خبر
4/4/2019
امام کاظم علیہ السلام کظم غیظ کی اعلی مثال کے زیرعنوان نشست

 
امام کاظم علیہ السلام کظم غیظ کی اعلی مثال کے زیرعنوان نشست

فرزند رسول حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے اردو داں خواتین کی ایک خصوصی نشست حرم مطہر رضوی میں منعقد ہوئی جس کا موضوع تھا  امام کاظم (ع) علامت کظم غیظ (یعنی غصے کو پی جانے والے)

آستان نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق ، امام موسی کاظم (ع) کے یوم شہادت کی مناسبت سے اردو داں خواتین  کی ایک خصوصی نشست کا انعقاد ہوا۔ اس نشست کا اہتمام  آستان قدس رضوی کے غیر ملکی زائرین کے ادارے کے شعبہ خواتین کی جانب سے حرم مطہر کے باب الہادی کے کمرہ نمبر 40 میں کیا گیا تھا۔ حرم مطہر کی ایک اردو داں دینی عالمہ محترمہ آفرین زہرا حیدری نے اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا : اس وقت عالم بشریت جن شدید مشکلات سے دوچار ہے اور جس طرح معاشروں میں تشدد اور افرا تفری پھیلی ہوئی ہے، اس کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں کوئی غیرمعمولی مثالی شخصیت کا وجود سامنے ہو۔ بے شک امام موسی کاظم علیہ السلام جن کا لقب کاظم  یعنی غصّے پر قابو پانے والا ہے، ان حالات میں ہم شیعوں کے لئے بہترین نمونۂ عمل ہیں۔ 

انھوں نے اہل بیت اطہارعلیھم السلام کی زندگیوں کو بشریت کے لئے سراسر درس و عبرت قراردیا اور کہا : صبر و بردباری ایک گرانبہا میراث ہے جسے ہمارے دینی پیشواؤں نے ہمارے لئے یادگار کے طور پر چھوڑا ہے اور امام کاظم علیہ السلام اس میدان میں ایک اعلی مقام پر ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے غصّے پر قابو کرکے مظلومانہ طور پر سالہا سال تک زندان میں رنج و مصیبت کو برداشت کیا اور یوں اسلامی قدروں کا پوری قوت سے دفاع کیا۔ 

محترمہ حیدری نے یہ بھی کہا کہ امام موسی کاظم (ع) نے قید خانے میں بے پناہ رنج و آلام کو برداشت کیا لیکن امامت کی ذمے داریوں سے ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امام  دنیوی امور کے سلسلے میں کبھی بھی ناراض نہیں ہوتے تھےلیکن حق کے لئے ظالموں اور طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ کرنے سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے اور اس راہ میں  شہادت کی سرحدوں تک بھی انھیں جانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

حوزۂ علمیہ کی استاد محترمہ آفرین زہرا حیدری نے یہ بھی  کہا کہ خداوند تعالی نے قرآن کریم میں متقّین کو ایسے افراد کے طور پر پہچنوایا ہے جو غیظ و ناراضگی کے عالم میں اپنے غصّے پر آسانی کے ساتھ قابو پالیتے ہیں  اور مومن کی شناخت اس وقت ہوتی ہے جب وہ غصے کے عالم میں ہو۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ جو بھی اپنے ‏غصّے پر قابو نہیں پا سکتا، اسے اپنے دین کی کماحقہ معرفت حاصل نہیں ہے اور ایمان کی خوشبو بھی اس تک پہنچ نہیں پائی ہے۔ 
   
وزٹرز کی تعداد:95
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...