خبر
10/2/2019
حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا

 
حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کا نام ’’رقی‘‘ سے ہے جس کا مطلب بلند ہونا اورترقی کی منازل طے کرنا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ نام (رقیہ)حضرت کا لقب تھا جبکہ ان کا اصلی نام فاطمہ سلام اللہ علیہا تھا۔فاطمہ اور علی(علیہما السلام ) دو ایسے نام ہیں جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے لیے نہایت اہمیت رکھتے تھے اس مطلب کی طرف تاریخی کتب میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی اولاد میں فاطمہ نامی ایک چھوٹی بچی تھی۔حضرت امام حسین علیہ السلام اپنی والدہ گرامی سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ اپنی ہر بیٹی کا نام فاطمہ رکھتے تھے جیسا کہ اپنے ہر بیٹے کا نام اپنے والد بزرگوار کے نام نامی پر علی رکھتے تھے۔

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ
حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی والدہ ماجدہ امّ اسحاق تھیں جن کا شمار اسلام کی باعظمت اور بافضیلت خواتین میں سے تھا۔

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کا سن مبارک
شہادت کے وقت حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کا سن مبارک بعض روایات کی بنا پر تین سال، چارسال،پانچ سال، اور بعض روایات میں سات سال تک نقل ہوا ہے۔

عاشور میں حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا
حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے واقعہ عاشور کی عظمت کو خاص جلوہ اور رنگ دیا ہے۔سرخ حسینی تحریک کے متن میں اس خردسال بچی کی موجودگی کوئی سادہ یا معمولی اتفاق نہیں تھا۔
مقتل نویسوں اور تاریخ نگاروں کی گواہی کے مطابق حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی شہادت کربلا کے خونین واقعہ کے کچھ ہی عرصہ بعد ۶۱ ہجری میں ہوئی جب وہ تین یا چار سال کی تھیں اور حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا سے متعلق ایک تعجب آور نکتہ شاید یہی مطلب ہو کہ یہ بی بی اس قدر چھوٹی عمر میں تاریخی سرحدوں سے عبور کرتے ہوئے جاودانگی تک پہنچ گئیں جس طرح آپ کے شیرخوار بھائی شہزادۂ علی اصغر علیہ السلام اس مقام و منزلت پر فائز ہوئے۔ دوسرے الفاظ میں واقعۂ عاشور کے عظیم ترین حوادث میں اس حادثے کی شخصیات کا سنی تفاوت تھا جو شہزادۂ علی اصغر علیہ السلام کے چھوٹے سن سے شروع ہوکر حبیب ابن مظاہر جیسے عمر رسیدہ صحابی پر ختم ہوا۔
حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے کربلا سے کوفہ تک اور کوفہ سے شام تک جو مصائب اور شدائد تحمل کیے اس قدر تلخ اور دہشت آور ہیں جو ہر با وجدان انسان اور حر شخص کے دل کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور اس کے دل اور روح کو مجروح کردیتے ہیں۔ پیاس کی شدت میں کربلا کی شدید گرمی کو تحمل کرنا،اپنے قریبی عزیزوں کے مقتل اور جائے شہادت پرحاضر ہونا،اسیر ہونا اور اسرا ءکے ساتھ نہایت شقاوت آمیز روئیے کو مشاہدہ کرنا،بہت زیادہ روحی و جسمی شکنجے تحمل کرنا،شام کے ویرانے میں اپنے والد بزرگوار کے لیے اداس ہونا وغیرہ جیسےتلخ حوادث ہیں جن سے لطیف جسم و روح رکھنے والی یہ کم سن بچی روبرو تھی۔
بعض روایات میں اس طرح ملتا ہے کہ حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا عاشور کے دن اپنی تین سالہ بہن(قوی احتمال کی بنا پر یہ تین سالہ بہن حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا ہیں) سے کہتی ہیں:’’آؤ بابا کے دامن کو پکڑ لیں اور انہیں شہید ہونے کے لیے نہ جانے دیں‘‘۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے یہ کلمات سن کر نہایت گریہ کیا اس وقت حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے کہا :بابا! ہم آپ کو نہیں روکتیں بس اتنا صبر کرلیں کہ جی بھر کے آپ کو دیکھ لیں۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا اور ان کے خشک ہونٹوں کا بوسہ لینے لگے۔انہیں لمحات میں اس لاڈلی بیٹی نے ’’العطش العطش کی فریاد بلند کرتے ہوئے کہا بابا میں بہت پیاسی ہوں، پیاس کی شدت نے میرے جگر کو جلا ڈالا ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے انہیں کہا:خیمے کے پاس بیٹھو تو میں تمہارے لیے پانی لاؤں،امام حسین علیہ السلام اٹھے تاکہ میدان میں جائیں پھر حضرت رقیہ نے والد بزرگوار کا دامن تھام لیا اور روتے ہوئے کہا:بابا کہاں جارہے ہیں؟حضرت امام علیہ السلام نے ایک مرتبہ پھر انہیں اپنی آغوش میں لیا اور تسلی دی اور پھر نہایت غمگین حال میں ان سے جدا ہوئے۔

حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی شہادت اور اُن کا نورانی مرقد
واقعہ عاشور کے بعد دشمن نے تمام زندہ افراد کو اسیر کرلیا انہیں اسراء میں ایک چھوٹی بچی بھی قابل دید تھی یہ حضرت رقیہ تھیں۔حضرت امام حسین علیہ السلام کی یہ چھوٹی بیٹی اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد اپنی پھوپھی کے ہمراہ اسیر ہو کر شام کی طرف جارہی تھیں۔

شام کے ویرانے سے ایک بچے کی آواز سنائی دیتی ہے
اسرا ءمیں موجود تمام افراد کو یہ علم تھا کہ یہ آواز حضرت امام حسین علیہ السلام کی معصوم چھوٹی بیٹی حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کی ہے۔حضرت رقیہ نیند سے بیدار ہوگئی ہیں اور اپنے والد بزرگوار کے بارے میں پوچھ رہی ہیں گویا اپنے والد بزرگوار کا خواب دیکھا ہےیزید لعین نے حکم دیا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا سر اقدس حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا کو دکھایا جائے۔جب حضرت رقیہ سلام اللہ علیہا نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے کٹے ہوئے سر اقدس کو دیکھا تو فریاد کرتے ہوئے خود کو والد بزرگوار کے سر پر گرا دیا اور اسی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
تیسرے امام کی تین سالہ بیٹی کی ملکوتی آرامگاہ شام میں ’’باب الفرادیس‘‘کے ساتھ پر ہجوم ترین تاریخی قدیمی کوچوں اور گلیوں میں ہے۔ہر سال اہلبیت علیہم السلام کےبہت زیادہ عقیدت مند دنیا کے مختلف نقاط سے اس مقدس مقام کی زیارت کے لیے مشرف ہوتے ہیں۔
 
وزٹرز کی تعداد:2594
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...