خبر
3/1/2016

 
آستان قدس رضوی کے محترم متولی

  
آستان قدس رضوی کے نئے متولی کی سوانح حیات اورکارنامے

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجت الاسلام والمسلمین شیخ احمد مروی کو آستان قدس رضوی کا نیا متولی مقرر کیا ہے

حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی ابن الحاج شیخ یحیی مروی اپریل 1958 میں مشہد مقدس میں پیدا ہوئے- انہوں  نے حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی دونوں جگہوں سے بالترتیب اعلی دینی اوراکیڈمک تعلیم حاصل کی ۔ حجت الاسلام شیخ مروی نے حوزہ علمیہ میں  فقہ و اصول کی تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی میں الہیات و معارف اسلامی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ۔ شیخ احمد مروی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی رہبری کے شروع کے دورسے ہی یعنی 1989 سے مارچ 2019 تک مجموعی طور پر30 سال تک معظم لہ کے بے حد قریب رہتے ہوئے رہبرانقلاب اسلامی کے دفتر میں حوزۂ علمیہ سے ارتباط قائم کرنے کے امورکے شعبے کے سربراہ تھے اور ساتھ ہی قم میں رہبرانقلاب اسلامی کے دفتر کےانچارج بھی رہے۔ بعد ازاں اپریل 2019 میں ولی امر مسلمین کے حکم سے آستان قدس رضوی علیہ السلام کے متولی کے عہدے پر فائزہوئے ۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر

شیخ احمد مروی نے اپریل 1958 میں شہر مشہد مقدس کے محلے خیابان نواب صفوی کے ایک مذہبی، دینی اور پارسا گھرانے میں آنکھ کھولی۔

ان کے والد ، مرحوم الحاج شیخ یحیی مروی کی اپنے محلے میں ایک دوکان تھی اور وہ بہت ہی با ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ  مشہد کے ایک عالم و زاہد کے طور پر مشہور تھے۔ اپنے والہانہ اشتیاق کے باوجود معاشی مشکلات  کی بنا پروہ حوزۂ علمیہ کی تعلیم کو جاری نہ رکھ سکے تھے اوراس کا انہیں بہت افسوس تھا لیکن وہ اپنے بچوں کی دینی تعلیم کے سلسلے میں بے حد سنجیدہ تھے۔ چونکہ وہ خود ایک دیندار انقلابی تھے، اس لئے ان کا گھر مشہد کے علما اور انقلابیوں کا مرکز کہلاتا تھا۔  اگرچہ وہ بظاہر طاغوتی نظام کی سرنگونی  اور امام خمینی (رح) کی  قیادت میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کو  نہیں دیکھ سکے اور انقلاب کی شاندار کامیابی سے ایک سال پہلے ہی ان کی وفات ہوگئی۔

شیخ احمد مروی کے  بڑے بھائی مرحوم حجت الاسلام والمسلمین ہادی مروی بھی جو ان سے کئی سال پہلے سے حوزۂ علمیہ قم میں جاکرتعلیم حاصل کررہے تھے، وہ بھی انقلاب سے پہلے ایک زبردست انقلابی اورمجاہد کے طور پر مشہورہوچکے تھے۔ انقلاب اوراسلامی نظام کے میدان میں وہ ایسے افراد میں شامل تھے جنھیں اس تحریک کے دوران انقلابی و مجاہد اور مرد آھن کے طورپر پہچانا جاتا تھا- امام خمینی (رح) کے حکم سے انھیں عدالت عالیہ کے ججوں کے پینل  کا سربراہ  مقرر کیا گیا اوربعد میں وہ ایک عرصے تک عدلیہ کے نائب سربراہ کے عہدے پربھی فائزر ہے ۔ وہ استاد شہید مطہری، شہید آيت اللہ بہشتی اورشہید آیت اللہ مفتح جیسی عظیم اورمحترم شخصیتوں سے بے حد قریب تھے۔علم وفضل کی بلندی اور اعلی عدالتی عہدوں پرفائزرہنے کے باوجود ، عام لوگوں سے خوش اخلاقی اورانکساری سے پیش آنا ان کا طرہ امتیازتھا ۔ سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عالم دین ہونے کی جو ذمہ داری ہوتی ہے یعنی تبلیغ دین سے بھی وہ کبھی غافل نہیں ہوئے اورتبلیغ دین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے -  
سن 2007 میں ان کی وفات کے موقع پر رہبرانقلاب اسلامی نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا تھا، بیان وخطاب کے محاذ پر نیز اعلی عدالتی میدان میں ان کی خدمات قابل قدر ہیں اور ہم انھیں مرحوم کے نیک اعمال اور معنوی سرمائے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

حوزۂ علمیہ اور یونیورسٹی کی تعلیم

حجت الاسلام شیخ احمد مروی نے اپنی ابتدائي تعلیم مشہد کے دینی مدرسۂ عسکریہ میں حاصل کرنے کے بعد اس سلسلے میں اپنے اشتیاق اور والد کے شدید اصرار پر شہر کے حوزۂ علمیہ میں داخلہ لے لیا۔ انھوں نے اپنے بعض ابتدائی دروس مدرسۂ علمیہ نواب اور مدرسۂ علمیہ آیت اللہ میلانی میں حاصل کئے۔ اس کے بعد حوزہ کی مزید تعلیم کے حصول کے لئے حوزۂ علمیہ قم گئے اور وہاں مدرسۂ آیت اللہ العظمی بروجردی ( مدرسۂ خان) میں تعلیم حاصل کرنے میں مشغول ہوئے۔    
 

فقہ واصول کی درمیانی سطوح کے دروس میں ان کے اساتذہ میں جو علما شامل تھے ان میں مرحوم آیت اللہ خزعلی ، مرحوم آیت اللہ طاہری خرم آبادی، مرحوم آیت اللہ صالحی مازندرانی، مرحوم آیت اللہ وجدانی فخر،  خود ان کے اپنے بڑے بھائی مرحوم حجت الاسلام والمسلمین ہادی مروی اور مرحوم حجت الاسلام والمسلمین شیخ مصطفی اعتمادی کا نام لیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح حجت الاسلام والمسلمین مروی نے سن 1989 تک حوزۂ علمیہ قم میں درس خارج فقہ و اصول حضرت آيت اللہ العظمی وحید خراسانی اور حضرت آیت اللہ العظمی مرحوم شیخ جواد تبریزی سے حاصل کیا۔  تہران آنے کے بعد درس خارج فقہ میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور آیت اللہ العظمی مرحوم الحاج آقا مجتبی تہرانی سے کسب فیض کرتے رہے اور اسی دوران حوزوی علوم کی تدریس میں بھی تہران کے   مدارس میں مشغول رہے ۔
 اسی درمیان الہیات اور معارف اسلامی کے مضمون میں ایم اے اور ڈاکٹریٹ پر کام شروع کردیا۔ علم کلام کے موضوع پر قم کی یونیورسٹی میں اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ پیش کیا اور یہاں  سے انھیں نے اعلی درجے کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔

سیاسی اجتماعات میں شرکت اور انقلاب سے قبل کی انقلابی سرگرمیاں

حجت الاسلام شیخ احمد مروی جو مشہد مقدس میں منحوس پہلوی حکومت کے خلاف ، انقلابی نشستوں اور اجتماعات میں تندہی سے شریک رہتے تھے،  جب قم پہنچے تو اس وقت طاغوتی حکام کے خلاف احتجاجات میں شدت آچکی تھی اسی لئے تحصیل علم میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ ان احتجاجی اجتماعات بھی شریک ہونے لگے جو زیادہ تر مدرسۂ فیضیہ سے شروع ہوتے اوران کا اختتام علمائے کرام کے گھروں پر ہوتا تھا۔ اسی طرح 7 جون 1975 کو جب 5 جون 1963 کے تاریخی حادثے کی برسی قم کے مدرسۂ فیضیہ میں منائی گئی تو اس موقع پرساواک (شاہ کی خفیہ پولیس) نے اس مقدس مقام کو اپنے حملے کا نشانہ بنایا اور طلبا کی ایک بڑی تعداد کو جس میں حجت الاسلام مروی بھی شامل تھے گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا، ان میں زیادہ تر لوگوں کے سروں پر چوٹیں آئیں۔ ان لوگوں کو پہلے قم کی کوتوالی میں لےجایا گيا پھر وہاں سے تہران منتقل کرکے اوین  جیل میں ڈال دیا گيا۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد کی سرگرمیاں

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد حجت الاسلام شیخ احمد مروی کے بڑے بھائی حجت الاسلام والمسلمین ہادی مروی مرحوم، شہرمسجد سلیمان میں امام خمینی (رح) کے نمائندے کے طور پر تعنیات تھے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی وہاں بلالیا تاکہ وہ وہاں ان گروہوں اورعناصر سے مقابلہ کریں جو انقلاب مخالف تھے۔ اس کے علاوہ انھوں نے شہرمسجد سلیمان جا کر ثقافتی امور میں بھی حصہ لیا۔

شہر مسجد سلیمان سے جب وہ تہران واپس آئے تو اسی زمانے میں آیت آللہ شہید قدوسی انقلابی عدالت میں پراسیکیوٹر جنرل تھے۔ ابتدا میں جناب مروی ان کے دفتری امور کے انچارج کے طور پر تعنیات ہوئے ۔ آیت اللہ قدوسی کی شہادت کے بعد ، شیخ مروی  پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں سیاسی امور کے شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے تعنیات ہوئے اور اس عہدے پر وہ 1985 تک کام کرتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے ایک عالم دین اورمبلغ کی حیثيت سے کئی بار دفاع مقدس (عراق کے ذریعے ایران پرمسلط کردہ جنگ) کے محاذوں پر جا کر تبلیغی امور و فرائض انجام دئے

رہبر انقلاب اسلامی  کی خدمت میں حاضری اور موصوف کی ہمراہی
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای، حجت الاسلام مروی کو انقلاب سے  پہلے اور انقلاب کے بعد مشہد ہی سے پہچانتے تھے، اسی لئے بانی انقلاب اسلامی امام خمینی (رح) کی رحلت اور رہبری کاعہدہ سنھبالنے کے بعد آپ  نے سن 1989 میں شیخ مروی کو اپنے دفترمیں ذمہ داری سنبھالنے کی دعوت دی جہاں انھوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں  اوردفتر کے موجودہ ڈھانچے اورسسٹم کو ترتیب دینے کے بعد ، انھوں نے رہبرانقلاب اسلامی کے دفتر میں حوزۂ علمیہ سے ارتباط کے شعبے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا اور یوں انہيں رہبر انقلاب اسلامی کی ہمراہی اور نزدیک سے ان کی خدمت کی توفیق حاصل ہوئی۔ یہ ایک ایسی توفیق تھی جو تقریبا" تیس برسوں پر محیط ہے۔

اسی طرح اس مدت میں انھوں نے حوزہ اور علما اور مراجع تقلید سے بے حد موثر اور مفید ارتباط برقرار کرنے کی راہ ہموار کی۔ انھوں نے قم میں رہبرانقلاب اسلامی کے دفتر کا بھی افتتاح کیا۔ رہبر معظم کے دفتر کے سربراہ حضرت حجت الاسلام والمسلمین محمدی گلپائگانی دامت برکاتہ کی تجویز پر اس دفتر کی سربراہی بھی شیخ مروی نے آخر تک خود ہی کی  

رہبرانقلاب اسلامی  کے دفتر میں اپنی خدمات کی ادائیگی کے دوران حجت الاسلام احمد مروی کی  متعدد ذمہ داریوں میں سے ایک مختلف علاقوں میں ولی فقیہ کے نمائندوں کی   کونسل کی سربراہی بھی تھی ۔ اس کونسل کا کام  قومی سطح پر پالیسیاں بنانا، تمام امور کی نگرانی کرنا اور مختلف علاقوں سے متعلق امور اور مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے۔ اس کونسل کے اراکین مختلف صوبوں میں ولی فقیہ کے نمائندے اور ملک کے ثقافتی اور انتظامی اداروں کے سربراہ ہوتے ہیں ۔

حجت الاسلام شیخ احمد مروی سن 2008 میں مرحوم آیت اللہ مہدوی کنی کی تجویزاور جامعہ روحانیت مبارز کی مرکزی کونسل کی منظوری کے بعد اس مرکزی کونسل کے رکن منتخب ہوئے -  


*************************************************************************************



حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کا زندگی نامہ


   
وزٹرز کی تعداد:1139
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...