خبر
9/7/2017
علی رضا دبیر نے اپنے 13 تمغوں کو آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ھدیہ کر دیا

 
علی رضا دبیر نے اپنے 13 تمغوں کو آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ھدیہ کر دیا

عشرہ ولایت کے اورامام ھادی(ع) کے میلاد بابرکت کی مناسبت سے ایران کے اولمپک چیمپئن علی رضا دبیر نے اپنے ۱۳ تمغے آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ھدیہ کر دیئے۔
آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ علیرضا دبیر جو کہ عالمی اور اولمپک چیمپئن ہونے کے ساتھ قومی اولمپک بورڈ کے نائب بھی ہیں حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں حاضر ہونے کے بعد اپنے ٍ۱۲ سونے اور ایک چاندی کے تمغے کو آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ھدیہ کر دیا۔ یہ مراسم جو کہ آستان قدس رضوی کے چند ایک عہدیداران اور اس ورزشکار کے خاندان کی موجودگی میں منعقد کئے گئے۔
دبیر نے کہا کہ میں ۲۰ سالوں سے حضرت ثامن الحجج کی نورانی بارگاہ کا اعزازی خادم ہوں ، ان کا کہنا تھا: ۱۳۷۷ ہجری شمسی میں پہلی بار حرم حضرت علی بن موسیٰ الرضا(ع) کی خادمی کا اعزاز حاصل ہوا اور میں بہت خوش ہوں کہ اپنی زندگی کے بہترین سال مولا کا خادم رہا۔
انہوں نے کہا: خداوند متعال کی عنایات اور امام رضا(ع) کا لطف و کرم تھا کہ میں ان تمغوں کو جیتے میں کامیاب ہوا اور خوش ہوں کہ ان تمغوں کو ان کے اصلی گھر میں واپس پلٹا رہا ہوں۔
دبیر کا مزید یہ کہنا تھا: اگر اھل بیت علیہم السلام کی نظرلطف نہ ہوتی میں ہرگز یہ  اعزاز حاصل نہ کر سکتا، اپنی تمام کامیابیوں میں حضرت رضا علیہ السلام کا مدیون ہوں ۔ اپنے ہر مقابلے سے پہلے میں یہ ارادہ کرتا تھا کہ اگر کوئی تمغہ جیتا تو اسے آستان قدس رضوی کو ھدیہ کروں گا اور آج اسی لئے اپنے تمام تمغوں کو پیش کر رہا ہوں ۔
انہوں نے گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ہر کھلاڑی کے لئے ایسے تمغوں کو دینا سخت ہوتا ہے اور جب میں ان تمغوں کو دیکھتا ہوں تو ساری وہ مشکلات جو ان کو حاصل کرنے کے لئے میں نے جھیلی ہیں میرے لئے تازہ ہوجاتی ہیں لیکن میں اس لئے مطمئن ہوں کہ ان کو ایک امن جگہ پر رکھ رہا ہوں جہاں پر بہت ہی اچھے انداز سے ان کی حفاظت کی جائے گی۔
آستان قدس رضوی کے منیجمنٹ اسسٹنٹ نے بھی ان مراسم میں شرکت کی اور کہا کہ آستان قدس رضوی ورزشکاروں اور کھلاڑیوں کی جانب سے ھدیہ کئے گئے میڈلز اور تمغوں کی حفاظت پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے ، ان کا کہنا تھا: یہ میراث جو ہمارے پاس آئی ہے بہت ہی ارزشمند ہے اور کوشش کریں گے کہ صحیح طرح سے ان کی حفاظت کر سکیں۔
علیرضا اسماعیل زادہ کا کہنا تھا: ورزشکار اور کھلاڑی جو محبت اور عشق مقام ولایت اور آئمہ معصومین علیہم سے رکھتے ہیں یا مقابلوں کے شروع ہونے سے پہلے ان سے توسل کرتے ہیں قابل ستائش ہے۔
ان کا مزید یہ کہنا تھا: تمام ان ورزشکاروں اور کھلاڑیوں کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے سالوں کی زحمت سے حاصل کئے ہوئے میڈلز اور تمغوں کو آستان قدس رضوی کے میوزیم کو ھدیہ کئے ہیں۔
آستان قدس رضوی کے منیجمنٹ اسسٹنٹ نے تذکر دیتے ہوئے کہا: ہمارے ملک کے ورزشکار اور کھلاڑی ایرانی پرچم کو جو کہ اللہ کے نام سے مزین ہے پوری دنیا میں لہراتے نظر آتے ہیں اور ہمارے ملک کو عزت وعروج دیتے ہیں، یہ کام واقعا قابل ستائش ہے اور آستان قدس رضوی بھی اپنی پوری کوشش کرے گا کہ ان تمغوں کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ رکھے۔
کہا گیا ہے کہ؛ علیرضا دبیر نے آزادی کشتی میں ۵۸،۶۳،۶۶ کلو گرام میں اپنے ملک کا سر فخر سے بلند کیا ہے ان کے پاس سڈنی میں ہونے والی ۲۰۰۰اولمپک گیموں میں سونے کا تمغہ ہے، ۱۹۹۸ میں عالمی چیمپئن کا مڈل، عالمی چیمپئن کے تین چاندی کے تمغے جو کہ ۱۹۹۹،۲۰۰۱،۲۰۰۲ میں جیتے  اور ایشیائی ۲۰۰۲ گیموں میں جو کہ بوسان میں ہوئیں  چاندی کے نقرہ جیتے ۔ 
   
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...