خبر
3/12/2019
آذربائیجان کے 600  شیعہ و سنی زائرین کی حرم رضوی میں حاضری

 
آذربائیجان کے 600 شیعہ و سنی زائرین کی حرم رضوی میں حاضری

  اسلامی جمہوریہ ایران کے ہمسایہ ملک آذربائیجان کے ۶۰۰زائرین  ایک کاروان کی صورت میں  مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے  حرم کی زیارت سے مشرف ہوئے     

آستان نیوز کے مطابق آذربائیجان   اسلامی جمہوریہ ایران کے بعد دوسرا شیعہ آبادی والا ملک ہے جہاں کے لوگوں کے    دل اہلبیت علیہم السلام کی محبت سے سرشار ہیں  ۔ جمہوریہ آذربائیجا ن سے قافلہ کے ہمراہ تشریف لانے والے زائرین میں سے ایک  جناب آرام ال بروس ہیں جو اپنے کاروبار کی وجہ سے سال میں چھ بار حضرت رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی زیارت سے مشرف ہوتے  ہیں۔    انہوں نے اس موقع پر   کہا  کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نورانی بارگاہ میں ایسی جاذبیت و کششش ہے جو ہر بار مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے اور جب بھی حرم مطہر میں حاضر ہوتا ہوں تو پہلے سے زیادہ زیارت کی لذت محسوس کرتا ہوں۔

جمہوریہ آذربائیجان کے زائر  آرام  ال بروس کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کے شیعہ، حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے بہت زیادہ محبت و عقیدت رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے اپنا سب کچھ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے لئے وقف کر دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ حضرت کی بہت ساری عنایات و کرامات کا اپنےاپنے گھروں میں مشاہدہ کر چکے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام  کی خاص عنایت سے ہر کوئی اس نورانی بارگاہ کی طرف کھینچا  چلا آتا ہے۔ 

 آذربائیجان کےمذکورہ   زائر نے  کہا کہ  ہم میں سے بہت سے لوگ عشق و محبت  کی بنا پر مشہد الرضا(ع) مشرف ہوکر حضرت کے زائر بنتے ہیں، انسان جتنا بھی اس معنوی سفر پر آئے  اس کا   جی نہیں بھرتا 
جناب آرام ال بروس کا کہنا ہے کہ اگرچہ زائرین    زیادہ  مالی توانائی نہیں رکھتے اور اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے بھی کافی مشکلات درپیش ہوتی  ہیں پھر بھی وہ    ان تمام چیزوں کے باوجود عشق و عقیدت کے ساتھ اس معنوی سفر کے لئے تیار ہوتے ہیں اور سفر کی مشکلات کا     ان کی زبان پر کبھی کو ئی شکوہ نہيں ہوتا  

آذربائیجان سے تشریف لانے والے اس محترم زائر نے  اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارا  سفر   فقط زیارتی سفر  ہے اورجب سے مشہد الرضا (ع) میں حاضر ہوئے ہیں تو کوشش یہ ہے کہ فقط مقدس مقامات کی زیارات سے مشرف ہوں اور یہی چیز ہمارے لئے اعزاز کا باعث ہے۔ 
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس قدر آئمہ اطہار علیہم السلام سے قلبی رابطہ زیادہ ہو گا اسی  اعتبار سے  اطاعت  اور پیروی بھی زیادہ ہو گی یقیناً یہ رابطہ یک طرفہ نہیں ہوگا بلکہ حضرات معصومین علیہم السلام کی عنایات بھی ضرور  ہمارے شامل حال ہوں گی

   
وزٹرز کی تعداد:25
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...