا بطور اختصار بیان کردیا جاتا ہے:
1۔ خلافت کی عظمت اور اس کی زوال:خواہ اموی خلافت کا دور ہو یا عباسی کا ، خلافت ایک عظمت و حیثیت رکھتی تھی لیکن اس دور میں ترک اور غلاموں کے تسلط کی وجہ سے خلافت گیند کی مانند ایک بازیچہ بن گیا تھا جس طرف چاہے پھیرتے تھے۔
2۔ درباریوں کا خوش گذرانی اور ھوسرانی: عباسی خلفاء نے اپنے دور کے اس خلافت میں خوش گذرانی و شرابخواری و … کے فساد و گناہ میں غرق تھے جس کو تاریخ نے ضبط کیا ہے۔
3۔ ظلم و بربریت کی بے انتھا:عباسی خلفاء کی ظلم تاریخ میں بھری پڑی ہے قلم لکھنے سے قاصر ہے۔
4۔ علوی تحریکوں کا گسترش:اس عصر میں عباسی حکومت کی یہ کوشش رہی کہ جامعہ میں علویوں سے نفرت پیدا کی جائے اور مختصر بہانے پر ان کو بی رحمانہ قتل و غارت کیا جاتا تھا کیونکہ علوی تحریک سے عباسی حکومت ہمیشہ اپنے آپ کو خطرہ سمجھ رہی تھی۔
اسی لئے اس سلسلے کی ایک کڑی یعنی امام ھادی علیہ السلام کو حکومت وقت نے مدینے سے سامرا بلایا اور فوجی چھاونی میں بہت سخت حفاظتی انتظام کے ساتھ گیارہ سال قید بند میں رکھا۔
عباسی خلفاء کا سیاہ ترین دور اور امام ھادی (ع) کا موقف
عباسی خلفاء میں سے خصوصا خلیفہ متوکل سب سے زیادہ علویوں اور شیعوں کے ساتھ عجیب دشمنی رکھتا تھا، اس لئے یہ دور تاریخ کا سب سے زیادہ سخت ترین اور سیاہ ترین دور کہا جاتا ہے لہذا امام ھادی علیہ السلام اس خلیفہ کے زمانے میں اپنے ماننے والوں کیلئے پیغام دینا بہت ہی سری اور احتیاط کے ساتھ انجام دیتے تھے؛ چونکہ امام (ع) سخت کنٹرول میں تھے اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے وکالت اور نمایندگی کے طریقے کو اپنایا۔
امام ھادی (ع) اور مکاتب کلامی
امام ھادی علیہ السلام کے اس سخت ترین شرائط کے زمانے میں دیگر مکاتب اور مذاھب کے ماننے والے اپنے عروج پر تھے اور باطل عقائد اور نظریات مثلا جبر و تفویض، خلق قرآن و غیرہ جامعہ اسلامی اور شیعوں کے محافل میں نفوذ کرکے امام (ع) کی ھدایت و رھبری کی ضرورت کو دو چندان کردیا تھا اور بہت سارے مناظرے ان موضوعات پر روشن گواہ ہے۔
حوالہ جات
(1)طبرسی، اعلام الوری، الطبعة الثالثه، دارالکتب الاسلامیه، ص 355؛ شیخ مفید، الارشاد، قم، مکتبه بصیرتی، ص 327
(2)شبلنجی، نورالابصار، ص 166، قاهره، مکتبته المشهد الحسینی
(3)وقایع الایام، ص ۲۸۲
 
وزٹرز کی تعداد:2776
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...