خبر
7/12/2017
عشرہ کرامت، رضوی ثقافت کی بنیاد پر اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے ایک عظیم فرصت ہے

آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے تاکید کی؛  
عشرہ کرامت، رضوی ثقافت کی بنیاد پر اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے ایک عظیم فرصت ہے

آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے عشرہ کرامت کو رضوی ثقافت کی بنیاد پر اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے معاشرے اور خصوصا جوانوں کے لیے ایک عظیم فرصت قرار دیا ۔
آستان نیوز کی رپورٹ کےمطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی نے آج قبل از ظہر عشرہ کرامت کمیٹی کے علماء کے دیدار میں جشن میلاد رضوی کے جشنوں میں رونق کے لیے ضروری کوششوں پر تاکید کرتے ہوئے کہا: عشرہ کرامت میں رونق کو دوبالا کرنے کے لیے تمام اجتماعی ثقافتی اور اداری ظرفیت کو خرچ کریں اور سالھای گذشتہ کی نسبت نوآوری اور خلاقیت اور الگ ہی طریقہ پر اس جشن کو منائیں۔
حوزہ علمیہ خراسان کی مجلس صدارت کے رکن نے حضرت امام علی رضا علیہ اسلام کی اس فرمائش کے مطابق کہ«إنّ النّاسَ لَو عَلِمُوا مَحاسِنَ کَلامِنا لَاتَّبَعُونا؛  اگر لوگ ہمارے کلام کی خوبصورتی سےواقف ہوں تو یقینا ہماری پیروی کریں گے ، کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت و فرمائش میں لوگوں کو جذب کرنے کی بہت استعداد ہے یہ اہل قلم و ہنر و علماء کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں حضرت کے کلام کی تشریح و وضاحت اور نشر کریں۔
انہوں نے قرآنی معاشرہ کی ایجاد حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے کلام کے مطابق ممکن الوقوع تسلیم کیا اور کہا: ہر سال عشرہ کرامت بغیر کسی آمادگی و خلاقیت  کے موثر و نتیجہ بخش نہیں ہوگا،  لہذا معاشرے کو آگاہ گیا جائے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی پیروی آئندہ کی نسلوں اور زمانوں تک میں منتقل کرنا انسان کی دنیا و آخرت  کی سعادت کا ذریعہ ہے۔
خبرگان رہبری کونسل کی مجلس صدارت کے رکن نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت کی پیروی اپنی زندگی کے  فردی و اجتماعی تمام پہلووں میں انسان معاصر کے اسلامی تمدن میں شامل ہونے کا سبب قراردیا اور کہا: حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات  اور سیرت انسان معاصر کی زندگی میں وارد ہو اور یہ حضرات  معصومین علیہم السلام کی فرمائش کی تبیین کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے اسلامی ثقاقت کو تہذیب و تمدن کی تعلیمات کے لیے مستغنی و مفید قراردیا اور کہا: آئمہ طاہرین علیہم السلام کے نوارانی کلام ہمارے ہاتھوں میں  عظیم ذخیرہ ہے جب کہ ہم اس عظیم سرمایہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے اور دوسروں کی جانب سے نجات کے راستوں کی  تلاش میں رہتے ہیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے رضوی سیرت کو علم وحکمت کا عظیم خزانہ قراردیا اور کہا: عشرہ کرامت کے جشنوں کی عظیم ذمہ داری معاشرے کی رضوی سیرت سے آشنائی کرانا ہے ۔ ہمارے اہل علم کو یہ بتایا جائے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام باب العلم ہیں، ہمارے بازاروں کو خبر دار کیا جائے کہ حضرت کی سیرت پر چلنے سے بازار میں رونق و ترقی نصیب ہوگی، آج ملکی پیداوار  و کاروبار حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ترقی کرسکتا ہے ۔
انہوں نے رضوی سیرت کو معاشرے میں رائج ہونے کے لیے عشرہ کرامت کو ایک عظیم فرصت قراردیا اور کہا:حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی تعلیمات ملک کے تمام شعبوں میں وارد ہوجائے ، عمومی افکار کو روشن کرنے کے لیے تقاریر و تحریریں اچھی چیز ہیں لیکن کافی نہیں ہیں۔ معاشرے میں رضوی سیرت کی ترویج کے لیے اقدام و عمل اور معصومین علیہم السلام کے کلام کی خوبصورتیاں پیش کی جائیں۔
حوزہ علمیہ خراسان  کی مجلس صدارت کے رکن نے عشرہ کرامت کواسلامی تعلیمات کے مطابق  اسلامی نشاط و خوشی کا جلوہ قراردیا اور کہا: عشرہ کرامت کے رضوی جشنوں میں یہ ثابت کیا جائے کہ حقیقی خوشحالی و نشاط صرف دینی تعلیمات کے مطابق معاشرے  اور خصوصا جوانوں کو نصیب ہوسکتی ہے۔
انہوں نے جوان و نوجوانوں کے موضوع کی اہمیت پر تاکید کی اور کہا: یقینا جوانوں و نوجوانوں کی صحیح خوشحالی و نشاط رضوی تعلیمات کے مطابق ممکن ہے، لیکن اس روشوں کو حاصل کرنے اور رضوی سیرت و ثقافت کو رائج کرنے  کے لیے اہل علم و ہنر کو میدان میں اترنا ہوگا ۔
حجۃ الاسلام والمسلمین رئیسی نے جوانوں میں نشاط و خوشحالی کے لیے رضوی ثقافت و دینی تعلیمات کو اپنے زندگی میں دستورالعمل قراردیا جائےکہا: عشرہ کرامت ؛رضوی سیرت و ثقافت کی ترویج کے لیے معاشرے میں خصوصا جوانوں کے لیے نشاط وخوشحالی بخشنے  کے لیے بہترین فرصت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ہمارے جوان خوشخالی ونشاط کو مغربی ثقافت کے تحت تصور نہ کریں، خوشحالی و نشاط کے لیے بہترین نسخہ دین اور اسلامی تعلیمات میں موجود ہے اور یہ تمام عہدے داروں کی ذمہ داری ہے کہ اس نسخہ کی معاشرے میں رویج کریں۔
آستان قدس رضوی کے محترم متولی نے تمام مقدس مقامات اور اسلامی مناسبتوں کو انسان سازی اور تربیت کے لیے بہترین استعداد اور درسگاہ قراردیا اور کہا: عشرہ کرامت رضوی ثقافت  وسیرت کے نشر واشاعت کے لیے اور ملکی مشکلات کی برطرفی اور ہمفکری و ہم اندیشی کےلیے اہم فرصت ہے، یہ ایک ایسا پرچم ہے کہ جس کے تلے ہم سب جمع ہوئے ہیں اور یہ پرچم دنیا کے لیے بے نظیر ہے لیکن تمام ذمہ داراہل علم و ہنر افراد کو چاہیے کہ الہی اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔
   
 
آپ کی رائے

نظر شما
نام
پست الكترونيک
وب سایت
نظر
...