خبر
5/13/2019
ایران اور افغانستان کے عوام کے تعلقات انتہائی برادرانہ ہيں، متولی آستان قدس

 
ایران اور افغانستان کے عوام کے تعلقات انتہائی برادرانہ ہيں، متولی آستان قدس

  آ‎ستان قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین شیخ احمد مروی نے افغانستان کے علما اور ثقافتی و مذہبی شخصیات سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران اور افغانستان کے عوام کے تعلقات ہمسایہ ملکوں کے عوام کے روایتی تعلقات سے بڑھ کر انتہائی برادرانہ تعلقات ہیں 
حرم مطہر کے (ولایت ہال)  میں ہونے والی اس ملاقات میں تقریر کرتے ہوئے شیخ احمد مروی نے کہا کہ پوری تاریخ میں سامراجیوں اور خصوصیت کے ساتھ انگریزوں نے بڑی کوشش کی کہ ایران اور افغانستان کے عوام کے درمیان تصادم اور اختلاف  کو ہوا دیں اور کبھی کبھی وہ اس میں جزوی طور پر کامیاب بھی ہوئے لیکن ان کی یہ کامیابی بھی انھیں اس دور میں ہمارے ملکوں پر حاکم حکمراں ٹولے کے ذریعے حاصل ہوئی۔ تاہم دونوں ملکوں کے عوام  کے مضبوط رشتوں کی بنا پر جو چیز آج تک قائم و دائم رہ گئی، وہ ہمارے درمیان اپنائیت اور برادرانہ تعلقات ہیں اور دوسروں کے مسلط کئے ہوئے اختلافات کی آج دونوں ملکوں کے عوام کے تعلقات میں کوئي جگہ نہيں ہے

انھوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ آج بھی اغیاراور دشمنوں کا ایک مقصد افغانستان میں بدامنی کو ہوا دینا اور اس کے ہمسایوں کے درمیان فاصلہ ڈالنا اور اختلاف پیدا کرنا ہے  کہا کہ ہم ہمیشہ  سے افغانستان کے عوام کو ان کی مجاہدت، صبر اور قناعت کی وجہ سے جانتے پہچانتے ہیں اور جب یہ صفتیں پورے معاشرے میں یکجا ہوجائيں تو ان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

آستان قدس رضوی کے متولی نے کہا کہ افغان عوام حادثات پر صبر کرنے والے اور قناعت پسند تو ضرور ہیں لیکن انہوں نے  اپنے ملک پرکبھی بھی سامراجی تسلط اور غاصبانہ قبضے کو برداشت نہیں کیا ہے  اسی لئے آج تک کوئی بھی سامراجی طاقت اس ملک پر دائمی طور پر قبضہ نہیں کرپائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے ایک صدی سے زیادہ ہندوستان پر تو حکومت ضرور کی مگر وہ افغانستان سے شکست کھا کر نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ آستان قدس کے متولی نے کہا کہ حالیہ عشروں کے دوران بھی   افغان مجاہدین نے قابض سوویت یونین کو بڑا اچھا سبق سکھایا اور انہيں شکست دی اور اسلامی جمہوریۂ ایران بھی افغان عوام کی اس جدجہد میں اپنے افغان بھائیوں کے شانہ بشانہ تھا 

حجت الاسلام مروی نے  کہا کہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کےحرم اور حریم کے دفاع میں  افغانستان کی "فاطمیون" نامی تنظیم کے جوانوں کا کا جذبہ ایثار و فداکاری  بھی ظلم و غاصبانہ قبضے کے خلاف ان کی جد وجہد کی تاریخ کا ہی آئینہ دار ہے اور یقینا" ان کا یہ جذبہ اسلام اور اہل بیت علیہم السلام سے ان کی گہری محبت وعقیدت کو ظاہر کرتا ہے۔

آستان قدس رضوی کے متولی نے یہ بھی  کہا کہ مشہد مقدس اس علاقہ کا ایک اہم ثقافتی اور زیارتی مرکز ہے اور اس مرکز سے ایران اور افغانستان کے مابین دینی اور ثقافتی امور کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان کے مہاجروں کی حمایت ایک انسانی اور دینی فریضہ ہے اور اس سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کا یہ واضح اور اہم حکم کہ افغان مہاجرین کے بچوں کو ایرانی اسکولوں میں داخلہ ضرور دیا جائے، ہمارے لئے ایک واضح عملی نمونہ ہے   

حجت الاسلام والمسلمین مروی نے مزید کہاکہ امام رضا علیہ السلام کا حرم تمام مسلمانوں کا ہے؛ لہذا ہمارے عزیز افغان بھائی بھی اس مقدس مقام  کو اپنا ہی سمجھیں اور حضرت رضا علیہ السلام  کے حرم کی خدمت کے لئے اپنی پوری صلاحتیں، توانائیاں اور تجاویز بھرپور طریقے سے پیش کریں جس کا یہاں یقینا" خیرمقدم کیا جائے گآ۔
   
وزٹرز کی تعداد:51
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...