خبر
3/12/2019
آستان قدس رضوی   کی قرآنی علوم کی سرگرمیاں  انتہائی مفید ہيں ؛  آستانہ سلطان باہو کےصاحبزادہ  سلطان احمد  علی  کا بیان

 
آستان قدس رضوی کی قرآنی علوم کی سرگرمیاں انتہائی مفید ہيں ؛ آستانہ سلطان باہو کےصاحبزادہ سلطان احمد علی کا بیان

آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ پاکستان میں  آستانہ حضرت سلطان باھوکے صاحبزادہ    سلطان احمد علی نے آستان قدس رضوی کے اسلامی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے دورےکے  موقع پاکستانی  علما  اور محققین کے ساتھ منعقد ہونے والی نشست میں کہا کہ اس تحقیقاتی مرکز کے آثار و تحقیقات نہایت عمدہ ہیں اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے عالم اسلام میں مسلمانوں کے ایسے علمی و تحقیقاتی مراکز کو  دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔یقیناً اگر اس طرح کے اسلامی مراکز پوری دنیا میں قائم ہوجائيں  تو اسلام کی حقیقت نوجوانوں پر پہلے سے زیادہ  آشکار ہو گی جس سے تکفیریوں کی سازشیں اور اسلام کے خلاف اٹھنے والے تمام فتنے ناکام  ہو جائیں گے.

پاکستان کی درگاہ سلطان باہو کے صاحبزادہ  احمد علی نے پاکستانی خانقاہوں اور مزارات کے بارے   کہا کہ ان مزارات کے زیادہ تر متولی اور سجادہ نشین سادات کرام ہیں اور اسی وجہ سے مختلف علاقوں کے لوگ اہلبیت پیغمبراسلام (ص) سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں۔

 انہوں  نے  کہا کہ عالمی سامراج اور سامراجی ذہنیت کے ممالک   کی کوشش ہے کہ اپنی سامراجی  روش کو خطے میں جاری    رکھیں  تاکہ دین و مذہب اور عوام کے درمیان اختلاف پیدا کر سکیں  ان کا کہنا تھا کہ سامراج کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ    مختلف گروہوں  کے ذریعہ اتحاد ویکجہتی کو ختم کیا جائے لیکن مسلمانوں کو چاہئے کہ پیار و محبت اور ہمدلی کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کو آپس میں قائم رکھیں۔

پاکستان کی معروف درگاہ سلطان باہو کے  صاحبزادہ  سلطان احمد علی  نے  کہا کہ حافظ شیرازی جیسے بزرگ عرفاء ہمیشہ متعصب و خشک سیرت زاہدوں کی مذمت کرتے تھےاور ان کا یہ نظریہ  تھا  کہ دلوں کو اہلبیت علیہم السلام کی محبت و مودّت سے جلا بخشی جائے ، پاکستانی عرفاء میں بھی یہی تفکر پایا جاتا ہے اور اپنے مریدوں کو بھی اسی فکر و نظرئے  کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔  درگاہ سلطان باہو کے سلطان احمد علی نے کہا کہ   آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے دلوں کو اہلبیت علیہم السلام کی محبت و مودّت سے منوّر کریں  اور اہلبیت (ع) کی سیرت وتعلیمات  کی تبلیغ و ترویج کو اہمیت دیں کیونکہ اس سے مسلمانوں کے مابین اتحاد و یکجہتی کی فضا قائم ہو گی۔

حرم مطہر رضوی  کی زیارت پر آئے ہوئے  پاکستان کے آستانہ سطان باہو کے  سلطان احمد علی نے  کہا  کہ   حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے ان کا قلبی رابطہ دو وجوہات کی بنیاد پر ہے ایک یہ کہ ایمان کی ایک شرط اہلبیت علیہم السلام کی محبت و مودّت ہے اور حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے عقیدت رکھنے کی ایک وجہ یہی ہے اور پھر ہمارا سلسلہ نسب امام المتقین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے ملتا ہے جس کی وجہ سے فرزند رسول حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے عقیدت و محبت رکھتا ہوں۔

یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ  کہ سلطان باھو بارہویں صدی  ہجری کے ہندوستان کے معروف عار ف  وزاہد اور شاعر حضرت سلطان بایزید کے فرزند تھے    سلطان باھو نے عربی و فارسی میں ۱۴۰ عرفانی و مذہبی کتابیں تألیف  وتصنیف کی ہیں    ان کا مزار پاکستان میں ہے اور پاکستان کے    مختلف علاقوں میں آپ کے نام پر ۴۳ خانقاہیں اور ۲۵ مدرسہ تأسیس کئے گئے ہیں ، حضرت سلطان باھو کا مزارپاکستانی مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے

   
وزٹرز کی تعداد:29
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...