خبر
3/1/2016  

 
آستان قدس رضوی کے محترم متولی

حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کا زندگی نامہ
حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی ؛ آستان قدس رضوی کے محترم متولی  1339 بمطابق 1961ء ، شہر مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔
وہ اسلامی جمہوری ایران کے مقدس نظام میں مختلف میدانوں سے سرگرم عمل رہے ۔عظیم ذمہ داریاں اور عہدے جیسے نائب چیف جسٹس، ملک کے تحقیقاتی ادارے کے سرابراہ،ملک میں احیاء امر بالمعروف و نہی عن المنکر اسٹاف کے سیکریٹری،مقام معظم رہبری کے حکم سے علماء سے مخصوص اٹارنی جنرل ،  چیف اٹارنی  جنرل، خبرگان رہبری کونسل کی مجلس صدارت کے رکن،IRIBکے سپروائزری کونسل کے صدر اور صوبہ خراسان جنوبی سے خبرگان رہبری کونسل کے رکن۔
آیت اللہ واعظ طبسی؛ آستان قدس رضوی کے محترم متولی کے انتقال کے بعد، حضرت آیت اللہ خامنہ ای رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے ایک حکم میں حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کو آستان قدس رضوی کا متولی منصوب کیا۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی کا زندگی نامہ
ولادت اور خاندان
حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی  1339شمسی بمطابق 1961ء میں مشہد مقدس کے محلہ نوغان کے ایک علمی و دینی خاندان میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی مشہد مقدس کے ایک عالم دین اور آپ کے نانا بھی عالم دین تھے۔ آپ کا تعلق حسینی سادات سے ہے ،اور آپ کا نسب والد و والدہ دونوں اعتبار سے حضرت امام زین العابدین علی ابن الحسین علیہ السلام تک پہنچتا ہے،آپ ابھی پانچ سال کے تھے کہ آپ کے والد گرامی اس دنیا سے رحلت کرگئے۔
تعلیم
آپ نے ابتدائی تعلیم جوادیہ پرائمرین اسکول میں  حاصل کرکے اپنے والد گرام کے نقش قدم پر قدم رکھا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مدرسہ نواب میں داخلہ لیا۔ اور ایک مختصرعرصہ تک وہاں پر دینی تعلیم حاصل کی اور پھر مقدمات و ادبیات ، منطق و معانی و بیان حاصل کرنے کے لیے مدرسہ علمیہ آیت اللہ موسوی نژاد میں داخلہ لے لیا۔
آپ نے آیت اللہ موسوی نژاد کی سنت و تاکید کے مطابق  طالب علمی کے ابتداء ہی سے  دوسرے  چھوٹے طالب علموں کو پڑھانا شروع کردیا ۔ آپ نے 1354شمسی بمطابق 1976ء تک تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے بڑے بھائی کے مشورے کے مطابق شہر مشہد سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر قم تشریف لے گئے۔
آپ کے شہر قم میں ورود کے زمانے میں ظالم حکومت کی جانب سے مدرسہ فیضیہ اور دارالشفاء پر پابندی تھی لہذا آپ نے مدرسہ آیت اللہ بروجردی میں داخلہ لیا، ایک مدت تک آیت اللہ پسندیدہ کی مدیریت میں کہ جو اس زمانے میں حضرت امام خمینی (رہ) کے آفس کے زیر نظر اور آپ کے بھائی کی نظارت میں چل رہا تھا، تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے اس وقت تک کتاب اصول الفقہ آیت اللہ مروی سے اور لمعتین  آیت اللہ فاضل ہرندی سے ، رسائل آیت اللہ موسوی تہرانی ، مکاسب محرمہ ، آیت اللہ دوزدوزانی سے ، مکاسب بیع آیت اللہ خزعلی سے ، مکاسب خیارات آیت اللہ ستودہ اور آیت طاہری خرم آبادی سے اور کفایہ کی  آیت اللہ محقق داماد سے تعلیم حاصل کی۔
آپ شہر قم کے معنوی ماحول میں فقہ و اصول کی تحصیل تک ہی محدود نہ رہے اور فقہی دورس کے ساتھ ساتھ آیت اللہ احمد بہشتی سے فلسفہ و شرخ منظومہ کی بھی تعلیم حاصل کی اور عرفان کا نصاب آیت اللہ شہید مرتضی مطہری کی خدمت میں گذارا اور نہج البلاغہ  کی تعلیم آیت اللہ نوری ہمدانی کی خدمت میں حاصل کی ۔
آپ اپنی ذاتی دلچسپی کی بناء پر تفسیر قرآن کریم کے دروس میں بھی شرکت کرتے رہے اور اسی سلسلہ میں آیت اللہ مشکینی کے درس میں حاضر ہوتے اور آیت اللہ خزعلی سے بھی استفادہ کرتے رہے ۔
سیاسی محفلوں میں شرکت
آپ کے شہر قم میں قیام کے دوران ملک میں  طاغوتی حکومت کا آخری دور تھا ۔اس دور میں خصوصا  1978ء میں اطلاعات نیوز پیپر میں حضرت امام خمینی کی توہین تک منتشر ہوئی تب شہر قم میں اعتراضات کی نئی لہر اٹھی اور پورے ملک میں پھیل گئی۔آپ بھی اعتراضات کے اجتماعات میں کہ جن کا مرکز شہر قم میں مدرسہ آیت اللہ بروجردی (مدرسہ خان) اور علماء کرام کے بیت الشرف تھے، شرکت کرتے رہے ۔ان جلوسوں میں مشہورترین جلوس19 دی1356 بمطابق 9 جنوری 1978ء کا اجتماع تھا  کہ جو آیت اللہ نوری ہمدانی کے بیت الشرف کے سامنے منعقدہوا اور حکومت کی جانب سے گولیوں کی بارش ہوئی اور خون بہایا گیا ۔
اس کے علاوہ آپ مدرسہ خان میں کہ جو مدرسہ فیضیہ اور دار الشفاء کے بند ہونے کی وجہ سے انقلابی طلبہ کا مرکز بنا ہوا تھا ، انقلابی طلبہ کے مرکزی حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی اپنی انقلابی سرگرمیوں کے دوران سرکاری جیل میں موجود  انقلابی علماء سے رابطہ رکھے ہوئے تھے  اور اسی سلسلے میں آیت اللہ سید ناصر حسینی و آیت اللہ شیخ ہادی مروی کے گھر رفت و آمد تھی، اور بزرگ شخصیتوں جیسے شہید مرتضی مطہری، شہید بہشتی، شہید مفتح ، حکیمی وغیرہ سے ملاقاتیں رہیں۔ آپ اسی زمانے میں تہران میں بھی انقلابی سرگرمیوں کے تحت رفت و آمد رکھے ہوئے تھے اور وہاں کے اجتماعات جیسے تہران یونیورسٹی میں علماء کی بھوک ہڑتال میں بھی شریک رہے ۔
انقلاب کی کامیابی کے بعد
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ، مرحوم شہید بہشتی نے کہ جو اسلامی حکومت پر عمیق و گہری نظر رکھتے تھے ،حوزہ علمیہ قم کے 70 طلاب علوم دینی کو انتخاب کیا اور ان کے لیے  ملک کے مختلف عہدوں اور حکومتی ضرورتوں کو نبھانے کے لیے کلاسیں رکھیں کہ جن میں حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی بھی شامل تھے۔
ان خصوصی کلاسوں میں کہ جو معمولا مدرسہ عالی شہید مطہری میں منعقد ہوتی تھیں ، شہید آیت اللہ بہشتی ، حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر شخصیتیں جیسے شہید حسن آیت، آیت اللہ موسوی اردبیلی وغیرہ ہفتہ وار درس دیتے تھے۔
اسلامی حکومت کے قائم ہونے کے ابتدائی ایام میں ملک کے بعض سرحدی علاقوں سے جیسے شہر مسجد سلیمان سے کہ جہاں پر مخالف پارٹیوں کا مرکز تھا اچھی خبریں موصول نہیں ہوتی تھی ۔ لہذا حضرت امام خمینی (رہ) نے حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے آیت اللہ شیخ ہادی مروی کو اس شہر میں اپنے نمائندے کے طور پر منصوب کیا  اور آیت اللہ مروی کی دعوت پر حجۃ الاسلام رئیسی اس شہر کے ثقافتی امور میں مدد کرنے کےلیے کچھ طلاب کے ساتھ شہر مسجد سلیمان پہنچےاور وہیں سے آپ کا انقلابی عدالت و قضاوت سے رابطہ کے آغاز ہوا۔
آپ نے شہر مسجد سلیمان سے واپس ہونے کے بعد شہر شاہرود میں سیاسی آئیڈیالوجی کے تعلیمی سینٹر کی بنیاد ڈالی اور ایک مختصر مدت اس کی سربراہی کی۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی   نےعدالت و قضاوت کے میدان میں 1359 شمسی 1980ء میں شہر کرج کے پراسیکیوٹر کی حیثیت سے قدم رکھا۔لیکن ابھی اس مقام پر فائز ہوئے کچھ مہینے ہی گذرے تھے کہ انقلاب کے چیف اٹانی جنرل شہید آیت اللہ قدوسی کے حکم سے شہر کرج کے اٹارنی جنرل کے مقام پر فائز ہوئے۔
شہر کرج کے حالات  دارالحکومت سے قریب ہونے کی وجہ اور لوگوں کے  اس شہر کی طرف مہاجرت کی خاطر سیاسی و امنیتی لحاظ سے اور اسلامی حکومت کے جدید قائم ہونے اورشہریور1359 بمطابق ستمبر 1980ء میں عراق کی طرف سے حملہ ہونے کی بدولت اور بھی پیچیدہ و خطرناک ہوگئے تھے وہاں پر کنٹرول کرنے کے لیے انقلابی و ہوشیار افراد کی ضرورت تھی کہ جن میں تقربیا دو سال کے عرصہ تک حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے دیگر عہدے داروں کے ساتھ1980 و 1981ء میں خدمات انجام دیں ۔
اس شہر کی مشکلات و پیچیدہ ماحول پر کنٹرول کرنے میں کامیابی سبب بنی کہ 1982ء میں آپ کو شہر کرج کے  اٹارنی جنرل کے ساتھ ساتھ شہر ہمدان کا اٹارنی جنرل کی ذمہ داری بھی سپرد کردی گئی۔اس طرح آپ نے ان دو عدالتوں کی ذمہ داری سنبھالنے کی خاطر ہفتہ کے ایام کو تقسیم کیا اور دونوں شہر میں رفت و آمد رکھی۔
دوشہروں میں آپ کے عہدے اور ذمہ داری تقریبا چار مہینے تک جاری رہی اور پھر آپ شہر ہمدان کے  اٹارنی جنرل کے طور پر منصوب ہوگئے ۔وہاں پر 1982 ءسے 1984ء تک تقریبا تین سال اس عہدے پر خدمت انجام دیں۔
1985ءمیں آپ شہر تہران میں جج کی حیثیت سے مشغول ہوئے اس طرح  انقلاب  کے نائب چیف اٹارنی جنرل کے عہدہ پر فائز ہوگئے۔
یہاں تین سال تک خدمت انجام دینے کے بعد 1988ءمیں حضرت امام خمینی (رہ) کے قابل توجہ قرار پائے اور بعض صوبوں جیسے لرستان، کرمانشاہ اور سمنان میں عدالتی مشکلات کی وجہ سے مستقل عدالتیں قائم کیں۔اس کے بعد بھی حضرت امام خمینی (رہ) نے بہت سی عدالتی اہم فائلیں آپ اور جناب نیری کے سپرد کیں۔
حضرت امام خمینی(رہ) کے انتقال کے بعد اور حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی رہبری میں ، حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی  آیت اللہ یزدی اس وقت کے ایران کے چیف جسٹس کے حکم سے شہر تہران کے  اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے اورتقریبا پانچ سال  1989ءسے 1994ء تک اس عہدے پر خدمت انجام دیتے رہے ۔ اس کے بعد 1994ءمیں ملک کے تحقیقاتی ادارے کے سربراہ منصوب ہوئے اور اس عہدے پر 2004ء تک فائز رہے ۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی 2004ءسے 2014ء تک نائب چیف جسٹس  اور 2014ءسے 2016ء تک چیف اٹارنی جنرل رہے۔
اسی طرح آپ 2012ء سے آج تک مقام معظم رہبری کے حکم سے علماء سے مخصوص اٹارنی جنرل کے عہدے پر بھی منصوب ہیں۔
اسلامی حکومت کی عظیم  ذمہ داریوں اور عہدوں  کے ساتھ ساتھ درس و تدریس
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی حوزہ علمیہ اور درس و تدریس سے جدانہ ہونے کے سلسلے میں اپنے عزم وارادے کے متعلق کہتے ہیں: اگر چہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے اور بعد میں بھی انقلابی سرگرمیوں اور عدالتی عہدے، ہم ولایت وفقیہ کے پیرو اور حضرت امام خمینی(رہ) کے مقلدین کے لیےواحب کفائی تھے لیکن پھر بھی ان سے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک طالب علم کے لیے حوزوی اور فقہی درس و بحث کی حلاوت و شیرینی سے کسی بھی مصروفیت و مشغولیت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔
اسی بنیاد پر آپ نے اسلامی انقلاب کےاٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود بھی شہر کرج میں اپنے تین طالب علم ساتھیوں کے ساتھ آیت اللہ مدرسی سے ایک خصوصی درس خارج فقہ کا آغاز کیا اور تاکہ سرکاری کاموں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اس لیے آپ نے درسوں کے لیے استاد کی موافقت سے صبح سویرے کا وقت معین کیا ۔
یہ سلسلہ خصوصا ہمدان سےواپس آکر شہر تہران میں جاری رہا اور صبح کے علاوہ بھی بعض ایام چھٹی کے دنوں میں بھی درس میں مشغول رہتے تھے ۔اس دوران درس خارج اصول مرحوم آیت اللہ سید محمد حسن مرعشی ، آیت ہاشمی شاہرودی اور مرحوم آیت اللہ آقا مجتبی تہرانی کے درس خارج فقہ میں شرکت کی۔1991ء سے حضرت آیت اللہ خامنہ ای مقام معظم رہبری نے درس خارج فقہ کا سلسلہ شروع کیا، 14 سال کی مدت تک آپ نے بھی ان دروس میں شرکت کی اور درس خارج بحث جہاد، قصاص اور مکاسب محرمہ میں زانوئے ادب طے کیے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے اس کے علاوہ ، آیت اللہ مہدوی کنی و آیت اللہ آقا مجتبی تہرانی کی مسلسل سفارش کے مطابق اپنے درس وتدریس کے ذریعہ طلاب سے رابطہ کو باقی رکھا ایک دراز مدت تک مدرسہ آیت اللہ مروی میں مدرس کی حیثیت سے حوزہ علمیہ کے درجات عالیہ اور کفایتین کی تدریس میں مشغول رہے اور آج بھی قواعد فقہ کی تدریس کررہے ہیں۔
آپ  اس مدت میں حوزہ علمیہ کے تمام درجات مقدمات سے رسائل و مکاسب اور کفایتیں تک تہران کے مختلف مدارس میں جسے مدرسہ مجد، مدرسہ امیرالمومنین علیہ السلام ، مدرسہ امام حسین علیہ السلام ومدرسہ مروی میں تدریس کرچکے ہیں۔
حجۃ الاسلام المسلمین رئیسی نے اسی طرح گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرکے بعض اساتذہ کی تشویق کے تحت جیسے مرحوم آیت اللہ مرعشی وغیرہ، مدرسہ عالی شہید مطہری میں ڈاکٹریٹ میں حصہ لیا اور انٹرویو میں پاس ہونے کے بعد اس کالج میں فقہ و اصول سے ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی اور " تعارض اصل و ظاہر درفقہ و حقوق" (فقہ و حقوق میں اصل وظاہر کے درمیان تعارض) کے موضوع  پر پی ایچ ڈی  کی۔آپ نے اس پی ایچ ڈی کے علاوہ سطح چار کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے ارث بلاوارث کے عنوان پر ایک اور پی ایچ ڈی کی  کہ جو حوزہ علمیہ قم کی آخری ڈگری کے طور پر مانی جاتی ہے ۔
آپ نے یونیورسٹیوں میں بھی تدریس کے فرائض انجام دیے، امام صادق علیہ السلام یونیورسٹی اور شہید مطہری یونیورسٹی میں گریجویٹ و ڈاکٹریٹ کی کلاسوں کو فقہ قضا ءاور فقہ اقتصاد کی تدریس کی ہے۔
علماء مجاہدین   کمیٹی کی مرکزی کونسل میں رکنیت
1997ء کے اواخر میں علماء مجاہدین   کمیٹی کے مؤثر ممبران کی پیشکش کے مطابق جیسے آیت اللہ مہدوی کنی و آیت اللہ یزدی  علماء مجاہدین   کمیٹی کی مجلس صدارت  کے ممبر بننے کے لیے میدان میں اترے اور اس کمیٹی کی ایک میٹنگ میں ووٹنگ کے ذریعہ رسما علماء مجاہدین   کمیٹی کی مجلس صدارت  کے رکن بن گئے۔
خبرگان رہبری کونسل میں شمولیت  اور سرگرمیاں
آپ 2007ء میں حوزہ علمیہ قم  کی اساتذہ کمیٹی اور علماء مجاہدین   کمیٹی کی جانب سے  اور صوبہ خراسان جنوبی کی عظیم شخصیتوں کی تشویق پر خبرگان رہبری کونسل کے چوتھے دورمیں اس صوبہ کی جانب سے الیکشن میں کھڑے ہوئے اور 80 پرسینٹ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے خبرگان رہبری کونسل کے ارکان میں شامل ہوگئے ۔ اس کونسل میں حاضر ہونے کے 2 سال کے بعد خبرگان کونسل کی ووٹنگ سے خبرگان رہبری کونسل کی مجلس صدارت کے رکن معین ہوئے اور اس مقام پر چوتھے دور کے آخر تک باقی رہے  اور پھر دوبارہ ووٹنگ سے اسی مقام کو حاصل کیا ۔
کونسل کی مجلس صدارت میں آپ نے اسپیکر کی حیثیت سے رہے اور اس کے علاوہ بھی اس کونسل کے تہران کے آفس میں دوسرے سرکاری اداروں سے رابطہ کے عہدے دار رہے ۔خبرگان رہبری کونسل کی آئین نامہ کمیٹی اور تمام اعلانات و بیانات کو منظم کرنے والی کمیٹی کے ممبر بھی رہے اور ہر عہدے و ذمہ داری کو بطور احسن انجام دیا۔
آپ خبرگان رہبری کونسل کے  چوتھے دور میں تحقیقات کمیٹی کے سربراہ اور ممبر بھی رہے ہیں۔
علمی سابقہ
حوزہ علمیہ قم  میں فقہ واصول سے سطح چار۔
خصوصی بین الاقوامی حقوق سے گریجویٹ۔
شہید مطہری یونیورسٹی سے خصوصی حقوق سے فقہ و مبانی حقوق میں ڈاکٹریٹ و پی ایچ ڈی۔
تہران کی یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے درجات عالیہ میں فقہی متون و قواعد فقہ قضا ء و فقہ اقتصاد کی تدریس
تالیف و آثار
الف: قابل طبع کتب
فقہ و حقوق میں ارث و بلا وارث میں خصوصی کتاب کی تالیف
فقہ و حقوق میں اصل و ظاہر کے درمیان تعارض میں خصوصی کتاب کی تالیف
قضائی باب میں قواعد فقہ کے تقریرات درس کی کتاب
اقتصادی باب میں قواعد فقہ کے تقریرات  درس کی کتاب
عبادی باب میں قواعد فقہ کے تقریرات درس کی کتاب
نظارت و تحقیقات میں تحول و تغیر کے متعلق کتاب کی تالیف
ب: مقالات و علمی تقاریر
عہدے وذمہ داریوں کے متعدد اسباب
بیع فاسد اور اس کے اقسام
مفہوم رھن
کارآمد مدیریت
اثر بخش نظارت
اقتصاد و عدالت کی متقابل تاثیر
اسلام میں نظارت وتحقیقات کا مقام
زندگی کی روش میں عدالت  اور اس کی تاثیر
سابقہ عہدے و ذمہ داریاں سیاسی و غیرہ
حضرت امام خمینی(رہ) کے حکم سے ملک کے مخلتف علاقوں میں عدالتی  عہدے و ذمہ داری کی انجام دہی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے 10سال تک  حضرت امام خمینی کے دستورات و فرامین کو اجراء کرنے والی کمیٹی کے ممبر، ولی فقیہ کے اختیارات میں اموال کے موضوع پر۔
10 سال تک نائب چیف جسٹس۔
10 سال تک ملک کے  ادارہ تحقیقات  کے سربراہ۔
تہران میں اسلامی انقلاب کے چیف اٹارنی جنرل۔
ملک میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے احیاء کے ادارے کا سب سے پہلے سربراہ۔
صوبہ ہمدان میں اسلامی انقلاب کے اٹارنی جنرل۔
ملک میں الیکشن کمیشن کے ممبر۔
آیت اللہ دکتر شہید بہشتی کے حکم سے جنوب خراسان میں جمہوری اسلامی پارٹی کے آفسز کی بنیاد میں شرکت۔
تہران کے محلہ  نصر میں خواتین کے لیے دینی مدرسہ بنام فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تاسیس۔
فی الحال عہدے و ذمہ داریاں
آستان قدس رضوی کے محترم متولی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے حکم سے حوزہ علمیہ خراسان کے مجلس صدارت کے رکن۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے حکم سے علماء سے مخصوص اٹارنی جنرل۔
خبرگان رہبری کونسل کی مجلس صدارت کے رکن۔
تہران کےعلماء  مجاہدین کی مرکزی کمیٹی کے رکن۔
خبرگان رہبری کونسل میں صوبہ خراسان جنوبی سے ممبر۔
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...