خبر
1/10/2019
 مغربی ممالک نے شیعوں کو کیسے پہچانا؟

 
مغربی ممالک نے شیعوں کو کیسے پہچانا؟

آستان نیوز؛ مدارس اور یونیورسٹیوں میں دینی نظام تربیت کے عنوان سے علوم اسلامی رضوی یونیورسٹی میں خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں پیرس کی کاتھولک یونیورسٹی کے پروفیسرجناب حجت الاسلام سعید جازرای نے خطاب کرتے ہوئے کہا: مغرب میں پہلی بار شیعہ مذہب کی تاریخ اور اس سے متعلق موضوعات پر مطالعہ فرانس کے اسٹراسبرگ میں ۱۹۴۰ عیسوی میں شروع ہوا۔ 
گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: اس کے بعد ۱۹۴۰ عیسیوی میں شیعہ مذہب کے بارے میں تحقیق اور مطالعہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں اور اس کے بعد شکاگو یونیورسٹی میں شروع کیا گیا۔ 
جازاری نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شروع میں مغربی ممالک کے اندر شیعہ مذہب ایک فرقہ کے طور پر متعارف ہوا،۱۹۶۰ عیسوی تک مغربی یونیورسٹی کی ریسرچ میں ایک چھوٹے سے اسلامی فرقے کے عنوان سے جانا جاتا تھا۔
 بعد میں ’’ہانری کوربن‘‘ نامی شخص کی کاوشوں سے فرانس اور مغرب میں شیعوں کے بارے میں تفکر کی سطح میں تبدیلی آئی اوراس وقت مغربی ممالک شیعہ مذہب کو دنیا اور اسلام میں مؤثر ترین مذہب جانتے ہیں اوریہی تفکر اب تک جاری ہے۔ 
انہوں نے کہا: کوربن کی تعریف کے مطابق ؛ شیعہ یعنی ایک باطنی تحریک جسے اسلام کی حقیقت شمار کیا جاتا ہے۔کوربن کے زمانے میں اس تفکر کی بنیاد رکھی گئی جو کہ بعد میں فرانس اور انگلینڈ کے اندر کے ایک قدرتمند تفکر بن کر ابھرا۔
پیرس کی کاتھولک یونیورسٹی کے پروفیسر نے بتایا: انقلاب سے پہلے فرانسوی عیسائیوں کی ایران کے ساتھ گفتگو فقط چند گھنٹے کے لئے مہرآباد ائیرپورٹ کے ہال میں عیسائیوں کے پاپ اور شیعہ علماء کے مابین ہوئی،لیکن اب اس سلسلے میں بہت زیادہ میٹنگس منعقد ہو چکی ہیں۔ 


   
وزٹرز کی تعداد:12
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...