خبر
11/26/2018
باغ تفریح گاہ خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے اہداف کے پیش نظر معرفت و تربیت میں افزائش کا مرکز قرار پائے گا

باغ تفریح گاہ خاتون کے افتتاحی پروگرام میں آستان قدس رضوی کے محترم متولی :  
باغ تفریح گاہ خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے اہداف کے پیش نظر معرفت و تربیت میں افزائش کا مرکز قرار پائے گا

آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے کہا:باغ تفریح گاہ خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے اہداف کے پیش نظر معرفت و تربیت میں افزائش کا مرکز قرار پائے گا۔
آستان نیوز کی رپورٹ کےمطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی نے باغ تفریح گاہ خاتون کے افتتاحی پروگرام میں کہا:ہم تمام حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے مہمانوں کے میزبانوں کاوظیفہ اور ان تمام افراد کہ جو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نورانیت کی شعاؤں میں کسب معرفت کی تلاش میں ہے یہ ہے کہ  ہم معرفت و تربیت نبوی  و رضوی  کی افزائش اور معرفت و  تربیت وزیارت کے آسانی کے طلب گار افراد کی راہ میں امکانات فراہم کریں۔
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ ہمیشہ واقفین اور نذر کرنے والے افراد اپنے نام کی بقاء کے لیے اپنا بہت کچھ اموال حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے نام وقف کرتے رہے ہیں تاکہ اس صدقہ جاریہ کے ذریعہ  اپنے نامہ اعمال میں اضافہ کرسکیں ، کہا: باغ بلڈراپنی سرگرمیوں کے تبدیل کرکے اپنے باغ کی فضا کو تفریح گاہ میں تبدیل کرکے  جوان و نوجوان لڑکوں کے لیے مرکز بن چکا ہے  اور اب تک  ہزاروں جوان و نوجواں اس فضا سے استفادہ کرچکے ہیں۔اس باغ سے ثقافتی سرگرمیوں کے لیے استفادہ کیا جاتا ہے اور روز بروز اس کے پروگراموں میں ا‌ضافہ ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی: باغ تفریح گاہ خاتون بھی لڑکیوں اور خواتین کے لیے تفریح گاہ میں تبدیل ہوچکی ہےاور اس فضا سے وہ جوان و نوجوان لڑکیاں ثقافتی استفادہ کرتی ہیں  کہ جن میں  نشاط، آگاہی و امید پائی جاتی ہے اور یہی حرم مطہررضوی کی معنوی فضاء اس سلسلے میں ثقافتی سرگرمیاں ایجاد کرے گی ۔
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن نے اظہار خیال کیا: اس باغ تفریح گاہ سے مشہدی خواتین کے علاوہ دوسرے شہروں اور دنیا ئے اسلام سے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی مہمان خواتین بھی بہرہمندہوں گی۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے وضاحت کی : باغ تفریح گاہ خاتون ایک جدو جہد کے لیے نمونہ ہے کہ جو بہت مختصر وقت میں خواتین کے لیے ایک ثقافتی مقام بن گیا ہے اور اس کے افتتاح سے معلوم ہوگیا کہ ملک کی بہت سی بستیوں کو اسی طرح آباد کیا جاسکتا ہے ۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کے ساتھ کہ باغ تفریح گاہ خاتون جیسے ثقافتی مراکز کی  تاسیس کے ساتھ ہماری خصوصی تاکید ہے کہ باغات کی شہر کے سانس لینے کے لیے حفاظت کی جائے ، کہا:باغ تفریح گاہ خاتون حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے اہداف کے پیش نظر معرفت و تربیت میں افزائش کا مرکز قرار پائے گا۔ وہ تمام افراد کہ جو اس باغ کی مالی و محافظ ہوں گے ان کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے نام کا احترام کرنا ہوگا  اور جو کچھ بھی یہاں انجام پائے گا واقفین حضرات کی نیت  اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی نظر کے مطابق انجام دیا جائے ۔
انہوں نے تفریح گاہ خاتون کو خواتین کے لیے  نشاط، گشائش، معرفت و علم کی افزائش ،جدید آوری، ہمفکری و افکار کا مرکز قراردیا  اور کہا: آج کل بہت سے لوگ خواتین کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں؛ ان کا خواتین کے حقوق و آزادی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اخلاقی آزادی  اور شوہرکی اطاعت اور بچوں کی تربیت سے آزاد ہیں۔ یہ مغربی تہذیب ہے لیکن اسلامی تہذیب میں عورت کا حق؛ خلاقیت، سیاسی اور اجتماعی کردار کا پائمال نہ ہونا ہے ۔
خبرگان رہبری کونسل کے رکن نے کہا: قرآنی ثقافت میں، عورت مرد کے قدم بہ قدم ترقی کرسکتی ہے اور عورت و مرد کے درمیان مقام خدائی و انسانی تک پہنچنے اور رشدو ارتقاءمیں کوئی فرق نہیں ہے ۔عورت میں کوئی کمی نہیں ہے اور مرد و عورت کے جسمانی فرق ہونا ان کے تکامل  اور رشد و ارتقاء میں کوئی رکاوٹ نہیں  بن سکتا ہے۔
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ مرد و عورت کا قرآن کریم میں ایک ساتھ ذکر ہوا ہے اور دونوں عمل صالح کے ذریعہ کمال کی بلندی تک پہنچ سکتے ہیں ، کہا: عورت خلاق و مبتکر و سرگرم عمل رہتی ہے اور یہ نظریہ کہ عورت معاشرے میں قیم کی ضرورتمند ہے ، غلط ہے۔
آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے مزید کہا: عورت کا حق، تعلیم، علم کی ترقی ،اپنے خاندان میں اپنا مقام حاصل کرنا اور اجتماع میں اپنا کردار اداکرنا ہے ، اگر عورت کو ان حقوق سے محروم کیا جا‏ئے تو یہ ان پر ظلم ہے۔
انہوں نے کہا: حتی اگر عورت شوہر سے طلاق لے لے تو وہ اپنے خاندان میں سرپرست کی حیثیت سے حق رکھتی ہے ، اس کا اپنے بچوں سے محبت و عطوفت اور تمام سیاسی و اجتماعی حقوق سے استفادہ کرنا اس کا حق ہے۔
انہوں نے کہا: مغربی تہذیب نے عورت اور معاشرے میں عورت کے مقام کو صحیح درک نہیں کیا ہے لیکن قرآن کریم ، اسلام اور علماء دین نے عورت کے مقام کو اچھی طرح درک کیا ہے ۔
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن نے کہا:عصر حاضرمیں سب سے زیادہ  عورت کے حقوق وہ لوگ ضائع کررہے ہیں کہ جو مغربی ممالک میں خواتین کے حقوق کے مدعی ہیں، اس وقت یمن میں عورتوں اور بچوں کے خون ناحق بہانے کا کون ذمہ دار ہے؟ کیا مغربی لوگ ان خواتین و بچوں کے حقوق اور خون کے ذمہ دار ہیں کہ جو یمن میں ناحق بہہ رہا ہے ؟ مغربی لوگ دنیا میں سب سے زیاد عورتوں اور بچوں کے حقوق کے توڑنے والے ہیں جب کہ اپنا نام عورت و بچوں کے حقوق کا مدافع رکھے ہوئے ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے کہا: ہم خواتین کے حقوق کے بارے میں معاشرے میں مدعی ہیں اور مغربی لوگ اس مقام میں متہم اور وہ جواب دیں کہ کس طرح عورتوں اور بچوں کے حقوق کو ضائع کررہے ہیں۔  
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...