خبر
11/6/2019
’’انتظار اور مہدوی‘‘ شہید مطہری کی نظر میں

 
’’انتظار اور مہدوی‘‘ شہید مطہری کی نظر میں

ترجمہ:سید موسیٰ رضا نقوی
رجب المرجب۱۴۳۳ھ۔ق

خلاصہ
حضرت امام زمان مہدی موعود (عج)کے قیام،اوراس موعود کا انتظار کرنا مختلف شبہات کا شکار ہے جیسے:اگر آخر الزمان میں عدالت کی حکومت کا وعدہ دیا گیا ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ ہم دنیا میں اس سے پہلے حکومت عدل کی کوششیں کریں؟حضرت کے ظہور کا انتظار کرنا افضل الاعمال کے طور پر کیوں متعارف کروایا گیا ہے جبکہ انتظار عمل سے کسی قسم کی سنخیت و مناسبت نہیں رکھتا؟ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت مہدی(عج)اس دنیا میں عالمی حکومت تشکیل دیں گے اسی عقیدے کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا اس سے مشابہ عقیدہ (تک قطبی حکومت یعنی حکومت واحد؟)کے متعلق رائج سوچا جاسکتا ہے؟اگر حضرت مہدی(عج)کے ظہور کی بنیادی شرط دنیا کا ظلم و جور سے مملوہونا ہی ہے تو پھر کیا ہماری اصلاحی کوششیں حضرت کے ظہور میں مانع کی حیثیت نہیں رکھتیں اور اسے مؤخر نہیں کردیتیں؟اگر ہماری یہ اصلاحی کوششیں انسان کو تکامل کی طرف لے جانے میں مؤثر ثابت ہوتی ہیں تو پھرخود حضرت کی کیا ضرورت ہے؟در حقیقت ہم سے کہا گیا ہے کہ ہم’’حضرت مہدی(عج)کے قیام کاانتظار کریں! ‘‘لہٰذا ہمارے ’’کیوں‘‘اور ’’کس طرح‘‘سے متعلق تمام سوالات کی بازگشت اسی اصل کی طرف ہوگی لہٰذا ہماری اس مختصر تحقیق میں کوشش ہوگی کہ اس قسم کے سوالات کا جواب استاد شہید مرتضیٰ مطہری ؒ کی افکار و نظریات میں تلاش کریں۔

بنیادی الفاظ:
مہدی،مہدویت،مطہری،انتظار،انفرادی اصالت،معاشرتی اصالت،حق و باطل،غیبی امداد،عالمی موعود کا انتظار

مقدمہ
حضرت مہدی موعود(عج)کے ظہور اور انتظار سے متعلق ابحاث مختلف قسم کے چیلنجیز سے روبرو ہیں؛جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ذکر کیے جاتے ہیں:
۱۔حضرت مہدی(عج)کے قیام کا سب سے اہم فلسفہ’’وسیع پیمانے پر عدالت کا قیام‘‘جبکہ قیامت کی ضرورت و اہمیت بھی اسی امر یعنی عدالت کے قیام کی وجہ سے ہے۔دوسری جانب یہ دنیا فقط آخرت تک پہنچنے کا راستہ ہے اور دائمی مقصد آخرت ہی ہے تو پھر دنیا میں اس قسم کی عدالت کی کیا ضرورت ہے، ہم کیوں اس دنیا میں اس قسم کی عدالت کے منتظر رہیں؟
۲۔قرآن مجید اورحضرات معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں بعض اعمال کو بہت اہم شمار کیا گیا ہےجیسے:نماز کو دین کا ستون جانا گیا ہے،امر بالمعروف و نہی عن المنکر باقی احکام کا قوام بھی انہی پر ہےتو پھران سب میں حضرت مہدی(عج)کے ظہور کا انتظار کرناہی کیوں افضل الاعمال جانا گیا ہے؟اس انتظار کو یہ مقام و اہمیت کیوں حاصل ہے؟اور اگر ہم غور کریں تو ہمارے باقی تمام اعمال میں مثبت پہلو یعنی اعمال کو انجام دینا ہے جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انتظار میں تو کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا اور فقط منتظر رہنے کوانتظارکہا جاتا ہے۔کچھ بھی نہ کرنے کو کس طرح سےمہم ترین عمل جانا گیا ہے؟
۳۔گلوبلائزیشن(عالمی حکومت) کا شمار آج کل دنیا کی اہم ترین مباحث میں ہوتا ہےاور ہمارے عقیدہ کے مطابق حضرت مہدی(عج)کی حکومت بھی ایک قسم کی گلوبلائزیشن ہی ہے یعنی حضرت کےقیام کا فلسفہ پوری دنیا میں اسلامی حکومت کا قیام ہے تو اس صورت میں ہماراوظیفہ آج کی دنیا میں بیان کی جانے ہونے والی گلوبلائزیشن جیسی مباحث سے متعلق کیا ہے؟
حضرت امام زمانہ(عج) سے متعلق اس قسم کے سوالات کے علاوہ خود انتظار کا مفہوم بھی اپنے اندر بہت سے چیلنجیز کاشکار ہے جن میں شاید اہم ترین یہ ہو کہ احادیث کی روشنی میں ظہور اس وقت ہوگا جب دنیا ظلم و جور سے بھر ہو جائے تو کیا اس صورتحال میں ہماری کسی بھی قسم کی اصلاحی و تربیتی کوششیں عملی طور پرظہور کی تأخیر کا باعث نہیں بنے گی؟اگر ہماراوظیفہ ظہور کا انتظار کرنا ہے تو پھر کیا ہمیں اصلاحی کوششیں نہیں کونی چاہیں ؟اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہم اپنی اُن اجتماعی ذمہ داریوں (جیسے امربالمعروف و نہی عن المنکر)سے ہاتھ اٹھا لیں جبکہ ان چیزوں کا ہمیں خود اسلام نے دستور دیا ہے اور اگر ہماری ذمہ داری اپنے وظایف پر عمل کرنا ہے تو کیا یہ انتظار سے مناسبت نہیں رکھتا؟دوسرے لفظوں میں اس طرح سوال کو ذکر کیا جائے کہ بشر کے تکامل کا سفر مبلغین کی اصلاح و تربیت سے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچنا ہے تو انسان اسی طرح اس سفر میں تکامل تک پہنچ جائے گا پھر حضرت مہدی(عج)کے ظہور کی کوئی ضرورت باقی رہتی ہے؟
اس قسم کے سوالات اسلام میں مہدویت کے مسئلہ پر عمیق بحث و مباحث طلب کرتے ہیں کلی طور پر ہم اس طرح سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم سے کہا گیا ہے’’حضرت مہدی کے ظہور اور ان کے قیام کے منتظر رہیں‘‘ اب اس سلسلہ میں جو بھی سوالات ہیں ہم نے ان کے علمی اور تحقیقی جوابات پیش کرنے کی ہر ممکن کوشش ک ہے۔ ہماراسوال کیوں منتظر رہنے اور کس طرح منتظر رہنےکے بارے میں ہیں؟
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس تحقیق میں ہماری یہ بھی کوشش رہی ہے کہ اس قسم کے سوالات کا جواب شہید مطہری کی نظر میں تلاش کریں۔
علت کی کھوج لگانے سے متعلق کسی بھی سوال کا جواب دو طرح سے ہو سکتا ہے:
(۱)۔ ایک مرتبہ شیئ کی علت کے بارے میں سوال ہوتا ہے اور اگر اس قسم کا سوال مسئلہ مہدویت میں ہو تو جواب میں فلسفہ مہدویت سے متعلق بحث کی جائے گی یعنی ہمارا سوال یہ ہوگا کہ ’’کیوں منتظر رہیں ؟ تو یہ سوال کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ حضرت مہدی (عج)کے قیام کی کیا ضرورت ہے جو ہم اُن کے قیام کے متنظر رہیں؟‘‘
(۲)۔ دوسرا جواب معلولات کے نتائج سے متعلق ہے یعنی منتظر رہنا ضروری ہے کیونکہ منتظررہنے کے بہت اچھے نتائج و آثارہیں۔
ہماری بحث ان دونوں جوابوںمیں ہے۔اس بحث کے دو رُخ ہیں:(۱):اس کا رابطہ فلسفۂ مہدویت سے ہے ایک طرف تو فلسفہ ٔمہدویت سے رابطہ ہے کیونکہ انتظار کی کیفیت کو جاننے سے پہلےخود انتظار کا مفہوم واضح اور مشخص ہونا ضروری ہے کس طرح کسی سے مہمان کے منتظر رہنے کا تقاضا کیا جائے ۔ یہاں سب سے پہلے حضرت مہدی(عج)کے قیام کی ضرورت و فلسفہ کو بیان کرنا ضروری ہے اور یہ جاننا ضروری ہے کہ اس انتظار نے بشری معاشرے کی تاریخ میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ہم سے کس قسم کے انتظار کے لیے کہا گیا ہے۔(۲):اوردوسری جانب ہم اس انتظار اور اس کے نتائج کے بارے میں اس وقت گفتگو کرسکتے ہیں جب خود انتظار کی حقیقت ہمارے سامنے واضح اور مشخص ہوتبھی تو کہا جاسکتا ہے کہ اس قسم کے انتظار کے یہ نتائج مرتب ہوں گے۔لہٰذا ہماری بحث تین حصوں میں ہوگی:پہلا حصہ فلسفہ ٔ مہدویت اور انتظار کی ضرورت کے بارے میں ہے دوسرے حصے میں ہم انتظار کے طریقے اور ہماری ذمہ داریوں سے متعلق بحث کریں گےجبکہ تیسرے حصہ میں ہم انتظار کے ثمرات و نتائج سے متعلق بحث کریں گے۔

پہلا حصہ:فلسفہ مہدویت اور انتظار کی ضرورت
اسلامی فلسفہ میں ایک قانون’’تلازم حدّوبرہان‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے اس قانون کی رو سے ہر برہان و دلیل جو کسی مسئلہ پر قائم کیا جائے اس کی بہترشناخت کا باعث بنے گا و برعکس(۱)ہماری یہ بحث بھی اسی روش پر استوار رہے گی یعنی اگر مہدویت کو بہترا وراچھے انداز سے پہچاننا ہے تو ایک طریقہ یہ ہے کہ ان دلائل کی تحقیق کی جائے جو مہدویت کی ضرورت کا تقاضا کرتیں ہیں۔ہمارے عقیدے کے مطابق عالمی موعود حضرت مہدی (عج ) سے متعلق اہم ترین دلیل انبیاء کی بعثت کا فلسفہ ہے جو خلقت کا فلسفہ بھی ہے۔(۲)خلقت کا مقصد عبودیت اور عبودیت کی حقیقت حق متعال کا تقرب حاصل کرنا ہے اور بعثت انبیاء کا فلسفہ قرآن مجید کی متعدد آیات کی روشنی میں توحیداور اجتماعی عدالت کا قیام بیان ہوا ہے ۔ شہید مطہریؒ کی دقیق تشریح کے مطابق عدالت بھی در حقیقت خود توحید کے لیے ہے۔(۳)اور عالمی موعود کے قیام کی اہم ترین ضرورت بھی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینا ہے لیکن جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ مکمل اور حقیقی عدالت آخرت میں تحقق پذیر ہوگی تو پھر کیا ضرورت ہے کہ اس دنیا میں بھی عدالت محقق ہو؟اس سوال کا جواب ہمارے انسان،عدالت اور آخرت سے متعلق نظریات پر منحصر ہے جنہیں ہم چند نکات میں تشریح کرتے ہیں:

۱۔ نظام خلقت میں انسان کا مقام
قرآن مجید کی رو سے انسان اس دنیا میں اس لیے نہیں آیا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قیام پذیر ہو جائے بلکہ اس کے آنے کا مقصد و ہدف حضرت حق متعال کی طرف صعودی حرکت کرنا ہے اور اس سفر میں اس نے اپنی حقیقی منزل و مقصد گاہ یعنی خلافت الہٰیہ تک پہنچنا ہے یعنی انسان اپنے اندر الہٰی اوصاف پیدا کر کے اس ذات کا مظہر بن جائے۔انسان اس طرح نہیں جیساکہ اس کے بارے میں ملائکہ الہٰی نے گمان کیا تھاکہ یہ زمین پر فساد و خونریزی کرے گا بلکہ انسان کا دوسرا پہلو جو اس کی خلقت کا واقعی ہدف ہے اور در حقیقت یہی عالی اقدار انسان کی حقیقت ہیں۔(۴)

۲۔ قانون فطرت
گزشتہ مطالب کے پیش نظر انسان ایسا موجود نہیں ہے جس پر فقط بیرونی عوامل اثر انداز ہوں بلکہ انسان اپنی حقیقت کے مطابق کمال کی جانب رُخ کیے ہوئے ہے اور یہی کمال کی طرف متوجہ رہنا ہی اس کی خلقت کااصلی ہدف ہے اور اسی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یہی اس کا بنیادی سرمایہ ہے (۵)اور اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ ہر قسم کا باطل اس کے مقابل کوئی حیثیت حقیقت نہیں رکھتا جبکہ فلسفہ میں بطلان محض تو اصلاً وجود ہی نہیں رکھتا۔در حقیقت یہ باطل بھی حق میں افراط و تفریط کے نتیجے میں نمودار ہوتے ہیں اور حق کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی مستقل حقیقت نہیں رکھتے۔(۶)بہ الفاظ دیگر ہم اس طرح سے کہتے ہیں کہ انسان ایک خالی ظرف کی طرح نہیں جسے بیرونی عوامل و خارجی اشیاء سے پُر کیا جائے بلکہ تفکرات و عقائد کا بیج اس میں مخفی ہے جس کی تربیت و پرورش کی ضرورت ہے ایک مادی کیمیکل کی طرح اسے بنایا نہیں جاتا۔(۷)

۳۔ شخص کا اجتماع سے رابطہ
اسلام فرد اور معاشرہ دونوں کی اصالت کا قائل ہے یعنی اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق ایسا نہیں کہ اسلام صرف شخصی استقلال کا قائل ہو اور معاشرہ کو اس کے مقابل اہمیت حاصل نہ ہو اور نہ ہی اس کے برعکس ہے ان دونوں میں اعتدال کا درمیانہ راستہ اپنائے ہوئے اس طرح سے کہتا ہے کہ:تمام انسانی افراد اس فطری سرمایے اور طبیعت سے اپنے اکتسابی سرمایہ کے ساتھ معاشرے کی اجتماعی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور پھر روحانی طور پر ایک دوسرے سے مل کر ایک جدیدہویت تشکیل دیتے ہیں جسے اصطلاحاً’’روح جمعی‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یہ وہ تنہا اور منفرد ترکیب ہے جسکی شبیہ و مثل تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتی۔اس ترکیب میں چونکہ افراد ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں لہٰذا ایک دوسرے میں تغیر و تبدل کا باعث بنتے ہیں جس کے نتیجہ میں جدید ہویت ایجاد ہوتی ہے جو طبیعی و عینی ترکیب ہے لیکن چونکہ’’کل‘‘مرکب ایک واقعی و حقیقی واحد کی حقیقت نہیں رکھتا اس لیے بقیہ طبیعی مرکبات سے فرق رکھتا ہے۔چونکہ طبیعی مرکبات میں حقیقی ترکیب ہوا کرتی ہے یعنی اُن کے اجزاء ایک دوسرے میں واقعی تأثیر ایجاد کرکے جدید ہویت کی تشکیل کا باعث بنتے ہیں۔ یہ یگانہ ہویت اجزاء کی کثرت کے باوجود کل کی وحدت میں تبدیل ہو جاتی ہے جبکہ جامعہ و فرد کی ترکیب میں ترکیب واقعی نہیں ہے بلکہ واقعی تأثیر و تأثر و فعل و انفعالات کا باعث بنتے ہیں جس کے نتیجے میں اِس مرکب کے اجزاء جو اجتماع کے اجزاء ہیں ایک جدید ہویت اختیار کرلیتے ہیں لیکن کسی بھی صورت میں کثرت وحدت میں تبدیل نہیں ہوتی اور انسان کامل ایک واقعی وحقیقی واحد کے عنوان سے جس میں تمام کثرتیں حل ہو گئیں ہوں نہیں ہوتا بلکہ انسان اکمل انہی افراد کا مجموعہ ہے جو اعتباری و انتزاعی وجود رکھتےہیں۔ (۸)لہٰذا فرد بما ھو فرد کی سعادت کا لازمہ معاشرے کی سعادت میں مخفی نہیں چونکہ دونوں اصیل ہیں اور انسان کی حقیقی سعادت اس وقت محقق ہوتی ہے جب معاشرے میں سعادت محقق ہو۔

۴۔دنیا و آخرت میں رابطہ
آخرت ،دنیا کا باطن ہے اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عالم آخرت بطور کامل مستقل نہیں جو اس دنیا کا وقت ختم ہونے کے بعد شروع ہو بلکہ آیات و روایات میں غوروفکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت اسی دنیا کے باطن میں پوشیدہ ہے۔پس آخرت میں سزاوجزا اعتباری نہیں اور نہ ہی اُن کا دنیاوی اعمال سے علی و معلولی ارتباط ہے بلکہ اخروی پاداش کا مطلب دنیا میں انجام دئے جانے والے انہی اعمال کے باطن کا ظہور ہے۔(۹)پس کہا جاسکتا ہے کہ آخروی سعادت دنیاوی سعادت کی تجلی گاہ ہے قرآن مجید کی تعبیر کے مطابق ایسا انسان جو یاد خدا سے غافل ہو وہ اس دنیا کی تمام تر نعمات و سہولیات سے مستفید ہی کیوں نہ ہو رہا ہو لیکن اس کے باوجود خوشحال زندگی کا مالک نہیں ہوگا’’مَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِی فَإِنَّ لَهُ مَعِیشَةً ضَنکًا‘‘(۱۰)اور اس شخص کے مد مقابل اولیاء الہٰی جس قدر بھی رنج والم اور سختیوں میں مبتلا ہوں وہی حقیقی بہجت و سرور و روحی اطمینان میں ہوتے ہیں’’أَلا إِنَّ أَوْلِیَاءَ اللّهِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَ هُمْ یَحْزَنُونَ‘‘(۱۱)لہٰذا روز قیامت عدالت واقعی کے محقق ہونے کے لیے لازمی و ضروری ہے کہ انسان اس دنیا میں فردی و اجتماعی لحاظ سے کمال یافتہ ہو۔

۵۔انسانی کمال کی اقسام
انسانی اعمال کو چار مختلف جہات سے زیر بحث قرار دیا جاسکتا ہے۔
۱۔اس کا اپنے آپ سے رابہت ۲۔اس کا اپنے خالق و خداوندمتعال سے رابہج ۳۔ اس کا دوسرے انسانوں سے رابطہ ۴۔ اس کا طبیعت سے رابطہ
لیکن اگر دقیق نگاہ سے دیکھا جائے تو ان چاروں رابطوں کی بازگشت دو رابطوں کی طرف ہوتی ہے؛۱۔ خداوندمتعال کے ساتھ رابطہ ۲۔ دوسرں کے ساتھ رابطہ۔انسانی کمال جس طرح سے اس کے خداوند متعال سے ارتباط میں ہے اسی طرح انسانوں کا آپس میں ارتباط بھی کمال انسانی میں دخیل ہے اور اس پر بحث و بررسی ہونی چاہیے۔لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ آخری نبی خاتم الانبیاء ایسی ہستی ہیں جنہوں نے تمام انفرادی کمالات کی منازل طے کیں ہیں اس لیے کہ : ’’الخاتَم مَن ختم المراتب بأسرھا‘‘( اس کا لازمہ یہ نہیں کہ انسان نے اپنے کمال کے تمام مراتب کو طے کرلیا ہو چونکہ انفرادی مراتب کی تکمیل کے علاوہ اجتماعی لحاظ سے بھی کمال کے مراتب طے کرنا ضروری ہیں )لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ بھی نہیں کہ خاتم الانبیاء میں کسی قسم کا نقص پایا جاتا تھا بلکہ یہ نقص معاشرے کے انسانوں میں تھاکہ جو اس اجتماعی کمال کے مراتب کوعبور کرنے کی آمادگی و صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
لہٰذا اس نطقہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے انفرادی اعتبار سے اپنے آخری مرتبہ کو بھی عبور کرچکے تھے بلکہ اس سے بھی بلندتر مقام پر فائز تھے جس پر بہترین دلیل خود حدیث معراج ہے جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کی آخرت میں عذاب الہٰی میں معذب ہونے یا نعمات الہٰی سے متنعم ہونے کی حالت کو بیان فرمارہے ہیں(۱۲)۔
جس طرح انفرادی اعتبار سے انسان کے لیے خلیفہ اللہی کے مقام کو حق متعال کے لیے قرار دیا ہے جو انسان میں محقق ہونا چاہیے اسی طرح اجتماعی اعتبار سے بھی خلیفۃ اللہی کے مقام تک پہنچنے کے لیے معاشرے کو کمال کی منازل طے کرنا ہوں گی۔انہی مطالب کے پش نظر حضرات معصومین علیہم السلام کی رجعت کا فلسفہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ہستیاں جو انفرادی اعتبار سے کمال کے مرتبہ پر فائز تھیں لیکن چونکہ ان ہستیوں کے ادوار میں معاشرہ کمال کے مرتبہ پر فائز نہیں تھا جو یہ ہستیاں اپنے زمانے میں اجتماعی اعتبار سے بھی اپنے کمال کا اظہار فرماتے اسی بنا پر رجعت فرمائیں گے تاکہ اجتماعی کمال تک بھی رسائی حاصل کرلیں ۔
انسان اپنے اندر تمام جہات سے کمال جسے وہ تدریجاً طبیعی و اجتماعی وابستگی اور ایک قسم کی پرہیز گاری جو عقیدہ وایمان میں اضافہ کی وجہ سے حاصل کرتاہے اور مستقبل میں بھی مکمل طور پر معنوی آزادی تک رسائی حاصل کر لے گا۔(۱۳)’’بشریت کےتکاملی سفر میں مادی اسارت سے پہلے فردی آزادی اور گروہی واجتماعی منافع کےہدف کے حصول سے پہلے ایڈیالوجی پر ایمان ضروری ہے‘‘(۱۴)۔

۶۔ اسلام کی امید کا واقعی ہونا
اسلامی تعلیمات میں اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام میں بیان ہونے والے تمام اہداف حقیقی ہیں اور اُن تک عمل کے ذریعہ رسائی ممکن ہے جبکہ مغربی جدید مکاتب نے جو اہداف بیان کیے ہیں وہ خود اس بات پر متفق ہیں کہ ان تک نہیں پہنچا جاسکتا بلکہ لوگوں کا حتی الامکان وظیفہ یہ ہے کہ کوشش کریں جبکہ اسلامی اہداف میں اسلام انسان کوخلیفۂ الہٰی کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتا ہے اور سب سے پہلے اسلام نے اس کے لیے الگو اور نمونے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرات معصومین علیہم السلام کی صورت میں متعارف کرائے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ اس مقام تک پہنچنا ممکن ہے۔مرحوم استاد مطہری نے اس بحث کو مفصلاً اپنی کتاب’’انسان کامل‘‘میں جب وہ اسلامی نقطۂ نظرمیں انسان کامل کو بقیہ مکاتب فکر سے موازنہ کرتے ہیں ،وہاں بیان کی ہے۔
پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں مکمل عدالت قائم کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسے عملی اعتبار سے ممکن جانتے ہیں۔

۷۔ حق و باطل کے تقابل میں سر انجام حق کا غلبہ
گرچہ مجموعی لحاظ سے تاریخ کی حرکت تکاملی ہےلیکن اسکا تکاملی سفر ہرگز جبری نہیں یعنی ایسا نہیں کہ ہر معاشرہ اپنے تاریخی مراحل میں اپنے سے ماقبل مرحلے سے کامل تر ہو۔ اس نقطہ پر متمرکز ہوتے ہوئے کہ اس حرکت میں اصلی عامل خود انسان ہے جو ایک خودمختار موجود ہے اسے انتخاب کرنے کا حق ہے۔تاریخی سیر میں اتار چڑھاؤ ہیں لیکن مجموعی لحاظ سے انسان تکامل کی طرف گامزن ہے۔ ۱۵)انسان کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اسے پستی کی طرف لے جانے والی غرائز میں تضاد ہے۔ جن کا ہدف انفرادی،محدود اور موقت ہے جبکہ بلندی و صعود کی طرف مائل غرائز انسان کو انفرادیت سے نکال کر بشریت کے کمال کی طرف لے جاتیں ہیں اور انسان کی اندرونی جنگ جسے قدما عقل و نفس کی جنگ سے تعبیر کیا کرتے تھے خواہ نہ خواہ یہ جنگ انسانوں کے درمیان بھی سرایت کر جاتی ہے یعنی کمال یافتہ اور معنوی آزادی تک پہنچے ہوئے انسانوں اور پست،حیوان صفت افراد کے درمیان جنگ جیسے قرآن مجید نے ابتداء ہی سے حضرت آدم کے دو فرزندوں ہابیل و قابیل کے درمیان منعکس کیا ہے۔(۱۶) گزشتہ و آیندہ کی تاریخ میں انسان کی جنگ تدریجاً عقیدتی و مسلکی پہلو اختیار کر لیتی ہیں اور انسان تدریجاً انسانی اقدار میں کمال کے مراحل کو طے کرتا ہے یعنی ائیڈیل انسان اور ائیڈیل معاشرے کی طرف گامزن ہے نہایتاً حکومت اورعدالت کا مطلب انسانی اقدار کی حکومت جسے اسلامی تعبیرات میں حکومت حضرت مہدی( عج) سے تعبیر کیا گیا ہے؛ مستقر ہو جائے گی اور باطل،حیوان صفت،خودخواہانہ قوتوں کا نشان تک باقی نہیں رہے گا۔(۱۷)قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ بعض احادیث کی روشنی میں حضرت مہدی عجل الله تعالی فرجہ الشریف کا قیام اس وقت ہوگا جب سعید اپنی سعادت و شقی اپنی شقاوت کی انتہاء تک پہنچ جائے گا۔(۱۸)یعنی یہ حرکت جس قدر آگے پڑھتی جائے گی شقی شقی تر اور سعید سعید تر ہوتا جائے گا اس قسم کا معاشرہ ہی حق و باطل کے درمیان آخری قیام و نبرد کا مرحلہ ہو سکتا ہے۔
استاد مطہری ؒنے اس نقطہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ درست ہےکہ معاشرے میں فساد ہے اور چہ بسا فساد کا پہلو زیادہ ہی ہے لیکن اس کے باوجود روحی و اخلاقی تکامل کے مواقع اس سے بھی زیادہ ہیں چونکہ روحی و اخلاقی تکامل مخالف قوتوں کے مقابلے میں مقاومت کا نتیجہ ہیں۔(۱۹)لہٰذا جس معاشرے میں اشقیا،شقی تر ہوں وہاں پر سعیدبھی بہت ہی سعید ہوں گے۔

۸۔ غیب اور غیبی امداد پر ایمان
نہایت اہم نکتہ جیسے حق و باطل کی اس لٹرائی میں غافل نہیں رہنا چاہیے وہ یہ ہے کہ اس جہان کا نظام اخلاقی نظم ہے یعنی اس طرح سے نہیں ہے کہ جہان اچھے اور برے عمل کے مقابلے میں یکسان رد عمل کا مظاہرہ کرے بلکہ یہ وہی چیز ہے جسے غیبی امداد سے تعبیر کیا جاتا ہے اور قرآن مجید فرمایا ہے:’’إِن تَنصُرُوا اللَّهَ یَنصُرْکُمْ(۲۰)،وَمَن یَتَّقِ اللَّهَ یَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا (۲۱)،إِن یَکُن مِّنکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُواْ مِئَتَیْنِ(۲۲)‘‘وغیرہ سب کے سب جہان پرحاکم قانون کی حکایت کرتیں ہیں جو مادی و عادی قانوں سے کہیں پہلے ہے جسے آنکھوں سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے انہی اہم قوانین میں سے ایک حضرت مہدی(عج) کاحق و باطل کی نہائی جنگ کے لیے تشریف لانا ہے۔شہید مطہری ؒ کی دقیق تعبیر کے مطابق۔آیات و روایات کے مجموعے سے یہ استنباط ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (عج) کا قیام حق و باطل کے درمیان دنیا کی ابتداء سے شروع ہونے والی جنگوں کے سلسلے کی آخری کڑی ہے(۲۳)۔
یہ وہی غیبی امداد ہے جو اہل حق کو شامل ہو گی۔توجہ کرنی چاہیے کہ قرآن مجید کی منطق کے مطابق غیبی امداد کے شمول کے لیے نہ تنہا ہمارے جدوجہد و تلاش کے منافات نہیں بلکہ اساسا اگر ہم کوشش کریں تو یہ امداد پہنچ جائیں گی اگر خدا کی مدد کریں تو حق متعال بھی آپ کی مدد کرے گا۔’’وَمَا رَمَیْتَ إِذْ رَمَیْتَ وَلَـکِنَّ اللّهَ رَمَی‘‘(۲۴) اس طرح سے نہیں کہا گیا کہ آپ تو ایک کونے میں کھڑے تھے غیب سے تیر آیا اور آپ کے دشمن کو جالگا بلکہ ارشاد ہوتا ہے کہ یہ جو تیر آپ نے پھینکا ہے یہ اسے ہم منزل مقصود تک پہنچائیں گے،اور یہ تنہا آپ کے زور بازو سے بطور استقلالاً پنچنار ہوتا تو شاید اپنی منزل کو تلاش نہ کر پاتا۔

۹۔حضرت مہدی (عج) کے قیام کے بعد
سب سے پہلا نکتہ جو حضرت کی شناخت و پہچان کے لیے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مہدی (عج) کی حکومت انسان کی اپنے انجام تک کے لیے اصلی حرکت کا آغاز ہے اور شاید یہ رجعت کے فلسفوں میں سے بھی ایک ہو۔اور یہ اسلامی آرمانوں میں مہم ہے۔ شہید مطہریؒ کی تعبیر کے مطابق جب بھی کسی مکتب کا مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وہ مکتب اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے لیکن یہ انسان جس نے باطل کے خلاف جنگ کو مکمل کر لیا ہے اور ابھی اسے عروج وصعود کی منازل طے کرنا باقی ہیں جن کی کوئی حد و حدود نہیں جس قدر بھی صعود کریں عالم ہستی میں اس بھی اوپر جانے کی گنجائش باقی ہے۔(۲۵)عصر ظہور میں شاید لوگوں کی علمی و معنوی رشد کا فلسفہ یہی نکتہ اور یہی پہلو ہو۔

دوسرا حصہ:انتظار کے طریقے اور ہماری ذمہ داریاں
حضرت مہدی(عج) کا انقلاب تاریخ بشریت میں ایک عظیم انقلاب ہے۔تاریخی انقلابات سے متعلق مندرجہ ذیل دو نظرئے پائے جاتے ہیں جس میں ہر ایک کی بنیاد پر انتظار کا خاص معنی بن جاتا ہے:
پہلا نظریہ یہ ہے کہ تاریخی تحولات ضابطہ مند نہیں ہیں اور اگر ضابطہ مند ہوں بھی تو ان میں انسانی ارادے کا کوئی کردار نہیں اور تاریخ پر جبری سلسلہ حاکم ہے جو اس عقیدے پر ہو کہ تاریخی تحولات ضابطہ مند نہیں اسے حتمااس بات کا بھی قائل ہونا چاہیے کہ یہ تحولات شناخت کے قابل بھی نہیں ہیں۔ پس حضرت مہدی (عج)کے قیام کو بھی تحلیل نہیں کیا جاسکتاتو اس صورت میں انتظار کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک عجیب وغریب حادثہ کا منتظر رہنا اور خود کچھ نہ کرنا بلکہ غیبی امداد کا منتظر رہنا یعنی ایک غیبی ہاتھ بڑھے اور تمام کاموں کو انجام دے۔اسی مقام پر ظوحر سے متلقا احادیث میں نادرست تأویلات کا باب کھل جائے گا یہاں تک کہ بعض کہیں گے:چونکہ حضرت کے ظہور کے لیے جہاں کو ظلم وستم سے پر ہونا ہے لہٰذا ہمیں بھی ظلم و ستم کے رواج میں مدد کرنا چاہیےاور جو اس نظریہ کا قائل ہو کہ یہ تمام تحولات ضابطہ مند ہیں لیکن ان میں انسانی ارادہ کو کوئی عمل دخل حاصل نہیں تو اس کے لیے بھی اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ یہ ہم کچھ نہیں کرسکتے اور اس مسیر میں تنہا حرکت جبری ہوگی یہ منطق بھی مردود و باطل ہے۔اس نظریہ کی روشنی میں قیام حضرت مہدی(عج) کی ماہیت انفجاری ہوگی جو فقط اور فقط ظلم و ستم کے پھیلنے سے ناشی ہوگی۔لہٰذا جب اصلاح صفر تک پہنچ جائے اورحق و حقیقت کا کوئی بھی طرفدار باقی نہ رہے اور باطل تک و تنہا میدان میں ہو تک یہ انفجار ہوگا اور غیبی ہاتھ حقیقت کو (اہل حقیقت کو نہیں چونکہ حقیقت کا تو کوئی بھی طرفداد نہیں ہوگا) نجات دینے کے لیے اپنی آستین چڑھائے۔(۲۶)
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ تاریخی تحولات ضابطہ مند ہیں اور انسانی ارادہ اس میں اپنا باقاعدہ کردار رکھتا ہے ہم نے پہلے حصے میں اس نظریہ کے بنیادی اصول بیان کیے۔اس نظریہ کی بھی دو طرح سے تصویر کشی ہوسکتی ہے اور شاید اسی تفاوت انتظار کے مسئلے میں ڈاکٹر علی شریعتی اور استاد مرتضیٰ مطہری کے نظریات میں بھی تفاوت معلوم ہوجائے۔ایک تصویرExistentalismکی ہے اس تصویر میں انسان کا ارادہ اہم کردار ادا کرتا ہےلیکن انسان سے بڑھ کر کسی ہدف کا قائل نہیں ہے اور اس کا عقیدہ ہے کہ خود انسان کو اپنے لیے ہدف خلق کرنا چاہیے۔(۲۷)
حقیقت میں ان کی نظر کے مطابق انسان سے ہٹ کر ہر ہدف اور حرکت کو تسلیم کرنے کا لازمہ خود گذشتگی وبیگانگی ہے۔ لہٰذا پہلے سے انسان کے لیے کسی ہدف کا قائل نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر کوئی اپنے لیے جو چاہے ہدف انتخاب کرے اور اس تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہولیکن اس نظریہ سے متعلق اعتراض اگر پہلے نظریہ سے زیادہ نہ ہوں تو کم بھی نہیں ہیں اور سب سے اہم اعتراض یہی ہے کہ بطور دقیق اس طرح تو ہدف کی آفریشن سے متعلق سخن ہی باطل و بیہودہ ہوگی۔کیا یہ معقول ہے کہ انسان یہ فرض کرلے کہ اس کے سامنے کوئی ہدف نہیں اور پھر اس فرضی ہدف تک پہنچنے کے لیے کوشش کرے یہ تو عین اسی طرح ہے جس طرح یہ بت پرست لوگ پہلے خود اپنے ہاتھوں سے بتوں کو بناتے ہیں پھر ان کی عبادت کرتے ہیں اور انسان کو اس سادہ لوح شخص کی یاد دلاتے ہیں جو بچوں کی آزار و اذیت سے بچنے کے لیے انھیں کہتا ہے کے اگلی گلی میں کچھ تقسیم ہورہا ہے جب سب بچے اس گلی کی طرف بھاگنے لگے تو یہ شخص بھی خود سے سوچنے لگا شاید واقعا ہی کچھ تقسیم ہو رہا ہے اور پھر خود بھی اسی گلی کی طرف بھاگنے لگا۔فرضی ہدف کا کوئی معنی نہیں بلکہ ہدف کو واقعی ہونا چاہیےلیکن انسان کے وجود کی گہرائیوں سے لیا گیا ہو یعنی اس طرح سے ہو کہ اس کی طرف حرکت انسانی کمال کی طرف حرکت کہلائے نہ کہ کسی بیگانہ مقصد کی طرف حرکت ہو،اس مطلب کو استاد شہید مرتضیٰ مطہری نے اپنی کتاب ’’تکامل اجتماعی وانسان‘‘بطور اختصار جبکہ اپنی دوسری کتاب’’سیری در نہج البلاغہ‘‘میں اس پر تفصیلاً اعتراضات بیان کیے ہیں۔بہرحال، اس معنی میں انتظار کا معنی ہمیشہ کی ہر وضعیت پر اعتراض ہے جس کا لازمہ انقلاب ہے یعنی اگر کسی خاص و معین ہدف کو تسلیم نہ کیا جائے تو اس وقت انسان کو ہر حالت پر اعتراض کرنا چاہیے اور کسی بھی ایسے ہدف کو جسے بعض نے قبول کیا ہو قبول نہ کرے کیونکہ انتظار ختم ہو چکا ہے اور ہمارے عقیدے کے مطابق ڈاکٹر علی شریعتی کانظر یہ مکتب اعتراض جسے انہوں نے اپنی کتاب ’’انتظار‘‘میں بیان کیا یہی ہے۔
اس نظریہ کی دوسری تصویر میں کہنا پڑے گا کہ : یہ صحیح ہے کہ انسان کا ارادہ تاریخی تحولات میں اہم کردار رکھتا ہے لیکن اصالت فطرت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اور انسان کہ اندر واقعی ہدف کی طرف جت سے یہ انتظار خاص مطلب پیدا کر لیتا ہے اور وہ یہ کہ اولاً تو حق و باطل میں تشخیص کرنا ممکن ہے اور ثانیاً منتظر کا اصلی وظیفہ حق کے قلعہ کو مضبوط کرنا اور ہمیشہ اس کوشش میں رہنا کہ حق و باطل کی حدود پہلے سے مزید مشخص تر اور واضح تر ہو جائیں اس کے نتیجہ بخش ہونے کے لیے عظیم عالمی جنگ ہوگی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انتظار فردی اور اجتماعی لحاظ سے نہ فقط یہ کہ سلبی حالت نہیں بلکہ ایجابی فعل ہےجس کا سایہ ہمارے تمام افعال پر ہے اسی وجہ سے افضل الاعمال شمار کیا گیا ہے۔ فردی اعتبار سے صرف وہی شخص حقیقتا و واقعاً حکومت عدل کا منتظر ہوسکتا ہے جس میں خود عدل سے مناسبت وسنخیت پائی جائےفقط وہی شخص بین الاقوامی عدالت کا انتظار کرسکتا ہے جو عدالت ہو پسند کرتا ہو سب سے پہلے درجہ میں خود اہل عدل سے ہو اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ (مصلح کے منتظریں کو خود صالح ہونا چاہیے) اور اجتماعی اعتبار سے بھی ہر وہ اصلاحی اقدام جو جو حق کی فتح و کامیابی کا باعث بنے وہ تمام منتظریں کا وظیفہ ہے۔پس جزئی اور تدریجی اصلاحات نہ فقط یہ کہ مذموم نہیں ہیں بلکہ اپنی جگہ پر تاریخ کی اہل حق کے نفع میں حرکت کو تیز تر کر دے گی اور اس کا برعکس برعکس نتیجہ دے گا۔یعنی فساد،تباھی،فسق وفجور مقابل طاقت کے لیے مدد گا ثابت ہوں گے اور اھل حق کی تاریخی حرکت میں ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔پس اس طرز تفکر میں وہ چیز جسے ہونا چاہیے وہ درخت کی شاخوں پر پھل کا پکنا ہے نہ کہ کسی بمب کا پھٹنا۔جس قدر بہتر درخت کو پانی دیا جائے گا اس کا خیال رکھا جائے گا اس کے بیماریوں کا جس قدر جلد علاج کیا جائے گا اس کا پھل اسی مقدار میں بہتر،سالم اور ممکن ہے جلدی ثمرہ بخش ہو جائے۔(۲۸)
اس طرح ہمارا وظیفہ گلوبلائزیشن سے متعلق واضح ہو گیا اسلامی نقطۂ نظر سے گلوبلائزیشن کا مطلب عالمی سطح پرعدال کی حکومت کا قائم ہونا ہے جس کا مطلب حق باطل کے درمیان حتمی فیصلہ کن جنگ ہے اس جنگ کے لیے حق کی قوہ کو مضبوط کرنا چاہیے جس طرح امام خمینی ؒ نے اپنے ایک تقریر میں کہا تھا:’’ہم اپنے اس انقلاب کو دنیا کی طرف صادر کریں گے‘‘لیکن اس نقطہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس مضبوطی میں نظامی و فوجی قوت سے زیادہ ثقافتی و معنوی قوت کی ضرورت ہے چونکہ اس ہویت کی بنیاد ہی معنویت پر استوار ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حق و عدالت کو جس قدر واضح و آشکار تر کرکے لوگوں کی استعداد اور فہم کو بھی حق کے مقابلے میں تقویت کرنا ہے اس کہ کہ لوگوں میں حکومت عدل کو تحل کرنے کی توان پیدا ہو جائے اس نقطہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ حضرت مہدی(عج)حضرت علی علیہ السلام س بالاتر نہیں یعنی حکومت عدل مہدی(عج) کی خاصیت اس حکومت کا عامل و فاعل(حضرت مہدی)میں نہیں بلکہ قابل کی طرف لوٹتی ہے یعنی حضرت مہدی(عج)کے زمانے میں لوگ بلوغ فکری کی اعلیٰ حدود تک پہنچ چکے ہوں گےتاکہ حق کو باطل سے تشخص دے سکیں تاکہ دشمنوں کے مقابلے تسلیم نہ ہوجائیں جن کو ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ حق کے چہرہ کو چھپا دیا جائے اور لوگوں کو اس سے منحرف کردیا جائےاور اس کی جگہ باطل کو حق سے ملاوٹ کر کے لوگوں کو پیش کیا جائے۔
اکثر اوقات لوگ حق و باطل میں فرق نہیں کرپاتے جس کی وجہ سےحق و باطل دونوں سے جنگ کرتے ہیں اور اس طرح سے اپنے عقیدے کے مطابق حق کی تلاش میں ہوتے ہیں جسے حضرت سید الاصیاء علیہ السلام نے اس طرح سے بیان فرمایا ہے’’فلو أن الباطل خَلَصَ مِن مزاج الحق لم یَخْفِ علی المرتادین و لو أنّ الحق خلص مِن لَبس الباطل، انقطعَتْ عنه السُن المُعاندین، ولکن یُوخَذ مِن هذا ضِغثٌ و مِن هذا ضغثٌ فَیُمزَجان، فهنالک یستولی الشیطان علی اولیائه، و ینجو الذین سبقت لهم من الله الحسنی‘‘(۲۹)اگر باطل حق کی آمیختگی سے جدا ہوجائے تو شک کرنے والوں پر بھی اس کا باطل ہونا مخفی نہیں رہے گا اور اگر حق باطل کا وہ لباس اتار آئے جو اسے پہنایا گیا ہے تو معاندلوگوں کی زبان اعتراض( جو اس پر کھولتے ہیں) سے آزاد ہوجائے گا لیکن اعتراض تو اس بات پر ہے کہ کچھ اس سے لیتے ہیں اور کچھ اس سے اور پھر دونوں کو مخلوط کر تے ہیں یہاں پر شیطان ان لوگوں پر مسلط ہوجاتا ہے جنہوں نے اس کی ولادت کو تسلیم کرلیا ہو اور وہ لوگ جنہیں خداوندمتعال کی جانب سے نیکی کی طرف سبقت لی ہو نجات پا جائیں گے لیکن حق و باطل کی ملاوٹ ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی یہی لوگ سطحی درک و شعور تک پہنچے ہوئے ہیں جو حق کے پلیٹ فارم کو باطل سے جدا کرسکتے ہیں اور اس طرح مہدی(عج) کی حکومت کامیاب ہوجائے گی یہ لوگ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تعبیر کے مطابق’’حملوا بصائرهم علی أسیافهم‘‘کے مصداق ہیں۔
اب وہ لوگ جو عدل سے متعلق معقول اور صحیح درک نہیں رکھتے ان کے نزدیک حکومت علی علیہ السلام ان کے لیے تنگ ہوگئی تھی اگرچہ وہ نہیں جانتے تھے ۔خود حضرت علی علیہ السلام کی فرمان کے مطابق:’’من ضاق علیه العدل فالجور علیه اُضیق‘‘(۳۰)
البتہ ہم نے یہاں گلوبلائزیشن کو اپنے اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق بیان کیا ہے جو اس کی اصطلاحی تعریف دنیا میں رائج ہے اس سے متفاوت ہے اور در حقیقت جو اصطلاح رائج ہے اس میں ہماری بحث یہ ہے کہ کس طرح تمام ممالک آپس میں روابط برقرار کریں جس میں قدر متیقن یہ ہے کہ ہم غربی طرز تفکر کے مطابق اس جہان کو تسلیم نہیں کرسکتے لیکن حضرت مہدی(عج) کے قیام سے پہلے اسلامی اصولوں کے مطابق دنیا کے تمام ممالک سے روابط برقرار کرسکتے ہیں اس مسئلہ کو مرحوم استاد شہید مطہریؒ نے اپنے مقالہ(روابط بین الملل اسلامی) میں اچھی طرح سے تشریح فرمائی ہے۔(۳۱)
انتظار سے متعلق جو کچھ بیان ہوا اسے مدنظر رکھتے ہوئے بہتر ہے دوبارہ اس معروف حدیث شریف پر نگاہ ڈالیں جو کہتی ہے کہ حضرت کا ظہور اس وقت ہوگا جب زمین ظلم و فساد سے بھر چکی ہو گی۔اور دیکھیں کہ یہ حدیث ہمارے بیان کردہ مطالب سے کس طرح قابل جمع ہے لہٰذا اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ:
اولاً ظلم سے بھرجانا ظہور کی علامات سے ہے ظہور کی علتوں میں سے نہیں ہے اور بعض لوگوں نے اس کی تشریح میں یوں کہا ہے کہ’’ظلم کو پھیلانے میں مدد کریں ‘‘اس طرح کی تشریح کرنے کا سبب یہ تھاکہ انھوں نے شیوع ظلم کو حضرت امام مہدی(عج)کے ظہورکی علت کے طور پر جانا ہےجبکہ ظہور کی علت یہ ہے کہ ظہور کے مقدمات (یعنی حق و باطل کے میدان کا مشخص ہوجانا اور پھر حق کی تقویت کرنا)مہیا ہوجائیں۔علامت شیئ اور علت شیئ میں کاملا فرق واضح ہوجانے کے لیے اس مثال کا سہارا لیتے ہیں:
فرض کریں کہ کسی ریلوے اسٹیشن پر ایک ایسا بورڈ نصب ہے جس پر ہر گاڑی کے اسٹیشن پر پہنچنے سے ایک منٹ پہلے اس کے پہنچنے کا اعلان کر دیا جاتا ہے اور پھر اس علان کے بعد وہ گاڑی پہنچ جاتی ہے یہاں پر یہ اعلان اس گاڑی کی پہنچنے کی علامت ہے علت نہیں اور اگر ہم گاڑی کے پہنچنے میں مدد کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں گاڑی کے انجن کی مدد کرنی چاہیے جو اس گاڑی کی حرکت کا محرک ہے نہ کہ اس بورڈ کے ٹائمنگ میں تبدیلی کرنا شروع کردیں۔ہم جس قدر بھی اس بورڈ میں تبدیلی کریں گے گاڑی کے آنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوگا۔
شیوع ظلم سے متعلق بحث بھی اسی طرح سے ہے اس قسم کی علاقات خود علت نہیں ہیں۔ظہور سے متعلق مختلف موارد ذکر ہوئے ہیں جیسے دجال کا آنا،ظہور کے لیے ضروری نہیں کہ ہم دجال نامی شخص کو تلاش کریں اور اسکی حمایت کریں کہ کچھ خاص قسم کے ایسے اقدامات کرے جو حضرت کے ظہور کا باعث بنے۔اسی طرح ضروری نہیں کہ حضرت کے ظہور کے لیے ظلم کو پھیلا جائے۔
ثانیاً جس طرح استاد شہید مطہری نے تذکر فرمایا کہ یہ جو حدیث میں علامات ظہور میں ظلم پر زور دیا گیا ہے یعنی ایک ظالم گروہ کا تذکرہ ہے کہ جس کا لازمہ مظلوم طبقہ کا ہے جن کی حمایت کے لیے حضرت مہدی(عج) ظہور فرمائیں گے۔
اسلامی نقطہ نگاہ سے مظلوم اور منظلم میں تفاوت ہے دونوں کا تعلق ایسے طبقے سے ہے جن کے حقوق زبردستی چھن گئے ہیں لیکن مظلوم وہ ہے جو خود ظالم کے زیر تسلط نہیں جانا چاہتا تھا لیکن اس میں ظالم کا مقابلہ کرنے کی توان نہیں تھی جبکہ منظلم وہ ہے جو ظالم کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے ایسے شخص کو اپنے حقوق کے دفاع کے لیے خود قیام کرنا چاہیے جب تک وہ خود قیام نہ کرے ایسے شخص کی مدد کرنا معقول نہیں ہے۔یعنی اسلام میں جس طرح ظلم کرنا مذموم ہے اس۔۔ طرح منظلم ہونا ٹھہرنا بھی مذموم ہے اسی لیے حضرت سید الاوصیا علیہ السلام کے لیے کہا جاتا ہے:’’لاتَظلمون و لا یُظلَمون‘‘(۳۲)نہ ظلم کرتے ہیں اور نہ ہی مظلوم واقع ہوتے ہیں۔اس بحث کی تفصیل کے لیے استاد شہید مطہریؒ کی کتاب’’سیرہ نبوی‘‘ کی طرف مراجعہ کریں۔(۳۳)بدیہی ہے کہ اگر حدیث میں کہا جائے کہ :’’زمین کو ایمان و اصطلاح اور توحید سے پر کر دیں گے اس کے بعد جب وہ کفر وشرک و فساد سے بھری ہوئی تھی‘‘
تو اس کا لازمہ یہ نہیں کہ ایک گروہ ایسا ہو جس کی حمایت کی جائے تبھی تو یہ استنباط و نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ حضرت مہدی(عج)کا قیام اسی حق کی حمایت و نجات میں ہوا ہے (نہ کہ اھل حق کی نجات میں قیام ہوا ہو) ولو اقلیت کی صورت میں ہوں۔(۳۴)
ثالثاً ہمارے خیال میں یہ وضاحتیں جو حق کے پلیٹ فارم کی تقویت میں دی گئیں(یہی کہ مہم ذمہ داری لوگوں کا عدل کی نسبت ادراک و شعور بیدار کرنا اور اسے حق و باطل کی پہچان میں عالی درجات تک پہنچانا ہے)کہا جا سکتا ہے کہ: شاید زمین کا ظلم سے بھر جانے سے مراد لوگوں کا ادراک و شعور کی نسبت ہو نہ کہ ظالمانہ خارجی افعال سے یعنی مراد یہ ہے کہ لوگ اس سٹیج و سطح پر پہنچ جائیں گے کہ وہ ایسامحسوس کریں گے کہ زمین ظلم سے بھر گئی ہے اور اب ظلم کو تحمل نہیں کیا جا سکتا اسی لیے عدل کا انتظار کریں گے۔یہ مسئلہ مزید واضح و روشن ہو جائے بشر کی تاریخ پر نظر ڈالی جاسکتی ہے مثلا فرعون کے زمانے کے لوگ بہت عظیم ظلم میں مبتلا تھے لیکن کہا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ اس ظلم کے خلاف جدی طور پر معترض نہیں تھے گویا کہ ان حالات پر راضی تھے مزید بہتر موازنہ کرنے کے لی اس طرح کہتے ہیں کہ اگر تمام دنیا میں ہونے والی مظالم کو۵۰ سال پہلےوالی دنیا سے مقایسہ کیا جائے تو شاید اس کی مقدار زیادہ نہ ہوئی ہو لیکن آج کے زمانے کے لوگوں کی ظلم کی نسبت حساسیت اس زمانے سے کہیں گنا زیادہ بڑھ چکی ہے۔وہ جنایات جو امریکہ نے ویتنام میں انجام دیے شاید وہ سلسلہ مراتب میں ان جنایات سے کہیں زیادہ ہوں جو امریکہ نے عراق میں انجام دیا ہو لیکن دنیا ان جنایات کے مقابلے میں جو اعتراض کر رہی ہے وہ اس ویتنام والی جنایات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
رابعا اس حدیث کے ساتھ دوسری احادیث بھی ہیں جن میں ظلم نہ ہونے کی تصریح ہے البتہ اتنا ضرور ہے کہ سعید اور شقی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے یعنی بحث یہ ہے کہ اشقیا اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے نہ یہ کہ ظلم اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا اسی طرح جس طرح اسلامی روایات میں گروہ زبدہ سے متعلق گفتگو و بحث ہے یعنی امام کے ظوسر کے ساتھ ہی ایک زبدہ افراد کا گروہ حضرت کے ملحق ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ ظلم کے شایع اور رائج ہونے کے باوجود ایسی شرایط موجود ہوں گی جن میں ایسے گروہ کی تربیت کی جاسکے یہی اس مطلب کی صراحت کررہا ہے کہ فقط حق و حقیقت کے صفر درجہ پر ہی نہیں پہنچے گا بلکہ اگر اہل حق کمیت کے اعتبار سے قابل توجہ نہ ہوں تو کیفیت کے اعتبار سے اہل ایمان میں لائق ترین افراد حضرت سید الشہداء کے اصحاب کی مانند ہوں گے۔اس کے علاوہ اسلامی روایات میں حضرت کے قیام اور ظہور کے مقدمات میں اہل حق کی جانب سے کچھ دوسرے قیام بھی رونما ہوں گے جو قطعی طور پر خود بھی بغیر شرائط کے قیام نہیں کریں گے یہاں تک کہ بعض روایات میں اس طرح سے بھی نقل ہوا ہے کہ حضرت مہدی(عج) کے قیام سے پہلے حق و عدالت پر مبنی ایک حکومت بھی ہو گی جو حضرت کے ظہور تک جاری رہے گی۔(۳۵)

تیسرا حصہ:انتظار کے نتائج
بشریت کو نجات دلانے والے منجی حضرت مہدی(عج) پر عقیدہ دو طرح کے آثار کی بررسی کی جاسکتی ہے:(پہلا:اس عقیدے سے متعلق عملی آثار یعنی اگر ہمرا حضرت مہدی کے ظہور پر اعتقاد ہے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے یہ وہی انتظار سے مربوط و متعلق بحث ہے جیسے ہم دوسرے مرحلے میں بیان کرچکے ہیں۔دوسرا گروہ ایسے آثار سے متعلق ہے جو فکری اور عقیدتی اعتبار سے اس عقیدہ پر مترتب ہوتے ہیں جو اس انتظارسوالات کو ایک دوسرا جواب دیے وہ یہ کہ منتظر رہنا ضروری ہے کیونکہ واقعی و حقیقی انتظار جس سے متعلق بحث پہلے گذر چکی ہے انسانی روح و جان پر ایسے آثار چھورٹی ہے جن میں سے ذیلاً بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ تمام اجتماعی کوششوں میں معقول خوف اور امید
۱۔۱۔معقول امید(یعنی بشر کے مستقل پر امیدوار ہونا)
بشر کے مستقبل اور آیندہ کے بارے میں مختلف نظریات ہیں بعض کہتے ہیں کہ شر،فساد اور بدبختی بشری زندگی کا لازمہ لاینفک ہے لہذا زندگی کی کوئی قیمت نہیں اور عاقلانہ ترین کام اپنی زندگی کو خود ختم لینے میں ہے۔بعض معتقد ہیں کئ بشر نے حیرت انگیز ترقی و پیشرفت کے ذریعہ حیرت انگیز ٹکنیک کے ذریعہ اپنے انباروں کو وحشتناک تخریبی وسائل سے پر کر لیا ہے اور عنقریب اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی ہوئی قبر میں گرجائے گا۔
جبکہ ہمارے عقیدے کے مطابق تمام فساد و تباہی و بربادی کی جڑ انسان میں روحی و معنوی نقائص کا ہونا ہے۔انسان ابھی تک اپنی جوانی اور خام خیالی کے مراحل سے گذر رہا ہے،غصہ،شہوت اس پر اور اس کی عقل پر حاکم ہیں۔انسان فطرتی طور پر فکری،اخلاقی،اور معنوی تکامل کے مراحل سے گذر رہا ہے۔نہ تو شروفساد اس کی طبیعت کا لازمہ لاینفک ہیں اور نہ ہی جبری تمدن اجتماعی خودکشی کا باعث بنے گا بلکہ حقو باطل کی یہ جنگ جاری رہے گی اور نہایتاً حکومت عدل حضرت مہدی(عج) تک جا پہنچے گی اور اس طرح نہیں کہ اصلاح کرنے والوں کی زحمات ہدر ہو جائیں۔(۳۶)
انسان جب عادتاً اس دنیا میں ظلم و فساد کا غلبہ دیکھتا ہے تو اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیااس عظیم طوفان کے مقابلے میں ہم کچھ کرسکتے ہیں جبکہ وعدہ الہی ہمیں کہتا ہے کہ تمہارے تمام کام نتیجہ دیں گے: ’’وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ‘‘(۳۷)
۱۔۲۔ معقول خوف(اپنی کوششوں پر جھوٹی امیدیں وابستہ نہ کرنا)
اس جہان کو نجات دینے والے منجی کا وعدہ و امید ہمیں کہتی ہے کہ اپنی کوششوں جاری نامحدود نہ کریں یعنی اپنے اوپر یہ توقع نہ رکھیں کہ آپ نے خود تنہائی طور پر اس دنیا کی اصلاح کرنا ہے۔آپ کے تمام اقدامات اصلاح کے لیے ضروری ہیں لیکن فقط یہی کافی نہیں بلکہ معاشرہ اپنے تکاملی سفر میں حضرت مہدی(عج) سے مستغنی و بے نیاز نہیں ہوگا۔

۲۔ مقدار و کمیت کی بجائے کیفیت و معیار پر توجہ
اجتماعی کوششوں میں جو قابل اہمیت ہے وہ ثقافتی اور معنوی ابعاد میں حق قوی و مضبوط کرنا ایک معیاری اقدام ہے یعنی ظہور کے لیے جو چیز مقدمہ ہے وہ یہ نہیں کہ مسلمانوں اور شیعوں کے شناختی کارڈ کی تعداد میں اضافہ ہو بلکہ جس کی زیادہ ضرورت و اہمیت ہے وہ کہ انسان حقیقت وعدالت خواہی کے لیے بیتاب ہوں اس طرح ممکن ہے حضرت کے اصحاب کی تعداد کم ہو جائے لیکن جس طرح سے عرض کیا یہ لوگ معیاری و کیفیتی اعتبار سے برتریں انسانوں میں سے ہوں گے ان میں ہر ایک مردہ روحوں میں انقلاب برپا کرنے کے لیے کافی ہوگا۔کسی برزگ نہ کیا خوب کہا ہے کہ حضرت مہدی(عج) کے اصحاب امام خمینیؒ یا پھر ان سے بھی بلندتر کردار کے مالک ہوں گے پس در حقیقت اچھوں کو بھی اپنے کمال تک پہنچنا ہے لہذا اس اہم پہلو پر تاکید کی جاتی ہے کہ کمیت سے کیفیت کی زیادہ اہمیت ہے۔

۳۔ معربی طرز تفکر میں عام پیراڈائمز:
یہ جدید دور مغربی ثقافت کے دنیا پر غلبے کا دور ہے ان حالات میں واقعی و حقیقی منتظر ایسا شخص ہے جو اس یلغار کے تسلط میں نہ آئے آج ہم اپنی گفتار،طرز تفکر،طرز عمل،۔۔۔۔کو اس طرح مرتب کرتے ہیں جو اس جدید دور اور اس کے جدید پیٹرن میں مقبولیت رکھتی ہو بطور مثال اسی گلوبلائزیش کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جبکہ ہم حضرت مہدی(عج) کے ظہور کا عقیدہ رکھتے ہیں جو اس جدید دنیا کے معادلات سے سازگاری و مطابقت نہیں رکھتا لہٰذا ان سب کو آسانی سے ختم کردیتا ہے اس جہت میں حضرت امام خمینی ؒ کی زندگی کو بطور نمونہ پیش کرسکتے ہیں۔

http://www.maarifahlebait.com/news-61.html  
وزٹرز کی تعداد:988
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...