خبر
9/5/2016
آپ اپنے جد بزرگوار حضر ت امام حسین علیہ السلا م کی زندگی میں پیدا ہوئے اور آنحضرت (ع) کی خوشحالی کا سبب بنے ۔

 
آپ اپنے جد بزرگوار حضر ت امام حسین علیہ السلا م کی زندگی میں پیدا ہوئے اور آنحضرت (ع) کی خوشحالی کا سبب بنے ۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے تقریباً 4 سال اپنے جدبزرگوار امام حسین علیہ السلام کے ساتھ اور تقریباً 38 سال اپنے پدر بزرگوار حضرت امام علی بن الحسین معروف بہ " امام زین العابدین " کے ساتھ گزارے اور امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے بعد محرم 95 ہجری قمری منصب امامت پر فائز ہوئے ۔ آپ کی والدہ مکرمہ حضرت فاطمہ بنت الحسن علیہ السلام تھیں جن کی کنیت " ام عبداللہ تھی ۔
امام محمد باقر علیہ السلام واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین علیہ السلام کے وقت 4 سال کے تھے اور کربلا میں اس وقت موجود تھے ، عاشورا کے بعد اسیر ہوئے اور اسی حالت میں کوفہ و شام کے بازاروں میں لے جائے گئے ۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے دادا امام حسین علیہ السلام اور نانا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام تھے یہ دونوں امام فرزند علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا تھے اسی وجہ سے آپ کو " ابن الخیرتین " و " علوی بین علویین" کہتے ہیں اسلئے کہ آپ ماں اور باپ دونوں کی طرف سے حضرت امام علی علیہ السلام او رفاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی نسل میں سے تھے ۔
بادشاہان وقت
امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنی امامت سے پہلے حکومت معاویہ بن ابی سفیان، یزید بن معاویہ، معاویہ بن یزید، عبداللہ بن زبیر، مروان بن حکم، عبدالملک بن مروان اور ولید بن عبدالملک کی جانب سے اور اپنی امامت کے دوران سلیمان بن عبدالملک، عمر بن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک اور ھشام بن عبدالملک کی طرف سے بہت اذیتیں و تکلیفیں برداشت کیں۔
آپ علیہ السلام کی شھادت کے بارے میں مختلف اقوال
آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجودہشام بن عبدالملک نے آپ کوزہرکے ذریعہ شہیدکرادیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ بروز پیر مدینہ منورہ میں جہان فانی کو الوداع فرماگئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال تھی آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔
علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوارامام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہرسے شہیدکردیئے گئے ۔
ھشام بن عبدالملک کے حکم پر حاکم مدینہ ابراہیم بن ولید نے زہر دیا اور 7 ذی الحجہ 114 ہجری قمری اور ایک قول کے مطابق ربیع الاول یا ربیع الثانی 114 ہجری قمری میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے ۔
آپکے جسم اطہر کو جنت البقیع میں آپکے والد ماجد امام زین العابدین علیہ السلام و جد بزرگوار امام حسن علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔
شہادت سے قبل آپ کی وصیت
شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اورکہا کہ بیٹامیرے کانوں میں میرے والدماجدکی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلدبلارہے ہیں ۔ آپ نے غسل وکفن کے متعلق خاص طورسے ہدایت کی کیونکہ امام کوامام ہی غسل دے سکتاہے ۔
علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی کہاکہ ۸۰۰/ درہم میری عزاداری اورمیرے ماتم پرصرف کرنااورایساانتظام کرناکہ دس سال تک منی میں حج کے موقع پر میری مظلومیت پرماتم کیاجائے ۔
علماء کابیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بندہائے کفن قبرمیں کھول دینا اورمیری قبر چارانگل سے زیادہ اونچی نہ کرنا ۔
حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام اورہشام بن عبدالملک
تواریخ میں ہے ۹۶ ھ میں ولیدبن عبدالملک فوت ہوا(ابوالفداء) اوراس کابھائی سلیمان بن عبدالملک خلیفہ مقررکیاگیا،۹۹ ھ میں عمربن عبدالعزیزخلیفہ ہوا اس نے مسند خلافت سنبھالتے ہی اس بدعت کوجو ۴۱ ھ سے بنی امیہ نے حضرت علی (ع) پرسب وشتم کی صورت میں جاری کررکھی تھی روکنے کا حکم دیا اورخمس بنی ہاشم کودیناشروع کیا۔
یہ وہ زمانہ تھاجس میں علی (ع) کے نام پراگرکسی بچے کانام ہوتا تووہ قتل کردیاجاتا اورکسی کوبھی زندہ نہ چھوڑاجاتاتھا اس کے بعد ۱۰۱ ھ میں یزیدبن عبدالملک خلیفہ بنایاگیا(بقول ابن الوردی) ۱۰۵ ھ میں ہشام بن عبدالملک بن مروان بادشاہ وقت مقررہوا۔
ہشام بن عبدالملک،چست،چالاک،کنجوس ومتعصب،چال باز،سخت مزاج ،خودسر،حریص،کانوں کاکچاتھا اورحددرجہ کاشکی تھا ۔ وہ کبھی کسی کااعتبارنہ کرتاتھا اکثرصرف شبہ کی بنا پر لائق لائق ملازموں کوقتل کرادیتاتھا یہ عہدوں پرانہیں کوفائزکرتاتھا جوخوشامدی ہوں، اس نے خالدبن عبداللہ قسری کو ۱۰۵ ھ سے ۱۲۰ ھ تک عراق کاگورنر بنایاتھا قسری کاحال یہ تھاکہ ہشام کورسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے افضل بتاتااوراسی کاپروپیگنڈہ کیاکرتاتھا۔
ہشام آل محمدکادشمن تھااسی نے زیدشہیدکونہایت بے دردی سے قتل کیاتھا، اسی نے اپنے زمانہ ولیعہدی میں فرزدق شاعرکوامام زین العابدین کی مدح کے جرم میں بمقام عسقلان قیدکیاتھا ۔
 
وزٹرز کی تعداد:231
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...