خبر
8/6/2016
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

 
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

نویں امام اور آسمان عصمت و طہارت کے گیارھویں درخشاں ستارے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام 29 ذیقعدہ سن 220 ہجری قمری کو حکام وقت کے جور و ستم کے تحت شہید ہوگئے اور امامت کی سنگین ذمہ داری آپ کے فرزند حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کاندھوں پر آ پڑی۔
آپ کا اسم گرامی محمد، ابوجعفر کنیت اور تقی علیہ السّلام وجوّاد علیہ السّلام دونوں مشہور لقب تھے اسی لیے آپ امام محمد تقی علیہ السّلام کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں .
چونکہ آپ سے پہلے امام محمد باقر علیہ السّلام کی کنیت ابو جعفر ہوچکی تھی اس لیے کتابوں میں آپ کو ابو جعفر ثانی اور دوسرے لقب کو سامنے رکھ کر حضرت جوّاد بھی کہا جاتا ہے . آپ کے والد بزرگوار حضرت امام رضا علیہ السّلام تھے اور والدہ معظمہ کا نام جناب سبیکہ یا سکینہ علیہا السّلام تھا .
حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کو کمسنی ہی میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیارہوجانا پڑا .آپ کو بہت کم ہی اطمینان اورسکون کے لمحات میں باپ کی محبت ، شفقت اورتربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا .
آپ کی عمرمبارک صرف پانچ برس تھی جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفرکرنے پرمجبور ہوئے تو پھرزندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمد تقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی وفات ہوگئی .
دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب امام جعفرصادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علمائ سے فقہ حدیث تفسیراورکلام پرمناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا .
جب امام رضا علیہ السّلام کو مامون نے ولی عہد بنایا اور اس کی سیاست اس کی مقتضی ہوئی کہ بنی عباس کو چھوڑ کر بنی فاطمہ سے روابط قائم کئے جائیں اور اس طرح شیعیان اہل بیت علیہ السّلام کو اپنی جانب مائل کیا جائے تو اس نے ضرورت محسوس کی کہ خلوص واتحاد کے مظاہرے کے لیے علاوہ اس قدیم رشتے کے جو ہاشمی خاندان میں سے ہونے کی وجہ سے ہے ، کچھ جدید رشتوں کی بنیاد بھی قائم کردی جائے چنانچہ اسی جلسہ میں جہاں ولی عہدی کی رسم ادا کی گئی .
اس نے اپنی بہن ام حبیبہ کاعقد امام رضا علیہ السّلام کے ساتھ کیا اور اپنی بیٹی ام الفضل کی نسبت کا امام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ اعلان کیا .
امام محمد تقی علیہ السّلام اخلاق واوصاف میں انسانیت کی اس بلندی پر تھے جس کی تکمیل رسول اور آل رسول ص کا طرئہ امتیاز تھی کہ ہر ایک سے جھک کر ملنا . ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرنا مساوات اور سادگی کو ہر حالت میں پیش نظر رکھنا. غربا کی پوشیدہ طور پر خبر لینا اوردوستوں کے علاوہ دشمنوں تک سے اچھا سلوک کرتے رہنا ، مہمانوں کی خاطر داری میں انہماک اورعلمی اورمذہبی پیاسوں کے لیے فیصلہ کے چشموں کا جاری رکھنا آپ کی سیرت زندگی کا نمایاں پہلو تھا . بالکل ویسا ہی جیسے اس سلسلہ عصمت کے دوسرے افراد کا تھا جس کے حالات اس سے پہلے لکھے جاچکے ہیں .
امورخانہ داری اورازدواجی زندگی میں آپ کے بزرگوں نے اپنی بیویوں کو جن حدود میں رکھا تھا ان ہی حدود میں آپ نے ام الفضل کو رکھا . آپ نے اس کی مطلق پروا نہیں کی کہ آپ کی بیوی ایک شہنشاہ وقت کی بیٹی ہیں . چنانچہ ام الفضل کے ہوتے ہوئے آپ نے حضرت عمار یاسر(رض) کی نسل سے ایک محترم خاتون کے ساتھ عقد کیا اورقدرت کو نسلِ امامت اسی خاتون سے باقی رکھنا منظور تھا . یہی امام علی نقی علیہ السّلام کی ماں ہوئیں .
ام الفضل نے اس کی شکایت اپنے باپ کے پاس لکھ کر بھیجی . مامون کے دل کے لیے بھی یہ کچھ کم تکلیف دہ امر نہ تھا . مگر اسے اب اپنے کیے کو نبھانا تھا . اس نے ام الفضل کو جواب لکھا کہ میں نے تمھارا عقد ابوجعفرعلیہ السّلام کے ساتھ اس لیے نہیں کیا ہے کہ ان پر کسی حلالِ خدا کو حرام کردوں . مجھ سے اب اس قسم کی شکایت نہ کرنا.
جواب دے کر حقیقت میں اس نے اپنی خفت مٹائی ہے . ہمارے سامنے اس کی نظیریں موجود ہیں کہ اگر مذہبی حیثیت سے کوئی بااحترام خاتون ہوئی ہے تو اس کی زندگی میں کسی دوسری بیوی سے نکاح نہیں کیا گیا جیسے پیغمبر کے لیے جناب خدیجة علیہ السّلام الکبریٰ اورحضرت علی المرتضیٰ علیہ السّلام کے لیے جناب فاطمہ زہرا علیہ السّلام مگر شہنشاہ دنیا کی بیٹی کو یہ امتیازدینا صرف اس لیے کہ وہ بادشاہ کی بیٹی ہے . وه اسلام اس روح کے خلاف تھا جس کے آل محمد( ص )محافظ تھے اس لیے امام محمدتقی علیہ السّلام نے اس کے خلاف طرزِعمل اختیارکرنا اپنا فریضہ سمجھا .
218ھ ۔ق میں مامون نے دنیا کو خیر باد کہا .اب مامون کا بھائی اور ام الفضل کاچچا موتمن جو امام رضا ع کے بعد ولی عہد بنایاجاچکا تھا تخت سلطنت پربیٹھا اورمعتصم بالله عباسی کے نام سے مشہورہوا. اس کے بیٹھتے ہی امام محمد تقی علیہ السّلام سے متعلق ام الفضل کے اس طرح کے شکایتی خطوط کی رفتاربڑھ گئی . جس طرح کہ اس نے اپنے باپ مامون کوبھیجے تھے . مامون نے چونکہ تمام بنی عباس کی مخالفتوں کے بعد بھی اپنی لڑکی کا نکاح امام محمد تقی علیہ السّلام کے ساتھ کردیا تھا اس لیے اپنی بات کی لاج رکھنے کی خاطر اس نے ان شکایتوں پرکوئی خاص توجہ نہیں کی بلکہ مایوس کردینے والے جواب سے بیٹی کی زبان بند کردی تھی مگر معتصم کو جو امام رضا علیہ السّلام کی ولی عہدی کاداغ اپنے سینہ پراٹھائے ہوئے تھا اور امام محمدتقی علیہ السّلام کو داماد بنائے جانے سے تمام بنی عباس کے نمائندے کی حیثیت سے پہلے ہی اختلاف کرنے والوں میں پیش پیش رہ چکا تھا .
اب ام الفضل کے شکایتی خطوں کو اہمیت دے کر اپنے اس اختلاف کو جو اس نکاح سے تھا . حق بجانب ثابت کرنا تھا , پھر سب سے زیادہ امام محمدتقی علیہ السّلام کی علمی مرجعیت آپ کے اخلاقی اثر کاشہرہ جو حجاز سے بڑھ کرعراق تک پہنچا ہوا تھا وہ بنائے مخاصمت جو معتصم کے بزرگوں کو امام محمد تقی علیہ السّلام کے بزرگوں سے رہ چکی تھی اورپھراس سیاست کی ناکامی اورمنصوبے کی شکست کا محسوس ہوجانا جو اس عقد کامحرک ہوا تھا یہ تمام باتیں تھیں کہ معتصم مخالفت کے لیے آمادہ ہوگیا .

اپنی سلطنت کے دوسرے ہی سال امام محمدتقی علیہ السّلام کو مدینہ سے بغداد کی طرف بلوابھیجا . حاکم مدینہ عبدالمالک کو اس بارے میں تاکیدی خط لکھا . مجبوراً امام محمد تقی علیہ السّلام اپنے فرزند امام علی نقی علیہ السّلام اوران کی والدہ کومدینہ میں چھوڑکربغداد کی طرف روانہ ہوئے .
بغداد میں تشریف لانے کے بعد تقریباً ایک سال تک معتصم نے بظاہرآپ کے ساتھ کوئی سختی نہیں کی مگر آپ کا یہاں کا قیام خود ہی ایک جبری حیثیت رکھتا تھا جسے نظر بندی کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے اس کے بعد اسی خاموش حربے سے جو اکثراس خاندان کے بزرگوں کے خلاف استعمال کیا جاچکا تھا .
29ذی القعدہ 220ھ میں زہر سے آپ کی شہادت ہوئی اور اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کے پاس دفن ہوئے .
 
وزٹرز کی تعداد:1355
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...