خبر
8/6/2016
شہادت کا پس منظر

شہادت امام محمدتقی علیہ السلام کی تفصیلی روایات  
شہادت کا پس منظر

امام محمدتقی علیہ السلام کاکم سنی میں ہی بےمثل شخصیت کے طور پر ابھرنا؛ شیعہ علماء و اکابرین کے مجمع میں دین پر وارد ہونے والے شبہات کا جواب، یحیی بن اکثم وغیرہ جیسے افراد کے ساتھ کم سنی میں مناظرے ـجنمیں سب آپ(ع) کی منطق و علم و دانش کے سامنے مغلوب ہوئے ـوہاسبابتھےجنکیبنا پر آپ(ع) ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر جانے پہچانے لگے۔ ایک طرف سے یہ مقبولیت عامہ حاسد علمائے دربار کو ایک آنکھ نہ بھاتی تو دوسری طرف ظلم وجور کی بنیادوں پر استوار ہونے والی سلطنت عباسیہ کو خطرے کا احساس ہوا۔
مامون، امام علیرضا(ع) کو قتل کرچکا تھا چنانچہ وہ دوسرے امام کو خوف کے مارے، قتل کرنے سے گریز کرتا تھا چنانچہ وہ اپنی خاص زیرکی سے اپنی بیٹی اور امام جواد(ع) کی زوجہ ام الفضل کے ذریعے آپ(ع) کی نگرانی کرتا تھا اور آپ(ع) کی دامادی کا ہتھیار لے کر زمانے کے وقائع بالخصوص علویوں کی سرگرمیوں کو قابو میں لانا چاہتا تھا۔ مامون 17 رجب المرجب سنہ 218 بروز جمعرات (یا جمعہ)تاریخ کے جابر بادشاہوں سے جاملا۔ (1) اور اس کا بھائی معتصم ـجوعسکری ذہنیت رکھتا تھا اور مسائل کو سیاست اور زیرکی سے حل کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال سے حل کرنے کا قائل تھا ـبادشاہبنا۔وہامام محمدتقی علیہ السلام کوہرگز برداشت نہیں کرتا تھا چنانچہ اس نے بادشاہ بنتے ہی امام محمدتقی علیہ السلام کو مدینہ سے بغداد بلوایا اور یوں امام(ع) کی نظربندی کے ایام کا آغاز ہوا۔
حکیم بن عمران کہتے ہیں کہ جب امام محمدتقی علیہ السلام متولد ہوئے تو امام رضا(ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا: مجھے خدا نے ایسے فرزند سے نوازا ہے جو حضرت موسی بن عمران(ع) کی طرح دریا کو چیر لیتا ہے اور اس کی والدہ حضرت عیسی بن مریم(ع) کی طرح، مقدس، پاکیزہ اور پاکدامن ہیں۔
اور مزید فرمایا: میرے اس فرزند کو غیظ و غضب کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور آسمان والے اس پر گریہ و بکاء کریں گے۔ خداوند متعال اس کے ظالم ستمگر دشمنوں پر غضبناک ہوگا اور بہت مختصر عرصے میں انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ (2)
معتصم نے بادشاہت کا عہدہ سنبھالا اور لوگوں سے بیعت لی تو سب سے پہلے امام محمدتقی علیہ السلام اور ان کے مسکن کے بارے میں پوچھا۔ درباریوں نے اس کو بتایا کہ امام(ع) مدینہ میں ہیں۔ معتصم نے عبدالملک بن زیات کو ـجومدینہمیںاسکاوزیرسمجھاجاتاتھاـپیغام بھجوایا کہ امام محمدتقی علیہ السلام کو ان کی زوجہ ام الفضل کے ہمراہ، عزت و احترام کے ساتھ بغداد روانہ کرے۔ محمد بن عبدالمالک نے بھی ایک خط علی بن یقطین کو دیا اور انہیں امام محمدتقی علیہ السلام کو بغداد روانہ کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ (3(
سنہ 218 ہجری میں امام(ع) کی عمر مبارک 23 سال تھی اور دوسری مرتبہ بغداد جارہے تھے۔ اس سے قبل مامون نے آپ(ع) کو بغداد بلوایا تھا جب اسمعیل بن مہران نے فکرمند ہوکر عرض کیا تھا: اے میرے مولا اب جو آپ مدینہ کو ترک کررہے ہیں، میں آپ کے لئے فکرمند ہوں، ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ اور امام(ع) نے مسکرا کر فرمایا تھا:: "لیس حیث ظننت فی هذه السنة"، جس چیز کا گمان کررہے ہو (اور جس کے لئے فکرمند ہو) وہ اس سال نہ ہوگا۔
دوسری بار جب متعصم نے امام(ع) کو بلوایا تو پھر بھی اسمعیل بن مہران نے خدشہ ظاہر کیا اور عرض کیا: اے میرے مولا میری جان آپ پر فدا ہو، آپ مدینہ سے جارہے ہیں آپ کے بعد ہماری کیا ذمہ داری ہے: تو فرمایا "الامر من بعدی الی ابنی علی"، میرے بعد امام میرا بیٹا علی (النقی الہادی ع) ہوگا۔ (4)
تاریخ کے مطابق چند افراد امام محمدتقی علیہ السلام کے قتل میں شریک ہیں جن کے نام یہ ہیں:
عباسی بادشاہ معتصم عباسی، (مامون عباسی کا بھائی)،
جعفر بن مامون عباسی، (ام الفضل کا بھائی اور معتصم کا بھتیجا)،
ام الفضل (مامون کی بیٹی، معتصم کی بھتیجی، جعفر کی بہن اور امام(ع) کی زوجہ)،
یحیی بن اکثم (درباری مفتی اور عباسیوں کا قاضی جو کئی بار امام محمدتقی علیہ السلام سے شکست کھا چکا تھا)،
احمد بن داؤد (وہ بھی دربار کا قاضی اور مفتی تھا اور یحیی بن اکثم کی طرح کئی مرتبہ امام(ع) کے سامنے شکست کھا چکا تھا)۔
جعفر بن مامون کا کردار یہ تھا کہ وہ اپنی بہن ـجو امام سے صاحب اولاد نہ ہوسکی تھی اور امام(ع) اس کی شرارتوں اور دربار کے ساتھ ساز باز کی وجہ سے اس کو کم ہی توجہ دیتے تھے ـکےجذباتکومشتعلکیا کرتا تھا اور قتل کا حکم معتصم نے دیا جبکہ ام الفضل نے اس حکم پر عمل کیا۔
سازش کا آغاز
عباسی دربار کے مشہور قاضی نے جب ایک چور پر حد جاری کرنا چاہا اور کہا کہ چور کا ہاتھ کلائی سے کاٹ دیا جائے گا تو امام(ع) نے فرمایا کہ ہتھیلی مساجد سبعہ میں سے ہے اور قرآننے فرمایا ہے کہ " وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ" (٭) چنانچہ ہاتھ کلائی سے نہیں کاٹا جاسکتا بلکہ انگلیاں کاٹی جائیں گی تاکہ نماز کے سجدے میں نقص نہ ہو، تو ابن داؤد کو شکست ہوئی اور اس نے اپنے دل سیاہ میں امام(ع) کا بغض و کینہ بسا دیا کیونکہ اس کی علمی حیثیت خلیفہ اور عوام کے سامنے ختم ہوچکی تھی اور جب معتصم بر سر اقتدار آیا تو اس کو معلوم تھا کہ یہ شخص جذباتی ہے اور اس کو مشتعل کرنا آسان ہے چنانچہ اس کے کان کھانے لگا اور اس کے امام(ع) کی نسبت بدظن کیا۔
احمد بن داؤد کا قریبی دوست "زرقان" کہتا ہے: ... جب معتصم کے زمانے میں چور کی شرعی حد کے بارے میں امام(ع) کی رائے پر عمل کیا گیا اور ابن داؤد کی رائے مسترد کی گئی تو ابن داؤد نے میرے لئے بیان کیا کہ ابو جعفر امام محمدتقی علیہ السلام سے شکست کھانے کے بعد میں بہت زیادہ اداس ہوا حتی کہ میں نے موت کی خواہش کی، اسی وجہ سے تیسرے دن (بحث و مناظرے کے دوران) معتصم کے پاس گیا اور کہا: آپ کی خیرخواہی اور نصیحت مجھ پر واجب ہے اور اگر ایسا نہ کروں تو گویا کہ میں ناشکری کا مرتکب ہوا ہوں اور اہل دوزخ ہوں۔
معتصم نے میری اس حالت اور اس بات کی وجہ پوچھی تو مین نے کہا: جب آپ فقہاء اور علماء کو ایک مجلس میں جمع کرتے ہیں اور اس مجلس میں علماء اور فقہاء اپنے فتاوی بیان کرتے ہیں جبکہ اس مجلس میں آپ کے افراد خاندان اور وزراء اور افواج کے کمانڈر بھی ہوتے ہیں اور عام لوگوں کو بھی وہاں کی خبریں پہنچتی ہیں کہ خلیفہ نے علماء اور فقہاء کے فتاوی کو مسترد کرکے ایسی شخصیت کی رائے کو مقدم رکھا ہے جس کو امت کے کچھ لوگ امام اور دوسروں سے زیادہ عالم و دانشمند سمجھتے ہیں، تو حکومت اور درباری علماء کی کیا حیثیت رہے گی؟ کیا اس طرح کے اقدامات خلافت سے لوگوں کے انحراف اور ابو جعفر(ع) کی طرف ان کی توجہ کا سبب نہیں بنیں گے؟
جذباتی عباسی بادشاہ ـجسکومعلومنہتھاشاید،کہابنداؤد دوزخی ہونے کے خوف سے نہیں حسد کی وجہ سے خود بھی اہل دوزخ بن رہا ہے اور اس کو بھی قطعی طور پر دوزخی بنا رہا ہے ـکےچہرےکارنگبدلگیااورکہنےلگا: "جزاکاللهعننصیحتک خیرا..." خدا تم کو اس خیرخواہی پر جزائے خیر دے؛ اور یوں مناظرے کے چار روز بعد امام محمدتقی علیہ السلام ام الفضل کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
مؤرخین نے امام(ع) کی شہادت کی کیفیت تین صورتوں میں نقل کی ہے:
پہلی روایت
معتصم عباسی نے اپنے ایک وزیر کو حکم دیا کہ امام محمدتقی علیہ السلام کو دن کے کھانے کے لئے اپنے گھر آنے کی دعوت دے اور انہیں کھانے میں زہر دے۔ معتصم نے زور دے کر کہا کہ امام محمدتقی علیہ السلام انکار کریں تو کہلوا بھیجو کہ مجلس خصوصی ہے! اس وزیر نے امام محمدتقی علیہ السلام کو گھر آنے کی دعوت دی تو اس کو امام کے اکراہ اور امتناع کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیر نے بےحد اصرار اور تاکید کے ساتھ امام(ع)سے کہا کہ "مجھے بہت زیادہ شوق ہے کہ آپ اپنے مبارک قدم ہمارے گھر میں رکھیں اور میرے گھر کو متبرک کریں اور وزراء میں سے ایک شخص بھی آپ کی ملاقات کے لئے آئے۔ بہر حال امام(ع) کو دعوت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔
امام(ع) عباسی وزیر کے گھر میں کھانے کے دسترخوان پر بیٹھے تو پہلا نوالہ کھاتے ہیں مسمومیت کا احساس کیا اور فوری طور پر اپنا گھوڑا منگوایا کہ اپنے گھر تشریف لے جائیں۔ پہلا نوالہ کھانے کے بعد وزیر نے اصرار کیا کہ بیٹھیں اور مزید کھانا کھائیں لیکن امام(ع) نے فرمایا: "خروجی من دارک خیر لک"، تمہارے گھر سے میرا باہر نکلنا تمہارے لئے بہتر ہے۔ امام(ع) نے اسی حال میں وزیر کا گھر ترک کردیا اور اس رات دن اور رات کو مسمومیت کی وجہ سے تڑپتے رہے اور وہ نوالہ کھانے کے 20 گھنٹے بعد جام شہادت نوش کیا۔
دوسری روایت:
ابن شہر آشوب روایت کرتے ہیں: معتصم نے امام(ع) کو جبری دعوت پر بلوایا اور بظاہر ان کا استقبال کیا اور اپنے تُرک سپاہ کے کمانڈر "اشناس" کو بڑی مقدار میں تحفے تحائف دے کر امام(ع) کی خدمت میں روانہ کیا اور اس کو حکم دیا کہ ریواس (ریوند چینی) کا ترش ذائقے والا شربت (جو اس کو بظاہر معتصم نے دیا تھا) امام (ع) کو پلائے۔ اشناس نے تحفائف دیئے اور امام(ع) کو خوش آمدید کہنے کے بعد کہا:
یہ لذیذ شربت ہے جس کو خشک برف سے ٹھنڈا کیا گیا و خلیفہ معتصم اور قاضی احمد بن داؤد اور سعید بن خضیب اور متعدد درباری شخصیات نے بھی پی لیا ہے، خلیفہ نے حکم دیا ہے کہ اس شربت کو اسی وقت نوش فرمائیں!
امام(ع) نے شربت لے لیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے میں یہ شربت رات کو پیوں گا۔
اشناس نے کہا: یہ شربت ابھی اسی وقت پینا پڑے گا کیونکہ اب یہ ٹھنڈا ہے اور اگر رات تک نہ پیا جائے تو اپنی خاصیت کھو جائے گا۔ چنانچہ اشناس نے امام(ع) کو شربت پینے پر مجبور کیا حالانکہ آپ(ع) اشناس کے منصوبے سے آگاہ ہوچکے تھے۔ (5) لیکن کوئی چارہ نہ تھا۔
تیسری روایت
ابو اسحاق محمد بن ہارون (معتصم عباسی) نے بادشاہ بنتے ہی امام ابوجعفر امام محمدتقی علیہ السلام کو شہید کرنے کے منصوبے بنانا شروع کئے۔ حتی مامون کی بیٹی اور امام(ع) کی زوجہ ام الفضل کو حکم دیا کہ امام(ع) کو مسموم کرے اور اس نے ایسا ہی کیا اور امام(ع) کو شہید کیا۔
معتصم ام الفضل کے زنانہ جذبات سے آگاہ تھا اور جانتا تھا کہ وہ امام(ع) سے راضی نہیں ہے اور امام(ع) اپنی دوسری زوجہ ام الحسن کو ـجوامام(ع) کےبیٹےکیماںہیں،کوامالفضل پر ترجیح دیتے ہیں جو ماں نہ بن سکی تھی۔ چنانچہ اس نے ام الفضل کو اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مناسب ترین فرد سمجھا۔ امام(ع) کی بےوفا زوجہ نے اپنے چچا معتصم کی سازش میں آکر اس کی ہدایات پر عمل کیا۔
چونکہ معتصم اور جعفر جانتے تھے کہ امام(ع) انگور کو پسند فرماتے ہیں چنانچہ انھوں نے "رزاقی انگوروں" میں زہر داخل کیا اور ام الفضل نے انگور کے 19 دانے امام(ع) کو کھلا دیئے۔ جب امام(ع) نے زہریلے انگور کھا لئے تو ام الفضل بہت مغموم ہوئی اور پریشان ہوکر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔
امام(ع)اس کی خیانت سے آگاہ ہوئے اور فرمایا: اب روتی کیوں ہو؟ خدا کی قسم خدا تجھے ایک لاعلاج زخم سے دوچار کرے گا اور بلا سے دوچار ہوجاؤ گی کہ اپنا درد کسی کو نہ بتا سکوگی۔ (6)
باغ عصمت کے اس نو رستہ پھول کی عمر اگرچہ کم تھی لیکن اس کے رنگ و بو نے جانوں کو فیض بخشا۔ جو افکار آپ(ع) نے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں، جن مسائل کا آپ(ع) نے جواب دیا ہے اور جو کلمات اور احادیث آپ(ع) نقل ہوئی ہیں ابد تک تاریخ اسلام کی زینت ہیں۔ امام محمدتقی علیہ السلام کی عمر مبارک 25 سال اور دوران امامت 17 سال ہے۔
سال شہادت
ابن ابی ثلج البغدادی (متوفٰی سنہ 325 ہجری) تاریخ ائمہ(ع) میں اور محمد بن یعقوب کلینی (متوفٰی سنہ 328 ہجری) اصول کافی میں۔ شیخ مفید (متوفٰی سنہ 413 ہجری) الارشاد میں، شیخ طبرسی امامی (متوفٰ پانچویں صدی ہجری) دلائل الامامہ میں، علامہ محمد باقر مجلسی (متوفٰی سنہ 1111 ہجری) بحار الانوار میں اور محدث شیخ عباس قمی (متوفٰی سنہ 1359 ہجری) منہی الآمال میں لکھتے ہیں کہ امام محمدتقی علیہ السلام سنہ 220 ہجری میں جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔
یوم شہادت
ابن ابی ثلج بغداد اور محمد بن یعقوب کلینی نے لکھا ہے کہ امام محمدتقی علیہ السلام نے بروزمنگل 6 ذوالحجہ سنہ 220 ہجری کو شہادت پائی اور محمد بن جریر بن رستم طبری کہتے ہیں کہ آپ(ع) بروزمنگل 5 ذوالحجہ سنہ 220 ہجری طلوع آفتاب کے دو گھنٹے بعد شہید ہوئے ہیں۔
علامہ مجلسی، شیخ عباس قمی اور سید محمد قزوینی کا کہنا ہے کہ امام(ع) ذوالقعدۃالحرام کے آخر میں شہید ہوئے ہیں۔
ایک روایت یہ ہے کہ امام 29 محرم الحرام سنہ 220 ہجری کو بغداد تشریف فرما ہوئے اور اسی سال ذوالقعدۃ الحرام میں 25 سال کی عمر میں شہید ہوئے۔
مقام شہادت
تمام محدثین و مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام محمدتقی علیہ السلام کی شہادت بغداد میں ہوئی ہیں۔ آپ(ع) کو قریش کے قبرستان میں اپنے دادا حضرت امام موسی بن جعفرالکاظم کی قبر کی پشت پر سپرد خاک کیا گیا۔ آج بھی دونوں اماموں کا حرم ایک ہی ہے جس کو کاظمین کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ
1۔ بحارالانوار، ج 50، ص 16، تاریخ الامم والملوک، ج 50، ص 30٫۔
2۔ بحارالانوار، ج 50، ص 15٫۔
3۔ بحارالانوار، ج 50، ص 8٫۔
4۔ الارشاد ص 328، بحارالانوار، ج 50، ص 118٫۔
٭۔ سورہ جن آیت 18۔
5۔ مناقب ال ابی طالب، ج 4، ص 37۹، بحارالانوار، ج 50، ص 8٫۔
6۔ بحارالانوار، ج 50، ص 17٫۔
 
وزٹرز کی تعداد:238
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...