خبر
1/11/2019
آستان قدس رضوی کا جانورفارم فرانس کی ڈنون گلوبل کمپنی کے لیے دودھ پاؤڈر مہیا کر رہا ہے

 
آستان قدس رضوی کا جانورفارم فرانس کی ڈنون گلوبل کمپنی کے لیے دودھ پاؤڈر مہیا کر رہا ہے

قدس رضوی جانورفارم انسٹی ٹیوٹ کی آستان قدس رضوی کے مویشیوں کے انتظام اور خصوصی سازی کی خاطر  2010ء میں  بنیاد رکھی گئی  اور اس عظیم پیداواری انسٹی ٹیوٹ میں مویشیوں میں توسیع اور بامقصدبنانے کے لیے منصوبہ بندی ہوئی۔یہ انسٹی ٹیوٹ صوبہ خراسان رضوی میں مویشیوں کی پیداوار کا سب سےبڑا سینٹر ہے  کہ جو  اس صوبہ کے تمام جانوروں کے فارموں میں  فنی لحاظ سے ترقی یافتہ اورپروٹین اور دودھ کی مصنوعات میں سب سے زیادہ بہترین کیفیت کا حامل ہے  اس طرح کہ اس فارم کا دودھ صوبہ کے تمام  فارموں کے دودھ سے اچھامانا جاتا ہے۔
روزانہ 150 ٹن دودھ کی پیداوار
قدس رضوی جانور فارم انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے اس جانورفارم میں روزانہ 150 ٹن دودھ کی پیداوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس انسٹی ٹیوٹ میں9 گائے فارم ہیں  کہ جو ملک کے مشرقی علاقے میں دودھ اور گوشت کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز ہے کہ جس میں ہرسال 50 ہزار ٹن گوشت اور 2 ہزار ٹن دودھ کی پیداوار ہوتی ہے۔
محمد صادقی شاہدخت نے کہا: اس  ادارے میں 6 گائے فارم ایسے ہیں کہ جو صرف دودھ سے مخصوص اور 3 گائے فارم صرف گوشت کی پیداوار سے مخصوص کہ جو مشہد اور سرخس میں موجود ہیں۔
انہوں نے اس انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: دودھ اور گوست کے لیے مویشیوں کی پرورش اور IMFدودھ کی فروخت کرنا اس ادارہ کا مخصوص کام ہے ۔
صادقی شاہدخت نے IMFدودھ کی فروخت کی توضیح دی:  اس انسٹی ٹیوٹ میں پیداوار کا اسٹینڈرڈ اور صحت و سلامتی کے قوانین کی دقیق و صحیح رعایت کرنا  ہے اوریہ ملکی جانورفارموں میں ایک ایسا فارم ہے کہ جس میں خشک دودھ پا‎ؤڈر بنایاجارہا ہے اورمشہد کے دودھ پاؤڈرملکی کارخانوں کے علاوہ  فرانس کی ڈنون گلوبل کمپنی کو ارسال کیا جارہا ہے۔
جانوروں کی نسل کی اصلاح
صادقی شاہدخت نے  جانوروں کی نسل کی اصلاح کو پیداوار کے اضافے میں ایک اہم ترین قدم قراردیا اور کہا:جانورں کی نسل میں اصلاح ایک دراز مدت و منظم پروگرام ہے  کہ جو آستان قدس رضوی کے مویشیوں  کی نسل میں بہتری ہونے کے لیے انجام پاتا ہے ۔
انہوں نے کہا: اس روش سے کہ دنیا میں گائے کی بہترین نسل سے نر کی اسپرم خریدی جاتی ہے اور مصنوعی لقاح کے ذریعہ بچے بنائے جاتے ہیں کہ اس روش سے بجھار(گائے نر) کو پالنے کے خرچ سے بھی بچ جاتے ہیں اور عادی وقدیمی طور سے گائے کےبچے پیدا کرنے کی روش سے جدید روش میں کہ جس میں آسانی اور بہتری بھی ہے،مقصد تک پہنچا جاسکتا ہے۔
آستان قدس رضوی کے جانورفارم کے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے کہا: اس ادارہ کی جانب سے اپنے ملکی تمام جانورفارموں کو نرسری بچے بغیر کسی دلال کے فروخت کیے جاتے ہیں تاکہ کاروباراور ملکی پیداوار میں اضافہ ہوسکے، مادہ گائے کومصنوعی لقاح کے ذریعہ 14 مہینے میں حاملہ  کرکے ایک بہترین پروڈیکسز کی صورت میں مارکیٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے پیداوار کے اضافے کی روشوں کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: جانوروں کے چارہ  کے پیش نظر یونیورسٹی سے رابطہ اور توسیع و تحقیق کی تکمیل، گائے فارم میں نسل کی اصلاح ، ان کی حفاظت و دیکھ بھال میں بہتری، کیفیت میں تبدیلی ، پروڈیکسز کی کیفیت پر کنٹرول، دیکھ بھال کی کیفیت کی اصلاح وغیرہ امور ہیں کہ جن کی وجہ سے ادارہ کی پیداوار اور منفعت میں اضافہ ہوا ہے ۔
مشغولیت و کاربار میں اضافہ اور چھوٹے فارم
چھوٹے جانوروں کے فارم  کے سلسلے میں آستان قدس رضوی کا جانورفارم انسٹی ٹیوٹ نے 2سال  سے چھوٹےجانوروں کے فارم دوسروں کو دینا شروع کردیے ہیں ۔ لہذا گاؤں والوں کے کاروبار میں اضافہ کی خاطر چھوٹے جانوروں کے فارم بغیرکسی محدودیت کے گاؤں والوں کے ذریعہ ادارہ ہوتے ہیں۔
صادقی نے چھوٹے جانوروں کی پرورش کے پروجیکٹ میں زاوین نامی گاؤں والوں کے ذریعہ کامیاب ہونے کے متعلق  توضیح دی:اس پروجیکٹ میں اس گاؤں کے 100 گھرانوں نے 30 عددبھیڑ بکریوں کو پالنے سے کاروبار کو شروع کیا۔  
وزٹرز کی تعداد:13
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...